Tue. Jun 22nd, 2021
233 Views

لیلتہ القدر ،لیلة الجائزہ ،صدقہ فطر اورعید الفطر کے فضائل ،مسائل
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
تحریر ! سید محمد اسحاق نقوی
اللہ تعالیٰ کے محبوب ومکرم رسول ﷺ وجہ تخلیق کائنات اورباعث ایجاد عالم
ہیں آپ ہی کے طفیل انسان کو انسانیت اورآدمی کو آدمیت ملی آپ آئے تو ہمیں
ایمان ملا ،رمضان ملا اور قرآن ملا ،اور آ پ ﷺ ہی کے وسیلہ سے اللہ
تعالیٰ نے آپ کی امت کی بخشش ومغفرت کی خاطر فضیلت وبرکت والی راتیں
اورایام عطا فرمائے ،روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے اجتماع
میں بنی اسرائیل کی چار شخصیات کا ذکر فرمایا ،حضرت ایوب ؑ ،حضرت زکریا ؑ
،حضرت حزقیل ؑ ،اورحضرت یوشع ؑ ،کہ یہ (۰۸)اسی برس تک اللہ تعالیٰ کی
عبادت میں مشغول رہے اورایک ساعت بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی
نیز آپ ﷺ نے بنی اسرائیل ہی کے ایک اور شخص کی اطاعت گزاری کا تذکرہ
فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا اورخوشنودی کی خاطر ایک ہزار مہینے
تک جہاد کی خاطرہتھیار اپنے جسم سے الگ نہیں کئے یعنی ہتھیار بندرہا اس
پر صحابہ کرام ؓ کو تعجب ہوا اوررشک بھی آیا (بعض علماءکرام نے اس مجاہد
کا نام شمعون بتا یا ہے ) صحابہ کرام ؓ نے اپنے تیئں سوچا کہ ہماری عمریں
کم ہیں ہم اتنا مقام کیسے حاصل کرسکتے ہیں اس پر جبرائیل ؑ سورة القدر لے
کر نازل ہوئے جس پر رسول کریم ﷺ اورصحابہ کرام مسرور ہوئے سورة القدر کی
ان پانچ آیات مبارکہ کا ترجمہ ہدیہ قارئین ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ”بے
شک ہم نے (ایسے )یعنی قرآن مجید کو قدر والی رات اتار ا،(۱)اورآپ کو
معلوم ہے قدر والی رات کیا ہے (۲)یہ قدر والی رات ایک ہزار مہینوں سے
بہتر ہے (۳)اترتے ہیں اس میں فرشتے اور روح الامین (یعنی حضرت جبرائیل ؑ
)اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق ،(۴)سلامتی والی ہے جو کہ طلوع فجر
تک رہتی ہے (۵)۔مظاہر حق “میں لکھا ہے کہ اسی رات میں ملائکہ کی تخلیق
ہوئی اسی رات حضرت آدم ؑ کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا ،اسی رات جنت میں
انواع واقسام کے درخت پیدا کئے گئے اوردعاﺅں کا قبول ہونا تو بکثرت
روایات میں وارد ہے ۔”در منثور “کی ایک روایت ہے کہ اسی رات حضرت عیسیٰ ؑ
آسمان پراٹھائے گئے اوراسی رات بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی ،حضرت
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص لیلة
القدر میں ایمان کے ساتھ اورثواب کی نیت سے عبادت کےلئے کھڑاہوا اس کے
پچھلے تمام گناہ معاف کئے جاتے ہیں ،سنن بہیقی میں حضرت انس ؓ کے حوالے
سے رسالت مآب ﷺ کاارشاد مبارک منقول ہے کہ اسی رات حضرت جبرائیل ؑ فرشتوں
کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ اترتے ہیں اورجس شخص کو ذکر وعبادت میں مشغول
پاتے ہیں تو اس کےلئے رحمت کی عدا کرتے ہیں ،حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی
ہے کہ جب رمضان المبارک کی آمد ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
یہ مہینہ جو تم پر سایہ فگن ہورہاہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو ایک ہزار
مہینوں سے بہتر جو شخص اسکی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے
محروم رہا ااور نہیں محروم رکھا جاتا ان کی بھلائیوں سے مگر وہی جو بالکل
بے نصیب ہو(بحوالہ ابن ماجہ )حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم
ﷺ نے فرمایا رمضان المبارک کی طاق راتوں (۱۲ ویں ،۳۲ویں ،۵۲ویں ،۷۲ویں
۹۲ویں )میں لیلتہ القدر کو تلاش کرو (بحوالہ بخاری شریف )حضرت عائشہ ؓ سے
روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یارسو ل اللہ ﷺ اگر مجھے لیلة
القدر معلوم ہوجائے تو میں اس میں کیا کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا
پڑھو ،(اللھم انک عفو کریم تحب العفوفاعف عنی )اے اللہ تو عفوودرگزر کو
پسند فرماتا ہے اورمجھے معاف فرما ۔حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم
ﷺ جس قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں (اطاعت و عبادت کےلئے )کوشش
فرماتے تھے اتنی کسی دوسرے موقع پر نہیں فرماتے (مسلم شریف )جمہور صحابہ
کرام ؓ و تابعین کی رائے ہے کہ لیلة القدر رمضان المبارک کی ۷۲ ویں شب ہے
حضرت سفیان ثوری ؒ کہتے ہیںکہ اس رات میں دعا کے ساتھ مشغول ہونا زیادہ
بہتر ہے بہ نسبت دوسری عبادات کے ،ابن رجب ؒ کہتے ہیں کہ صرف دعا نہیں
بلکہ مختلف عبادات جمع کرنا افضل ہے ۔مثلاً نوافل ، تلاوت ،ذکرواذکار
،اورمراقبہ ،رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی اہمیت بھی اس لئے
ہے کہ معتکف اس عشرہ کی طاق راتوں میں شب بیداری کرے تاکہ قدر والی رات
کی سعادتوں کوحاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے ،
لیلة الجائزہ (انعام والی رات )
بہیقی شریف میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے
فرمایا میری امت کو ماہ صیام میں پانچ باتیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے
کسی نبی کی امت کو نہیں ملیں ۔(۱)جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے
تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر کرم فرماتا ہے تو جس کی طرف اللہ نظر
فرمائے تو اس کی نظررحمت کا یہ خاصا ہے کہ اُس شخص کو عذاب نہ دے گا
۔(۲)یہ کہ شام کے وقت روزہ دار کے منہ کی بو (جو بھوک و پیاس کی شدت
اورنقاہت سے پیدا ہوتی ہے )اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک وعنبر سے زیادہ اچھی
ہے (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ روزہ دار کےلئے ہر رات اورہر دن میں فرشتے اس
کےلئے استغفار کرتے ہیں (۴) چوتھی یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہیں
کہ اے جنت میرے بندوں کےلئے مزین ہوکرتیار ہوجا ،(۵)پانچویں یہ کہ جب
رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا
ہے کسی نے عرض کی کہ آخری رات سے مراد الیلة القدر ہے آپ ﷺ نے فرمایا
نہیں کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کام کرنے والے کو اجرت اسی وقت ملتی ہے جب
وہ کام سے فارغ ہوتا ہے یہ آخری رات ہے اسی لئے اسی لیلة الجائزہ (انعام
والی رات ) کہا جاتا ہے ،حضرت معاز بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ
نے وہ پانچ راتیں ذی الحجہ کی ۸ویں ،۹ویں ،اوردسویں رات ،شعبان المعظم کی
۵۱ویں رات ،اورعید الفطر کی رات ،نیز رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے جس نے
عیدین کی راتیں ،یعنی شب عید الفطر ،شب عید الاضحی میں طلب ثواب کےلئے
قیام کیا اس دن اس کادل نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مرجائیں گے (ابن
ماجہ )حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا
کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات یعنی شب عید الفطر آتی ہے تو لیلة
الجائزہ (انعام والی رات )کے نام سے پکارا جاتا ہے ،
صدقہ فطر ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے واجب ٹھہرایا
ہے صدقہ فطر کو غلام ،آزادمدر،عورت ،بچے ،بوڑھے ،ہر مسلمان پر ایک صاع
،جو یا کھجور اورحکم فرمایا کہ نماز عید سے نکلنے سے پہلے اس کو ادا
کردیاجانا چاہیے (بحوالہ بخاری ومسلم )حضرت ابن عباس ؓ نے رمضان المبارک
کے آخر میں لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے روزوں کا صدقہ ادا کیا کرو
کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس صدقہ کو ہر مسلمان پر مقرر فرمایا ہے خواہ وہ
آزاد ہویا غلام مرد ہو یا عورت ،چھوٹا ہو یا بڑا ،ہر ایک طرف سے ایک صاع
کھجور ،جو یا نصف صاع گہیوں (گندم )،بحوالہ ابوداﺅد ،نسائی )حضرت عبداللہ
