Tue. Sep 21st, 2021
685 Views

ضلع جہلم ویلی کی موجودہ سیاسی صورتحال
تحریر۔محمداسلم مرزا
آزادکشمیر میں 25جولائی عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔تمام سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم پورے زور وشور سے جاری ہے جیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے ۔آزاد کشمیر کے چار نئے حلقہ جات کے اضافے کے بعد ضلع جہلم ویلی میں اس کا کافی اثر پڑا ہےسابقہ حلقہ پانچ موجودہ چھ کی دو یونین کونسلوں کو کاٹ کر نئے بننے والے حلقہ سات میں شامل کیا گیا ہے جب حلقہ سات کھانڈا بیلہ سےریوند پاہل سے لیپہ ویلی تک پھیلا ہوا ہے اس طرح اب حلقہ چار ۔چھ اور سات تقریبآ 69000ووٹوں پر مشتمل ہیں
پہلے زکر کرتے ہیں حلقہ چھ کا ۔وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا آبائی حلقہ ہے اور بڑی اہمیت کا حامل ہے جہلم ویلی ون سے تقریبآ 12امیدوار مدمقابل ہیں گذشتہ انتخابات میں راجہ فاروق حیدر خان نے اس حلقہ سے تیس ہزار ووٹ لیے تھے۔ان کے مدمقابل اشفاق ظفر نے سولہ ہزار ووٹ لیے تھے لیکن اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے فاروق حیدر نے یونین کونسل چکہامہ اور گوجربانڈی سے تقریبآ آٹھ ہزار ووٹ لیے تھے اسی طرح اشفاق ظفر کے سولہ ہزار ووٹوں میں سات ہزار ووٹ انہی دو یونین کونسلوں میں سے آئے ہیں جو اب شفٹ ہوکر حلقہ سات میں چلی گئی گذشتہ انتخابات کے بنک ووٹ میں 40%کمی واقع ہوئی ہے اس مرتبہ فاروق حیدر نے جہلم ویلی کے دونوں حلقہ جات سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جہلم ویلی چھ اور سات میں الجھ چکے ہیں اس سے قبل ددنوں حلقہ جات میں دو تین دورے کرچکے ہیں بلخصوص انہوں نے حلقہ چھ کو فوکس کیا ہوا ہے چکار۔چناری۔چکوٹھی کھلانہ ۔سیناں دامن کے دورے کے دوران متعدد لوگ شامل ہوئے لیکن درجنوں بلکہ بیسیوں نے وزیراعظم کی کارکن کش پالیسوں سے تنگ آکر دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے وزیراعظم نے گذشتہ پانچ سالوں میں ضلع جہلم ویلی میں ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں دیا ۔تعلیمی ادارے پسند نا پسند کی بنیاد پر اپ گریڈ کیے ۔وزیراعظم سیکرٹریٹ کے دروازے عام آدمی کے لیے بند رہے اور وہاں پر تعینات پولیس فورس نے کارکنان جہلم ویلی کو خون کے آنسو رولایا۔وزیراعظم کو اس بار ٹف ٹائم مل رہا ہے ۔جماعت اسلامی کے ڈاکٹر مشتاق خان۔مسلم کانفرنس کے امیدوار ندیم طارق ناز جن کا تعلق چکار سے ہے اور جمعیت علمائےاسلام کے امیدوار پرنسپل ریٹائرڈ مولانا الطاف حسین صدیقی اس بار فاروق حیدر کی مشکلات کا سبب ہیں یہ سارا ووٹ ن لیگ کا کاٹ رہے ہیں فاروق حیدر کے قریبی رشتہ دار بھی انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں اگرچہ حلقہ چھ سے کچھ لوگ پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہورہے ہیں لیکن ان کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے ۔اگر بات کی جائے ڈاکٹر مشتاق کی تو ان پاس قابل زکر بنک ووٹ موجود ہے ان کے ورکرز کنونشن میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اس بار انہوں نے کہا ہے کہ فاروق حیدر کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا وزرات عظمی کے منصب پر پہنچانے والے ہم لوگ تھے لیکن فاروق حیدر نے روایتی سردمہری کا ثبوت دیا ۔