Thu. Jul 25th, 2024
180 Views

ہٹیاں بالا (بیورو رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام ضلع جہلم ویلی کے زیر اہتمام یونین کونسل سینا دامن کے علاقہ باٹ بنی میں ایک روزہ سالانہ عظیم الشان خلافت راشدہ کانفرنس زیر سرپرستی بزرگ عالم دین مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی اور زیر صدارت مولانا فرید احمد منعقد ہوئی، کانفرنس کے مہمان خصوصی سابق ایم پی اے و جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنماء مفتی کفایت اللہ تھے، کانفرنس سے پاکستان کے معروف ثناء خواں سید اعجاز حسین کاظمی، مولانا گل احمد الاظہری، مولانا قاری یاسین، قاری محمد اسماعیل،حافظ عبدالشکور حسان، مولانا ساجد، قاری جمیل احمد،قاری اشفاق ربانی،حافظ کامران، ممبر یونین کونسل عبدالغفور صمد،مولانا نزیر نظامی کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا، نظام خلافت راشدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علما ء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما و سابق ایم پی اے مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل نظام خلافت راشدہ میں مضمر ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تین سو چوروں کی فہرست بنی تھی تب بھی اس فہرست میں کوئی عالم دین موجود نہیں تھا، جنرل پرویز مشرف کے دور میں آٹھ ہزار آٹھ سو چوروں کی فہرست بنی اس میں بھی کوئی عالم موجود نہیں تھا،پاکستان کے علمائے کرام خلافت راشدہ پر یقین رکھتے ہیں نظام خلافت راشدہ کو سمجھ کر ہی حکمرانی کی جا سکتی ہے، نظام خلافت راشدہ ہی تو اسلام کا نظام ہے، پاکستان کے حکمرانوں نے خلافت راشدہ کے نظام سے بغاوت کی تو پاکستان دولخت ہو گیا، پاکستان کی دھرتی پر بار بار تجربات ہوتے رہے کبھی واسکٹ، کبھی شلوار قمیض کبھی پتلون، کبھی وردی کو آزمایا جاتا رہا،ان تجربات نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا، معیشت تباہ ہو گئی، عوام علمائے کرام پر اعتماد کر کے دیکھیں ہم لوٹی ہوئی دولت وآپس لائیں گے، تمام سیاسی جماعتیں کرپٹ لوگوں کو پالتی بھی ہیں ان کو این آر او بھی دیتی ہیں، صرف دینی جماعتیں کرپشن سے پاک ہیں ہم پر یکے بعد دیگرے چور مسلط ہو جاتے ہیں جو ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں، سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ خود بے بس ہے کہ اصل حکمرانی تو کسی اور کی ہے وہ صرف ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں،مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ اب عجب کہانی شروع ہے، میرے حلقہ میں سب سے پہلے میری جیت کا اعلان ہوا، اس کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار کی جیت کا اعلان ہوا، پی ٹی آئی کے امیدوار میرے پاس آیا کہ آپ دستبردار ہو جائیں تو میں جیت جاؤں گا، ہم مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ نواز شریف کی جیت کا اعلان کر دیا گیا، کس طرح سسٹم کو ڈی ریل کیا گیا، جیتے ہوؤں کو ہرایا گیا ہارے ہوؤں کو جتوا دیا گیا، حکومتیں مرضی کی تشکیل دی گئیں، سابق حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ نظام خلافت راشدہ کے خلاف ہیں، پاکستان کے کروڑوں عوام کے بنیادی حقوق سلب کئے کئے ہیں،کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ بھی خلافت راشدہ کا قیام ہے، جو حکمران پاکستان کے آذاد صوبوں میں نظام خلافت راشدہ کے مطابق حکومت نہ کر سکے وہ کشمیر کس بنیاد پر آذاد کروائیں گے، کشمیر کو نظریاتی بنیاد پر حاصل کرنا ہے تو خلافت راشدہ کے نظام کا احیا ء کرنا ہو گا ورنہ کشمیر تو ایک خطہ ہے، زمین کا ایک ٹکڑا ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے پہلے آزاد خطے میں اسلامی نظام لانا ہو گا تب جہاد کے ذریعے کشمیر حاصل کیا جا سکتا ہے، انھوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم پاکستان کے کسی صوبے میں خلافت راشدہ کا نظام نہیں لا سکتے تو آزاد کشمیر کے خطہ میں یہ نظام نافذ کر دو، اس کی برکات و ثمرات بھی دیکھ لو گے، خلافت راشدہ کے نظام کی جدوجہد کرنا نماز روزہ کی طرح فرض ہے، خلافت راشدہ کے نظام کے غلبہ کی کوشش نہ کرنے سے مسلمان گناہ گار ہو تے ہیں اور خلافتِ راشدہ کے نظام کا انکار کرنا فسق ہی نہیں بلکہ کفر ہے، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیدوار اسمبلی مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی نے کہا کہ ہماری زندگیاں خلافت راشدہ کے نظام کے لئے وقف ہیں، ہم میں سے ہر فرد اس نظام کے غلبہ کی جدوجہد کرے، خلافت راشدہ کا نظام ہی دراصل اسلامی نظام ہے، خلفائے راشدین نے تیس سال کے عرصہ میں اسلام کا جھنڈا شرق تا غرب شمال تا جنوب لہرا دیا تھا،خلافت راشدہ کے نظام کو سمجھے بغیر جو لوگ بھی حکمرانی کرتے ہیں وہ ظلم کرتے ہیں، عوام کا استحصال ہوتا ہے، حقدار کو اس کا حق نہیں ملتا نظام خلافت راشدہ سے عدل و انصاف کے دروازے کھل جاتے ہیں، خدمت خلق سے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے غربا و مساکین کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے،لوگوں کے جان و مال، عزت وآبرو کی حفاظت صرف نظام خلافت راشدہ میں پوشیدہ ہے اس کے مقابل جو نظام بھی آئے گا وہ عدل کا نہیں بلکہ ظلم کا نظام ہو گا

By ajazmir