Tue. Jun 22nd, 2021
286 Views

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی اہمیت ،فضائل اورانعامات
تحریر ! سید محمد اسحا ق نقوی
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں نبی کریم ﷺنے رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ کو آگ سے خلاصی کا عشرہ قراردیا ہے ،ماہ صیام کا آخری عشرہ بیسویں روز کے غروب آفتاب سے شروع ہوکر چاند رات تک رہتا ہے ،یہ عشرہ نو دن کا بھی ہوسکتا ہے یعنی ۹۲دن پورے ہونے پر بھی شوال کا چاند نظرآسکتا ہے بصورت دیگر رمضان المبارک کے ٣۰ دن مکمل ہوجاتے ہیں ،جہنم کی آگ سے نجات پانا کوئی موقع سے فائدہ اٹھانا پڑتا ہے ،ماہ صیام کا آخری عشرہ آگ سے خلاصی کا سبب ہے ان دس دنوں میں اوردس راتوں میں جو مسلمان مرد اورعورت قرآن وسنت کے احکامات کے مطابق نبی کریم ﷺ کی سیرت مطہرہ اوراسوہ حسنہ وتعلیمات مقدسہ کی تعمیل میں روزوں کے آداب وتقاضوں کو پورا کرتا ہے اکل حلال اورصدق مقال یعنی حلال کھانا اورسچ بولنا اس کا وطیرہ ہوتاہے ،گناہ کبیرہ تو رہے درکنار صغیرہ سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے ،حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ وہ حقوق العباد میںہمہ تن مصروف رہتا ہے ،فرائض وواجبات ،سنن کی ادائیگی کے علاوہ وہ نوافل بھی ادا کرتا ہے ،الغرض وہ من چاہی نہیں بلکہ رب چاہی زندگی بسر کرتا ہے ہے ،اس کے لئے رمضان المبارک کی آمد تو مژدہ جان فزا ہوتی ہے ،اس کا پہلا عشرہ بھی رحمت کی طلب پر گزرتا ہے دوسرے عشرے میںبھی وہ مغفرت وبخشش کی چاہت کےلئے بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز رہتا ہے ،اورجب رمضان المبارک کا تیسراعشرہ آتا ہے تو وہ پہلے دو عشروں سے بڑھ کر عبادت الٰہی میںکمربستہ ہوجاتا ہے ،اس کے لئے یہ آخری عشرہ نور علی نور ہوجاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضامیں منہمک ہوکر اللہ کا ہوجاتا ہے اورجو بندہ اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے تو حدیث مبارکہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ ا س کا ہوجاتا ہے ،(من کان اللہ کان اللہ لہ )،تو پھر جنت اس کی مشتاق ومنتظر رہتی ہے اورجہنم کوسوں دورہوجاتی ہے ،یہ مقام تو کلی طورپر فرمانبردار بندے کا ہے ،لیکن وہ شخص جس نے کلمہ طبیبہ تو پڑھ لیا ہے مسلمان ہے مسلمانوں کے گھر پیداہوا ہے لیکن بداعمالیوں سے اس کا دامن بڑھاہوا ہے شیطان نے اس پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے ،فسق وفجور اورمعصیت میں اس کی عمر ناپائیدار گزر رہی ہے ،اگر کسی طرح اس کاضمیر بیدارہوجاتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے اسے شرمندگی اورندامت لاحق ہوجاتی ہے اوروہ توبہ کی طرف مائل ہوجاتا ہے تو اس کے لئے رمضان المبارک کاآخری عشرہ بڑی غنیمت کاہے ۔اگر رمضان المبارک کاپہلا عشرہ اُس پر سے گزر گیا وہ توبہ کیطرف مائل نہ ہوا دوسراعشرہ مغفرت کا بھی گزر گیا وہ رجوع الی اللہ نہ ہوا اب یہ تیسرا عشرہ اس کے گھر کے دروازے پردستک دے رہا ہے وہ خواب غفلت سے بیدار ہوتاہے سچی اورخالص توبہ کرتا ہے ،روتا ہے گڑگڑاتا ہے ،سجدے میں سررکھ کر رب ذوالجلال سے معافی طلب کرتا ہے ،اورآئندہ کےلئے گناہوں سے توبہ کرتا ہے ،اپنے ماضی کے گناہوں پر نادم ہوتا ہے توپھر اُس کی قسمت جاگ اٹھتی ہے ،جس نبی برحق ﷺ کااُس نے کلمہ پڑھا ہے ان کا وسیلہ بنا کر اپنے رب کے حضوردست سوال دراز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آجاتی ہے ،رمضان المبارک کے اس آخری عشرے کی برکت سے ،نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے اُسے آگ سے خلاصی کی خوشخبری نصیب ہوتی ہے ،فرمان رسالت مآب ﷺ برحق ہے کہ ماہ صیام کاآخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے ۔اس عشرہ کی ایک رات میں جسے لیلتہ القدر کہتے ہیں ،قرآن کریم کا نزول ہوا ہے ،یہ رات ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے ،اسی عشرہ میں اعتکاف بھی اور اسی عشرہ کی آخری رات لیلة الجائزہ ہے ،رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ باقاعدگی سے اعتکاف فرمایاکرتے ،جس سا ل آپ ﷺ کا وصال ہوا آپ نے بیس دن کااعتکاف فرمایا ۔