Tue. Sep 21st, 2021
230 Views

آزاد کشمیر میں انتخابی گھمسان کا اغاز                       فالٹ لائن     طاہر احمد فاروقی                                        آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو عام انتخابات کے سلسلے میں عوامی رابط مہم کے مراحل آگے بڑھتے ہوئے عوامی قوت کے اظہار کے لیے جلسوں کیطرف گامزن ہیں انتخابات میں اب صرف 20 دن رہے گیے ہیں اس مناسبت سے وقت کم اور مقابلہ سخت ہونے کے تناظر میں تینوں بڑی جماعتوں تحریک انصاف پیپلز پارٹی ن لیگ جلسوں کے شیڈول تشکیل دے رہی ہیں جنکے آغاز کے ساتھ ہی انتخابی مہم گھمسان کے ماحول میں بدلنے کو ہے مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابی مہم کے جلسوں سے شہباز شریف شاہد خاقان عباسی مریم نواز اپنے پارٹی رہنماؤں میں بہترین مقررین کے ساتھ خطاب کرینگے شہباز شریف حاضری ڈالنے کی حد تک محدود رہے گے جبکہ حلقہ حلقہ مریم نواز شریف ہی مہم چلائی گئی اسی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف قنمرالزمان کائرہ دیگر اپنی پارٹی کے بڑے ناموں اور شاندار مقررین جنکو عوام میں پسند کیا جاتا ہے تقریبا تمام حلقوں میں جلسوں میں شرکت کرکے اپنے امیدوران کے حق میں عوامی فضاء کو ہموار کرنے کے ہنر آزمائیں گے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم عمران خان شیخ رشید مراد سعید علی امین گنڈا پور دیگر رہنماؤں کی آمد بتائی جارہی ہے عمران خان ڈویثرن کی سطح پر عوام سے مخاطب ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ضلع تحصیل حلقہ کی سطح پر تحریک انصاف کی سیکنڈ لائن قیادت اپنے امیدوران کی کامیابی کے لیے سرگرم ہوگی ان تینوں جماعتوں کے لیڈران کی آمد اور میلے سجانے کے ماحول ایک دوسرے کے مابین اصل مقابلے کی فضاء بندھ جائیگی کسطرح بڑے درختوں کی موجودگی میں پودوں کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی اسی طرح ان تینوں کے میلے سجانے کے مقابلے میں باقی سب مجموعی فضاء میں اوجھل ہونگے ماسوائے انکے جن کو ان بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک حلقہ میں حمایت حاصل ہوگی اس طرح مقابلہ کے مراحل بیرسٹر سلطان محمود راجہ فاروق حیدر چوہدری لطیف اکبر کے مابین مقابلہ سے نکل کر عمران خان بلاول بھٹو نواز شریف کے نعروں اکے ساتھ انکی مرکزی ٹیموں کے مابین گھمسان بننے کو ہے اس سارے عمل میں اتار چڑھاؤ کی فضاؤں کے سماں بندی ہوگی اور بالآخر ہمارے ملک کی سیاست اور اسکے تمام پہلوؤں کے ساتھ عوام اپنی اپنی سطح پر مجموعی اب و ہوا کے مطابق اپنا موڈ مزاج بنائینگے جسمیں کوئی نئی اور سرپرائز والی اوپر نیچے ہونے کی توقع زیادہ نہیں ہے مجموعی نتائج  ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح آئینگے جسکا عوام ماضی میں ہربار اظہار کرتے رہے ہیں  دارلحکومت مظفرآباد میں تحریک انصاف کے خواجہ فاروق احمد ن لیگ کے افتخار گیلانی پیپلز پارٹی کے سردار مبارک حیدر ایک دوسرے کو مات دینے کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور انکی ٹیمیں بھی انکے مطابق اپنے اپنے ہنر صلاحیتوں کا استعمال کررہی ہیں دارلحکومت کی فضاء سارے آزاد کشمیر پر اثر انداز ہوتی ہے اسکا مؤثر اظہار چار سے چھ حلقوں کے علاؤہ جن میں شخصاتی طلسم کا دائرہ کھمنچا ہوا ہے باقی سب حلقوں میں تینوں جماعتوں کے امیدوران آگے پیچھے دوڑ میں بھاگ رہے ہیں اس دوڑ کے آخری 73 گھنٹے فیصلہ کرینگے کس کی منصوبہ بندی بہترین ثابت ہوتی ہے اور عوام اپنا موڈ مزاج اکثریتی ووٹ دینے کےحوالے سے بلا تیر شیر میں سے کس انتخابی نشان کا انتخاب کرتے ہیں تاحال انتخابی مہم میں تحریک انصاف پیپلز پارٹی کا جھنڈے زیادہ نظر آرہے ہیں اور ن لیگ ان کے درمیان آنے کیلئے منصوبوں میں مصروف ہے

Avatar

By ajazmir