Tue. Jul 27th, 2021
308 Views
پل کی خبر نہیں                  آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
تحریر۔فرخندہ اسحاق ظفر
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں   اس دنیا میں ہر چیز فانی ہے جو بھی تخلیق ہوا اسکو فنا ہونا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہر جان کو موت کاذائقہ چکھنا ہے۔ عید کا تیسرا دن تھا جب خالہ زاد بھائی صاحبزادہ نثار احمد کی موت کی خبر بجلی بن کر گری۔ کمگو نثار بھائی ہم سب کو افسردہ چھوڑکر خاموشی سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اگلے ہی دن ایک عزیزہ جس کی شادی کو ابھی سال بھی پورا نہیں ہوا تھااللہ کو پیاری ہو گئی۔ کتنے ارمانوں سے اس نے شادی کی خریداری کی تھی مگر اسے کیا پتا تھا جو چیزیں وہ اتنے شوق سے خرید رہی ہے انہیں استعمال میں لانے کی اسےمہلت ہی نہیں ملے گی۔  انسان موت کو حادثہ سمجھتا ہے حادثے میں لوگ ماریں جائیں تو کہا جاتا ہے کہ حادثے کی وجہ سے موت ہوگئی ،حالانکہ حادثہ موت کا سبب نہیں بنتابلکہ موت حادثے کا سبب بنتی ہے۔  راولپنڈی سے کھلانہ جانے والے ٹیوٹا ہائی ایس کے حادثے میں جاں بحق ہونیوالوں مسافروں کو کیا خبر تھی کہ وہ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ صاحبزادہ نثار احمد سمیت ٹیوٹا ہائی ایس کے حادثے میں انتقال کرجانے والوں کی مغفرت فرمائے ۔(آمین)                       کوئی آکھے دولت سب کج اے                 کوئی آکھے روپ  جوانی   اے               ایس گل دی رکھی  خبر  نئیں                  اے  دنیا،   زندگی   فانی   اے              موت ایک تلخ حقیقت ہے۔دنیا میں کوئی ایسی پناہگاہ نہیں جو انسان کی موت سے حفاظت کر سکے ۔”تم کہیں بھی رہو موت تو تمہیں آکر رہے گی خواہ مضبوط۔ سے مضبوط قلعوں میں ہی رہو۔(سورہ النساء ) جوانسان دنیا کی رنگنیوں میں کھوکر مال و متاع جمع کرنے لگ جاتا ہے اورساتھ ہی رشوت ،چوری ،سود خوری ،غیبت ،دورغ گوئی اور دیگر اخلاقی عیوب میں مبتلا ہوجاتا ہےدر اصل وہ اپنی موت و آخرت کو بلکل فراموش کربیٹھتا ہے۔جبکہ  بندہ مومن اپنا دل دنیا سے نہیں لگاتا۔ حلال زرائع سے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتا ہےاور ساری توجہ آخرت پر مرکوز رکھتاہے۔”زمانہ کی قسم انسان درحقیقت خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ۔اور ایک دوسرے کو حق کی نصحیت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ (سورہ الحصر) آجکل ہمارے معاشرے میں نفسا نفسی کا دوردورہ ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ہمارا مقصد صرف صرف دنیا ہی ہے ۔انا پرستی اور لالچ عروج پر ہے۔ رشتوں کا لحاظ ختم ہو گیا ہے۔ کیونکہ ہم آخرت کی سچائی بھول چکے ہیں۔ جبکہ دنیا فانی اور آخرت غیر فانی ہے۔کامل ایمان اورنیک اعمال سے ہم آخرت میں رب کے حضور سرخرو ہو سکتے ہیں۔
Avatar

By ajazmir