اسی طرح امریکہ سے آئے ہوئے مسلم کانفرنس کے امیدوار ندیم طارق ناز کا تعلق تھکیال برادری سے ہے اور ان کا حلقہ چھ میں معقول بنک ووٹ ہے مولانا الطاف صدیقی نے خالصتآ سیاست کو اسلامی نقطہ نظر سے شروع کر رکھا ہے انہوں نے الیکشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگو سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج مرتب ہونگے ۔نظام مصطفیﷺکے نفاز ۔اور خلفائے راشدین کے طور طریقوں پر چل کر ریاست کو فلاحی اور اسلامی ریاست بنایا جا سکتا ہے اس منشور کے بعد مذہبی جماعتیں اور مذہبی ووٹ مولانا الطاف صدیقی کے پلڑے میں جاچکا ہے ڈاکٹرمشتاق ۔ندیم طارق ناز اور الطاف حسین صدیقی مجموعی طور پر دس سے بارہ ہزار ووٹ کا فرق ڈال سکتے ہیں جن سے فاروق حیدر چاروں طرف سے گر چکے ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف نے اس بار ایک نوجوان کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے سید زیشان حیدر آزاد کشمیر اسمبلی کا کم عمر نوجوان امیدوار اسمبلی ہے لیکن زیشان حیدر نے جس طرح دو اڑھائی سالوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا اس سے اسکی پروفائل بہت ہائی ہوچکی ہے اس وقت ان کے لیے جو پلس پوائنٹ ہے وہ یہ کہ تمام نوجواناں ۔پی ایچ ڈی ڈاکٹرز۔سکالرز اورپسہ ہواطبقہ ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے ۔زیشان حیدر نوجوان لیڈر ہیں اور جذباتی بھی ہیں انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے گئی اور گفتگو میں شائستگی کے زریعے ہی وہ منزل تک پہنچ سکتے ہیں ۔پی ٹی آئی حلقہ چھ سے سابق ٹکٹ ہولڈر اسحاق طاہر ایڈووکیٹ نے زیشان حیدر کی حمایت کا اعلان کر دیا جس سے زیشان حیدر کا گراف بلند ہوگیا ہے ۔پیپلزپارٹی کے امیدوار صاحبزادہ اشفاق ظفر کا یہ چوتھا الیکشن ہے اس سے قبل ان کے والد گرامی صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم اس حلقہ سے ناقابل شکست رہ چکے ہیں انہوں نے فاروق حیدر کو اسمبلی کی ہوا نہیں لگنے دی۔اشفاق ظفر درویش صفت انسان ہیں غرور تکبر نہیں کرتے مدمقابل وزیراعظم ہونے کےباوجود 2011میں اڑھائی سو کے معمولی فرق سے ہارے جب کہ 2016میں وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہونے کے باوجود انہوں نے سولہ ہزار ووت حاصل کیے
اب زکر کرتے ہیں ایل اے 33حلقہ سات کا جہاں اس وقت الیکشن مہم عروج پر ہے یہ نئا حلقہ بنا ہے جس کی ساڑھے پانچ یونین کونسلز ہیں ۔کھانڈا بیلہ سری کوٹ سے لیکر لیپا منڈاکلی تک اور ریوند پاہل تک اس کے 68780ووٹ ہیں ۔نئے حلقہ جات کا اعلان مارچ 2020 میں ہوا ۔ اس کےڈیڑھ سال سے ساڑھے پانچ یونین کونسل ہا حکومتی عدم توجہی کا شکار رہیں لیپہ کی دو یونین کونسلز۔لمنیان یونین کونسل۔اور آدھی لانگلہ یونین کونسل کو ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے یکسر نظر انداز کردیا ADPمیں رکھی جانے والی سکیموں کا کاٹ کر حلقہ چار میں شفٹ کردیا ۔جس سے یہاں کے ن لیگی احساس کمتری کا شکار ہوئے۔