Tue. Jul 27th, 2021
267 Views

تالابی سڑکیں
تحریر نور اسماء عباسی
مظفرآباد سرسبز پہاڑوں میں گھرا ہوا چھوٹا سا شہر دریا کا قدرتی منظر،اردگرد کے قصبے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں،آزادکشمیر کا دارالخلافہ میں صحت وصفائی کا فقدان،پاکستان کے گندے اور آلودہ شہروں سے متاثر اس کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ایک ہسپانوی کہاوت ہے کہ غریب اور صفائی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں صحت وصفائی کا ریاست کی غربت اور اس کی امیری سے زیادہ تعلق ہوتا ہے،اکثر مشاہدے میں آیا کہ نوجوان،لڑکے پڑھے لکھے بزرگ خواتین بچے چیزیں کھا کر اس کے رپیپر راستے میں پھینک دیتے ہیں اور کوڈے دان خالی نظر آتے ہیں،ناقص میٹریل کے استعمال سے بنی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی گلیاں،سڑک کم اور کھڈے زیادہ کناروں پر پڑا ہو کچرا اُڑتے پلاسٹک کے لفافے،ٹریفک سنگل کاکوئی انتظام نہیں،سگریٹ کے ٹوٹے،گندے ماسک،گلوز جگہ جگہ تھوکنے لوگ،تنگ راستے،مسافر،کھٹارہ،ٹرانسپورٹ کا نظام،خریدار عجیب افراتفری کی سی کیفیت قائم ہے،بدبوتعفن غلاظت اس میں کھڑی گائیں بھینس مزے سے کچرا کھارہی ہوتی ہیں،سڑکوں کے درمیان کھڑی ہو کر انتظامیہ کا منہ چڑ ارہی ہوتی ہیں۔
وہ ایک شخص جو معمار نظرآتا ہے
شہر کا شہری مسمار نظر آتا ہے
ذرا ساموسم رم جھم کی طرف مائل ہو تو یہی سڑکیں چہلہ بانڈی سے چھتر تک تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں،تالاب میں تیرنا ہوا کچرا کراچی،راولپنڈی،لاہور جیسے شہروں کی یاد دلاتا ہے۔کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے،آلودگی کا سب سے بڑا سبب کچرے کے ڈھیر گاڑیوں کا دھواں اور گندا پانی ہے۔14اگست2019کو حکومت پاکستان نے پلاسٹک سے بنے تھیلوں پر پابندی عائد کر دی تھی،اسلام آباد میں اس کے استعمال پر جرمانہ بھی ہوا تھا مگر یہاں کوئی قانون پر عمل پیرا نہیں ہوتا،دریائے نیلم کے کناروں پر کچرے کے ڈھیر،گیٹروں اور نالوں کا گندہ پانی دریا میں جاتا ہے جس سے آبی مخلوق تباہ ہورہی ہے،دریائے نیلم بھی راولپنڈی کے نالہ لئی بننے کی طرف رواں دواں ہے،دنیا کا گندہ ترین دریا انڈیا کا Jummnaہے،مظفرآباد انتظامیہ بھی مونسپلٹی،سیاسی پارٹیوں،تعمیروترقی کے اداروں کا ان لاوارث سے کوئی تعلق نہیں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے غفلت برتنے والے اداروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں،کرونا وباء میں اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا عالمی ادارہ ڈبلیو ایچ او اپنے تازہ تخمینے میں بتایا ہر سال تقریباً70لاکھ افراد گھر کے اندر وباہر کی آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے ہلاکت ہورہے ہیں،چین کے عظیم لیڈر مارزے تنگ نے اپنی قوم شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غربت ناانصافی،جہالت،لاقانونیت کو جڑے سے ختم کیا وہ زمین جو صرف افیون اگاتی تھی اس قوم نے محنت ومشقت سے غربت کے پہاڑ کاٹے اور آج دنیا میں ابھرتی ہوئی معیشت ہے،ہمارے حکمران جنے پیٹ کو لیسٹرول ٹینک بنے ہوئے ہیں پاک چین دوستی کے گن بہت گاتے ہیں مگر ان سے سکیھنے کیلئے تیار نہیں ریشم کے ملبوسات پہن کر انٹرنیشنل انٹرنیشنل کٹورے لے کر پھرتے ہیں ان کو تھورڑی سی غیریت مینجمنٹ اصولوں والی زندگی ایماندار ی،لیڈر شپ امداد میں لیکر آئیں تو شاید اس زنگ آلود نظام میں تھوڑی سی بہتری ممکن ہو۔
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ غیرت ہے نہ ذوق
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ دنیا ہے نہ دین
پلاسٹک سے بنے تھلے پانچ سو سال تک بھی زمین میں گلتے،سڑتے نہیں،روپے اور سوچ میں پسماندہ قومیں ترقی کے منازل طے نہیں کرتی،مظفرآباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو میں رکھنے کیلئے عوام کوئی آگاہی پروگرام نہی ہوتے لاک ڈاؤن میں لوگوں کے گھر رہنے سے بچوں کی شرع پیدائش میں واضح اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگوں کو لاک ڈاؤن میں اور کوئی کام نہیں تھا۔بچوں کو ڈائپرز ہر گلی کے کونے اور ٹکڑ پر پڑے رہتے ہیں حکومتی انتظامیہ ٹک ٹاک ”پواریاں“کرنے میں مصروف ہے،کچرے کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی واضح لائحہ عمل بھی طے نہیں کیا ہوا،بیان بازی،سستی سے کام نہیں ہوتا،صحیح سمتوں میں کام کرنے کے لیے جذبہ،خلوص نیت،ذات کی سچائی چاہیے ہوتی ہے۔
گندگی،غلاظت ہزاروں امراض کی جڑ ہوتی ہے،غذا کی پاکیزگی وصفائی،مکان کی صفائی،علاقے محلے کے ساتھ ماحولیاتی صفائی کو خیال رکھنا ضروری ہے ہم سب کی انفرادی کوشش سے واضح تبدیلی ممکن ہے۔
کہ کیا غضب کہ جودعوت سفردے کر
کڑکتی دھوپ میں آنکھیں چراگئے اشجار
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن بحیثیت مسلمان ہم لوگ اس حدیث کو عمل کرنے سے قاصر ہیں جب تک مسلمان قرآن سنت کو اپنی زندگی کا لازمی جزو نہیں بنائیں گئے تو ان کا اس دنیا اور آخرت میں کامیابی ان سے کوسوں دور ہوگی۔

Avatar

By ajazmir