Tue. Jun 22nd, 2021
246 Views

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت و بخشش
تحر یر! سید محمد اسحا ق نقوی
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ،دسویں دن کے غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے
اوربیسویں دن کے غروب آفتا ب تک رہتا ہے،ماہ صیام کے یہ درمیانے دس دن
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبو ل ﷺکے اطاعت گزار بندوں کیلئے بڑے انعام
و اکرام اور مغفرت وبخشش والے ایام ہیں،اگرچہ اللہ تبارک وتعالیٰ
غفورورحیم ہے بخشش ومغفرت طلب کرنے والے کی طرف رجو ع فرماتاہے،لیکن
رمضان المبارک کے ان درمیانے دس دنوں میں اس کی جانب سے مغفرت وبخشش عام
ہوتی ہے،حضرت سلمان فارسی ؓکی روایت کردہ حدیث مبارکہ کے حوالے سے رسالت
مآب ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس مبارک مہینے کا درمیانی حصہ مغفرت کا
ہے“اس فرمان عالی شان کی روشنی میں ہمارے لئے لاز م ہے کہ روزے کے تقاضے
اور آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے روزے رکھیں۔پنجگانہ نماز آداب و شرائط اور
خشوع حضوع سے ادا کریں،فرائض و واجبات و سنن کے علاوہ نوافل بھی ادا
کریں قرآن مجید کی تلاوت باقاعدگی سے کریں۔اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ حقوق
العباد کا ہر ممکن خیال رکھیں اور اپنے گناہوں،خطاؤں،کوتائیوں،خامیوں کو
یاد کرکے سچے دل سے توبہ کریں،اور ہمہ وقت کلمات استغفار پڑھتے رہیں،اور
رب ذوالجلال سے مغفرت وبخشش طلب کرتے رہیں،رمضان المبار ک نیکیوں کا موسم
بہار ہے اور درمیانی عشرہ تو خاص بخشش و مغفرت کی بشارت کا ہے اور معافی
کیلئے اذن عام ہے،قرآ ن مجید کے پارہ نمبر ۴۲ سورہ الزمر کی آیت نمبر
۳۵اور ۴۵ میں فرمان الہیٰ ہے،ترجمہ،اے محبوب رسول ﷺ میرے بندوں سے کہہ دو
کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہیں وہ رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوں
بے شک اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخشنے والا مہربان ہے اور سچے دل کے
ساتھ توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اسکے احکام تسلیم کرو
قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے،اور کوئی تمہاری مدد نہ کرسکے،،ان آیات
مقدسہ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا جو گناہ گار سچے دل کے
ساتھ توبہ کرتا ہے اور آئندہ گناہوں سے بچنے اور دور رہنے کا وعدہ کرتا
ہے اور رب کریم سے بخشش اور مغفرت طلب کرتا ہے اور بالخصوص رمضان المبارک
کے درمیانے دس دنوں میں رجوع الی اللہ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے
مغفرت و بخشش کا مستحق قرار پاتا ہے۔
حدیث قدسی،فرمان الہیٰ ہے میرا جو بند ہ ایک بالشت میر ے قریب آتا ہے میں
گز بھر اس سے قریب ہوجاتاہوں اور جو میری طرف گزبھر بڑھتا ہے میں دو گز
اس کے قریب ہوجاتاہوں اورجو میری طرف خراماں خراماں آتا ہے میں اسکی طرف
دوڑ کرآجاتاہوں۔(بخاری و مسلم)
رمضان المبارک کے درمیانے عشرے میں اس حدیث قدسی کی روشنی میں جو بند ہ
اپنے ماضی کے گناہوں پر نادم ہو کر رجوع الی اللہ کرتاہے تو اللہ تعالیٰ
کی طرف سے بخشش اور مغفرت اس کا استقبال کرتی ہے اس کا شمار بخشش پانے
والے خوش نصیبوں میں ہوجاتاہے۔کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ
موسم ؔاچھا،پانی وافر،مٹی بھی زرخیز