دو یونین کونسلوں میں وزیراعظم نے کوئی توجہ نہ دی یونین کونسل چکہامہ میں انتی پسماندگی ہے کہ یہاں کہ لوگ آج بھی پتھر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔حلقہ سات سے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار اسمبلی نے ان دو یونین کونسلوں کو فوکس کیا اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا شروع کردیا یہاں کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے لوگوں کو امید دلائی ان کے والد گرامی کو تعمیروترقی کا ہیرو کہا جاتا ہے جس پر یہاں کہ لوگ دیوان علی چغتائی کی طرف راغب ہوگئے ۔دیوان علی چغتائی نے جب یکم
فروری کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو گذشتہ الیکشن میں حاصل ہونے والے 18000ووٹوں میں سے 95%ووٹرز ان کی شخصحیت پر فدا ہوکر ان کے ساتھ شامل ہوئے ان اٹھارہ ہزار ووٹوں میں سے سات سے آٹھ ہزار ووٹ حلقہ چار میں رہ گیا پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری رشید حلقہ چارسے تحریک انصاف کے امیدوار ہیں اور دیوان علی چغتائی اور چوہدری رشیدکے مابین انتخابی اتحاد ہوچکا ہے حلقہ سات میں چوہدری رشید کے سات آٹھ ہزار ووٹ دیوان چغتائی کے پلڑے میں آگئے اور دو یونین کونسلوں میں دیوان چغتائی ستر فیصد ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں لیپہ ویلی کی دو یونین کونسلوں کا مجموعی ووٹ 19000ہزار ہے جب کہ یونین کونسل چکہامہ کی اکیلی یونین کونسل کا ووٹ انیس ہزار ہے اور اس میں دیوان علی چغتائی اکثریتی ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں اسی طرح یونین کونسل لمنیاں میں پاکستان تحریک انصاف واضع برتری حاصل کیے ہوئے ہے لیپا ویلی سے شوکت جاوید میر کو ٹکٹ ملنے کے بعد ویلی سے مقابلہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا نظر آرہا ہے شوکت جاوید میر حلقہ سات سے پانچ ہزار سے چھ ہزار ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں جب کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان جن کو حلقہ سات میں پیراشوٹرکہا جارہا ہے سات سے دس ہزار تک ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں حلقہ سات میں پاکستان تحریک انصاف اس وقت کی صورتحال کے مطابق پہلے نمبر پر مسلم لیگ ن دوسرے نمبر پر ہے پیپلزہارٹی لیپا ویلی کے علاوہ کمزور پوزیشن پر ہےتاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ فاروق حیدر کی پوزیشن میں بہتری آرہی ہے ان کے ایک امیدوار کےساتھ اندروان خانہ مذاکرات بھی چل رہے ہیں اگر وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو دیوان چغتائی کی لیڈ کو کم کریں گئے حلقہ سات کی سیٹ جیت نہیں سکتے۔الیکشن میں اپ سیٹ ہوتے رہتے ہیں اور جہلم ویلی میں بھی لازمی اپ سیٹ ہونگے لیکن فاروق حیدر کو ضلع اور تحصلیوں کے نام تبدیل کرنے۔ایڈھاک ملازمین کو بدوں امتحان پاس کرنے مستقل کرنے۔ضلع کے بنیادی انفراسٹرکچر پر توجہ نہ دینے۔ایک بھی میگا پراجیکٹ نہ دینے۔عزت نفس مجروع کرنے کی پاداش میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔چندصوابیدی عہدوں پر تعنیات اور مراعات یافتہ ٹھیکداروں کے علاوہ کوئی متحرک نظر نہیں آرہا ہے مسلم لیگ ن کے نظریاتی اورمخلص لوگ ووٹ کی حد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں

Avatar

By ajazmir