Wed. Jun 26th, 2024
393 Views

“من کی دنیا”

 

تحریر۔فرخندہ ظفر:-

من کی دنیا غیر مرئی ہے جسے نہ آنکھ دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی انسانی عقل سمجھ سکتی ہے۔ دراصل انسان دو دنیاؤں میں رہتاہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، کام کرتے اور زندگی کی دوڑ میں مصروف رہتے ہیں اور دوسری وہ دنیاجوہمارے اندر آباد ہے جو من کی دنیاکہلاتی ہے ۔ یعنی ایک دل کی دنیا اور دوسری خاکی جسم کی دنیا۔ جس طرح ہم اپنی ظاہر بین نگاہوں سے تن کی دنیا اور وسیع و عریض کائنات اور حدِ نظر تک پھیلے آسمان کی نیلگوں چادر دیکھتے ہیں اسی طرح من کے اندر بھی ایک دنیا آباد ہے جو تن کی دنیا سے کہیں زیادہ وسیع، گہری، حسین اور اپنے آپ میں جذب کرلینے والی ہے۔
من کی دنیا ذکر الہٰی کے سوز و مستی سے پروان چڑھتی اور جذب و شوق میں ڈوب جاتی ہے جبکہ تن کی دنیا محض سود و سودا، نفع و نقصان، فریب، جھوٹ اور مکر اور فن ہے جس میں ایک سے ایک بڑا فن کار، مطلب پرست اور خود غرض موجود ہے۔ تن کی دنیا ڈھلتی چھاؤں ہے،آنی جانی ہے، کبھی آپ کو بلندی پربٹھاتی تو کبھی پستیوں میں خوار کرتی ہے اور پھر ایک دن قانون قدرت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتی ہے جبکہ من کی دنیا، اگر ایک بار پیداکرلی جائے، اس کا سراغ لگا لیا جائے تو پھر یہ کبھی نہیں مرتی اور طبعی موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔
یوں سمجھ لیں کہ من کی دنیا کی دولت ابدی شے ہے جبکہ تن کی دنیا کی دولت چھاؤں کی مانندہے جو وقت کے سورج کے ساتھ ساتھ اپنی سمت بدلتی رہتی ہے تن کی دنیا کی تسخیر علم سے ہوتی ہے جبکہ من کی دنیا کا جنریٹر عبادت و تقویٰ سے چلتا ہے ۔ من کی دنیا کی تسکین کا تعلق دنیاوی کامیابی یا دنیوی مادی اسباب سے قطعی نہیں ہے ۔دنیا کے امیر اور مشہور ترین لوگ بھی اکثر سکون کی تلاش میں قریہ قریہ مارےپھرتےہیں۔باوجود اسکے ترقی یافتہ دور کے انسان کے پاس مادی و جسمانی آسائشوں کےلئے ہر طرح کا سامان میسر ہےسب سے زیادہ قلت سکون واطمینان کی ہے۔ سکون واطمینان مل بھی کیسے سکتا ہے جب زندگی کا مقصد جائز و نا جائز طریقے سے صرف دولت و شہرت حاصل کرنا ہو۔ دولت سے سکون ملتا تو قَارُون کو مل جاتا مگر وہ تو اپنے خزانوں کے ساتھ ہی زندہ زمین میں دَفْن ہوگیا.انسان تقدیرپرراضی نہیں ہے اور چاہتا ہے کہ یہ بھی طے ہو جائے اور وہ خواہش بھی پوری ہو جائے ۔سب امیدوں کا پورا ہونا دشوار ہے اس لئے اس کا نتیجہ پریشانی کی صورت میں سامنے آتا ہے آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر دیکھیں آپ کہ ہر شخص مضطرب اور پریشان نظر آے گا.سکون حاصل کرنے کا سب سے بہترین راستہ ہے کہ شکر وصبر کو سمجھ کراس پر قائم رہا جائے۔ جو چیز حاصل ہو جائے اس پر شکر کیا جائے اور جو تدبیر کے باوجود حاصل نہ ہو اس پر صبر کیا جائے۔ جو قلب رب کائنات کی یاد سے روشن ہو جائے وہ کبھی بھی ویران نہیں ہو سکتا ۔بقول اقبال اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق
تن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن

By ajazmir