صحین (بخاری ومسلم )کی متفق علیہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہررمضان المبارک میں رات کے وقت جبرائیل ؑ قرآن کریم جس قدر نازل ہوچکا ہوتاکادور کرنے کےلئے آقادوجہان ﷺکے حجرہ مقدس میں تشریف لاتے جہاں باری باری ان دو ہستیوں کے درمیان قرآن کریم کادور ہوتا ،ایک قرآن کریم کی تلاوت فرماتا اوردوسرا سنتا ،یہاں تک کہ وصال مبارک سے پہلے جو رمضان المبارک آیا تو آپ نے اپنے سابقہ معمول کے برعکس دومرتبہ قرآن کریم کا دور حضرت جبرائیل ؑ سے کیا ۔حضرت امام شعرانی ؒ نے کشف الغمہ میں حضورنبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو مسلمان رمضان المبارک کے آخری عشرہ کااعتکاف کرتاہے اس کو ایک حج اوردوعمروں کاثواب ملتا ہے (البتہ صاحب استطاعت کا حج اس کے اعتکاف کرنے سے ساقط نہیں ہوتا )حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ معتکف کےلئے شرعی قاعدہ یہ ہے کہ وہ اعتکاف کے دوران کسی بیمار کی عیادت کو نہ جائے ،نماز جنازہ میں شمولیت کےلئے با ہر نہ نکلے ،سوائے قضاحاجت ،استنجاء،وضووغیرہ کے ۔حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ سے گزشتہ امتوں کے ایک اطاعت گزار بندہ مومن کا ذکر کیا وہ تمام رات عبادت میں گزارتا ہے اوردن کو جہاد میں مصروف رہتا ،اس بندہ مومن نے اس طرح ایک ہزار مہینے بسر کئے ،صحابہ کرام ؓ کو اس شخص پر تعجب بھی ہوا اوراس کی عبادت وریاضت پر رشک بھی آیا ،اس اثناءمیں حضرت جبرائیل ؑ سورة القدر لیکر تشریف لائے اورفرمایا اے اللہ کے محبوب رسول ﷺ آپ کے صحابہ کرام ؓ کو حیرت ہوئی تھی کہ ہماری عمریں مختصر ہیں ہم ایسی عبادت کیسے کرسکتے ہیں؟جیسی اُس شخص نے تھی ،تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ایک رات لیلة القدر عطافرمائی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے اور اس اس رات میں بندہ خدا آپ کا امتی غروب آفتاب سے صبح صادق تک عبادت میں مصروف رہے گا تو اُسے ایک ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب مل جائے گا۔روایت کثیرہ سے ثابت ہے کہ لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی طاق رات میںہوتی ہے جمہور علماءکرام کی رائے ہے کہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب لیلة القدر ہے ،حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا بھی یہی مسلک ہے اورآپ سے بھی یہی مروی ہے ۔حضرت ابی ابن کعب ؓ تو اس پر تاکید فرمایا کرتے تھے کہ یہ رات ستائیسویں ہے ۔نبی کریم ﷺ نے اس رات کو بالخصوص متعین اگر نہیں فرمایا تو اس میں آپ کی حکمت یہ ہے کہ میرے امتی اس رات کے حصو ل کےلئے اگر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ساری راتوں کو بیداررہ کرعبادت نہیں کرسکتے تو کم از کم طاق راتوں (۱۲،۳۲،۵۲،۷۲،۹۲)میں تو بیداری کرکے خیر کثیر حاصل کرلیں ۔بہرحال ماہ صیام کاآخری عشرہ جہاں نیکوکاروں کےلئے بخشش ومغفرت ،خیر کثیر اورآگ سے خلاصی کا ذریعہ ہے وہاں گناہگاروں کےلئے توبہ واستغفار کےلئے ایک بہترین موقع ہے ۔فرمان رسالت مآب ﷺ ہے کہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے والا اورآئندہ کےلئے گناہوں سے دور رہنے کا وعدہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ،اللہ تعالیٰ نے آٹھ جنتیں بنائی ہیں اورسات جہنم بنائے ہیں ،رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جو بندہ خدا سچی توبہ کرکے رجوع الی اللہ کرلیتا ہے اورآئندہ کےلئے فرمانبردار بندے کی طرح زندگی گزارنے کاعہد کرلیتا ہے ،وہ کامیاب وکامران بندوں کے گروہ میں شامل ہوجاتا ہے۔اورساتوں دوزخ کی آگ سے خلاصی پالیتا ہے ،رب ذوالجلا ل ہمیں ماہ صیام کے آخری عشرہ میں عبادت وریاضت کی توفیق عطافرماکر اس کی فیوض وبرکات نصیب فرمائے ۔(آمین )۔

Avatar

By ajazmir