Tue. Jun 25th, 2024
169 Views

“خلیل اللّٰہ اورجذبہ قربانی”

تحریر:فر خندہ ظفر

حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے برگزیدہ نبی اور پیغمبر ہیں، جن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہا جاتا ہے، تقریباً چار ہزار سال قبل عراق میں پیدا ہوئے۔ تین بڑے مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ یہودی اور عیسائی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ مذہبِ اسلام میں ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چنانچہ قرآن کریم کی ’’سورۂ ابراہیم‘‘ ان ہی سے موسوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے احوال واوصاف بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انہیں ’’اُمت‘‘ اور ’’امام الناس‘‘ کے لقب سے پکارا ہے اور انہیں متعدد مرتبہ ’’حنیف‘‘ بھی کہا ہے۔ قرآن کریم میں انہیں ’’مسلم‘‘ بھی کہا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالی کا مفہوم: ’’جب وہ (ابراہیمؑ) اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرا دل لے کر آئے۔‘‘ کائنات پر غور وفکر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین ہوگیا تھا کہ ساری کائنات کو پیدا کرنے والا ایک معبودِ حقیقی ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، تو انہوں نے بت پرستی کی شدید مخالفت شروع کردی، حتی کہ بت خانے میں گھس کر تمام بت توڑ ڈالے ۔’اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں “’وہ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے: آگ میں جلا ڈالو اس شخص کو، اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم میں کچھ کرنے کا دم خم ہے۔ (چنانچہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا اور) ہم نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔‘‘ (سورۃ الانبیاء)بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔ عشق کی انتہا ایسی کہ لخت جگر کو خالق کائنات کی راہ میں قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔ جیسا کہ سورۃ الصافات میں فرمانِ الٰہی ہے:
’’ پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا: بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں، اب سوچ کربتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا :
’’ ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالیے۔ ان شاء اللہ! آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصافات :۱۰۲)
اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانی تاریخ کا وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس کا مشاہدہ نہ اس سے پہلے کبھی زمین وآسمان نے کیا، اور نہ اس کے بعد کریں گے۔ اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمین پر لٹادیا، چھری تیز کی، آنکھوں پر پٹی باندھی اور اُس وقت تک پوری طاقت سے چھری اپنے بیٹے کے گلے پر چلاتے رہے، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا نہ آگئی:
’’ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ (الصافات: ۱۰۵)
چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔ اس واقعہ کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت میں شمار ہوگیا۔قربانی میں بظاہر تویہ معلوم ہوتاہے کہ مسلمان ایک جانورذبح کررہاہے ،لیکن حقیقت قربانی کچھ اورہی ہے جوبندئہ مومن کی تربیت کے لیے اپنے اندر بڑے رموزواسرا رکھتی ہے،جو دل کو بدل دیتی ہےاور جب دل بدل جائے تو انسان بدل جاتا ہے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے، مقصدِ حیات بدل جاتا ہے۔

By ajazmir