بن ثعلبہ ،یا ثلبہ بن عبداللہ ابن ابوصغیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک صاع گہیوں (گندم )دوآدمیوں کی طرف سے کافی
ہے خواہ وہ بالغ ہوں یا نابالغ آزاد ہوں یا غلام ،عورت ہو یا مرد ،خدائے
تعالیٰ اسکی بدولت تمہارے مال کو پاک کردیتا ہے اورتمہیں غنی کرتا ہے
اورفقیر کو اس سے زیادہ دیتا ہے جتنا اس نے دیا (بحوالہ ابوداﺅد ) صاحب
نصاب شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت تمام افراد کی طرف سے صدقہ
فطراداکرے جو آدمی صاحب نصاب نہیں لیکن اس کے پاس اتنی گنجائش ہے کہ وہ
اپنی طرف سے اوراپنے عیال کیطرف سے صدقہ فطر دے تو اس کےلئے بڑا اجر ہے
کھجو ر ،جو ،گہیوں کے علاوہ دیگر اجناس مثلا ً باجرہ ،چاول وغیرہ سے بھی
صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے ۔مقدار کا خیال کرنا ہوگا ،یعنی کھجور اورجو
ایک صاع ،اوردیگر اجناس نصف صاع ، یا ان کی قیمت سکہ رائج الوقت ادا کیا
جاسکتا ہے ۔صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو ذکوة کے ہیں فی سبیل اللہ کی مد
میں دینی مدارس کی اعانت میں دینا صدقہ جاریہ بن جاتا ہے ۔اس کی ادائیگی
ماہ رمضان المبارک میں کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے ،نماز عید سے قبل ادا
کردینا ضروری ہے ۔
عید الفطر ،حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکتہ المکرمہ سے
ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف فرماہوئے تو آپ کو معلوم ہوکہ یہاں کے
لوگ سال لہو ولعب (کھیل کود ) اورخوشی مناتے ہیں اس پر آپ ﷺ نے اُن سے
پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیںتو انہوںنے عرض کیا کہ ان دنوں میں ہم لوگ
زمانہ جاہلیت میں کھیل تماشے اورخوشیاں منایا کرتے تھے تو حضور نبی کریم
ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰنے تمہارے لئے ان دنوں کو ان سے بہتر دنوں
میںتبدیل کردیاہے ان میں سے ایک عید الفطر اوردوسرا عیدالاضحی ہے (بحوالہ
ابوداﺅد ،مشکوة ) حضرت ابو الحویرث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے عمرو
بن حزم جبکہ وہ نجران میں تھے لکھا کہ بقر عید کی نماز جلد پڑھا کرو عید
الفطر کی نماز زرا دیر سے پڑھو اورلوگوں کو وعظ سناﺅ،حضرت جابر ؓ نے
فرمایا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو
اللہ تعالیٰ ذکر وعبادت میں مصروف اپنے بندوں پر ملائکہ کے درمیان فخر
کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے مرے فرشتو!میرے ان بندوں اورغلاموںنے میرا
فریضہ (جو میںنے ان پر لازم کیا تھا )وہ انہوںنے پورا کردیاہے اورآج
دعاکےلئے نکلے ہیں مجھے اپنی عزت ،اپنے جلال ،اپنے کرم ،اپنے علوالمرتب
اوراپنے بلند مقام کی قسم ،میں ان دعاﺅں کو ضرور قبول فرماﺅں گا پھر اللہ
تعالیٰ اپنے فضل کا اعلان فرماتے ہوئے اپنے ان بندوں سے مخاطب ہوتا ہے
میرے بندو ، واپس لوٹ جاﺅ میںنے تمہیں بخش دیا اورتمہاری برائیوں کو
خوبیوںمیںتبدیل کردیا ہے حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ پھریہ بندے اپنے
گھروں کو لوٹتے ہیں اوروہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں ۔عیدا لفطر کی نماز دورکعت
واجب ہے یہ نماز بغیر اذان اوراقامت کے ہیں اس میں قرات بلند آواز میںکی
جاتیہے یہ دورکعت عام نمازوں کیطرح ادا کئے جاتے ہیں۔یعنی پہلی رکعت میں
ثناءپڑھنے کے بعد تین بار رفع یدین کرتے ہوئے اللہ اکبرکہہ کر ہاتھ باندھ
دئےے جاتے ہیں اورقرآت کی جاتی ہے اوردوسری رکعت میں قرآت کے بعد رکوع
میں جانے سے پہلے تین بار رفع یدین کے ساتھ اللہ اکبر کہاجاتا ہے
اورچوتھی بار اللہ اکبر کہہ کر رکوع میںجاناہوتاہے۔نماز کے اختتام پر
دوخطبے پڑھے جاتے ہیں اورامام دعا کرتے ہیں ۔پھر اجتماع عیدین میںلوگ ایک
دوسرے کو عید مبارک کہتے ہیں مصافحہ کرتے ہیں ،رب کریم ہمیں قرآن وسنت کی
تعلیمات پر دائمی عمل کی توفیق عطافرمائے اورعید الفطر کے فیوض وبرکات
نصیب فرمائے ۔

Avatar

By ajazmir