جس نے اپناکھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان؟
مستند و معتبر کتب احادیث میں حضرت کعب بن عجرہؓکی رویت کردہ حدیث مبارکہ
میں آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺنے ہمیں ارشاد فرمایا منبر کے
قریب ہو جاؤ،ہم لوگ فرمان رسالت مآب ﷺ کی تعمیل میں قریب ہوگئے جب حضور
سرور کائنات ﷺ نے منبر شریف کے پہلے درجہ (سیڑھی)پر قدم مبارک رکھا تو
فرمایا (آمین)جب دوسرے درجہ پر قدم رکھا فرمایا (آمین)پھر جب تیسرے درجہ
پر قدم مبارک رکھا تو پھر فرمایا آمین،جب آپ ﷺ خطبہ (وعظ)سے فارغ ہو کر
منبر شریف سے نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ پر ہمارے
ماں باپ فدا ہوجائیں آج آپ ﷺ نے منبر شریف کے تینوں درجوں پر قدم مبارک
رکھتے ہوئے آمین کے الفاظ و ارشاد فرمائے ہیں اس طرح پہلے نہیں ہوا،تو آپ
ﷺ نے ارشاد فرمایا اس وقت حضرت جبرائیل ؑمیرے پاس سامنے تشریف لائے تھے
جونہی میں نے منبر کے پہلے درجے پر قد م رکھا انہوں نے کہااے اللہ کے
رسول ﷺمیں دعا کرتاہوں آپ نے (آمین)فرمانا ہے ”ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا اور رب کریم سے اپنی بخشش نہ کرواسکا،میں نےکہا آمین،جب میں نے منبر کے دوسرے درجے پر قدم رکھا تو جبرائیل ؑ نے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ پردورد پہ بھیجے میں نے کہا آمین،اورجب میں نے تیسرے درجے پر قدم رکھا تو جبرائیل ؑنے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کوبڑھاپے میں پایا اوران کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کرسکا میں نے کہا آمین،اس حدیث مبارکہ کے حوالے سے معلو م ہواکہ حضرت جبرائیل ؑ نے تین بددعائیں دی ہیں اور تینوں پر رسول کریم ﷺنے آمین فرمایا،یہ تینوں بدعائیں بڑی شدید ہیں قابل غور بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ رحمتہ العالمین ہیں انہوں نے اپنے دشمنوں کے حق میں بھی بددعا نہیں کی،لیکن یہ بددعائیں حضرت جبرائیل ؑ نے دی ہیں جو تمام فرشتوں میں سے افضل ہیں،اور
ان پر آمین رسالت مآب ﷺ نے فرمائی ہے،ان کی قبولیت میں تو کوئی تردد نہیں ہوسکتا،یہ انتہائی ڈر،خوف اور پریشان کُن وعید ہے،یہ کڑا متحان ہے،بڑی
آزمائش ہے اور اس میں کامیاب و کامران ہونے کا انعام بھی انمول
ہے،کامیابی وکامرانی کے اسباب بھی واضح ہیں متذکرہ حدیث مبارکہ میں جن
تین بددعاؤں کا ذکر کیا گیا ہے عقل و شعور رکھنے والا مسلمان ان تینوں
بددعاؤں سے بچ سکتا ہے،اور اس کے رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ بڑی غنیمت
کاموقع ہے اگر اس کا دامن گناہوں سے لبریز ہے تو ان دنوں میں سچی اور
خالص توبہ کرلے،اگر کوئی رسالت مآب ﷺ کا ذکر مبارک سنتا رہا اور درود
پڑھنے سے غافل رہا وہ بھی سچی توبہ کرکے آئندہ اس پر عمل پیرا ہونے کا
وعدہ کرلے وہ بھی کامیاب ہوسکتا ہے،اور جس نے اپنے ضعیف العمر والدین کی
اطاعت و خدمت نہیں کی ان کی نافرمانی کرتا رہا وہ بھی سچی توبہ کرکے ان
کی خدمت گزاری کا عہد کرلے یا اگر اس کے والدین وفات پاچکے ہیں تو ان کی
قبو ر پر جا کر اُ ن سے معافی مانگے،ان کیلئے دعائے مغفرت کرے ان کے لئے
صدقہ وخیرات کرے امید کی جاسکتی ہے کہ اس عمل سے اسکی نجات ہو جائے،رب کریم اس مبارک عشرہ میں طلب مغفرت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین

Avatar

By ajazmir