Wed. May 12th, 2021
222 Views

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت،
تحریر! سید محمد اسحا ق نقوی
دین اسلام کے پانچ ارکان ہیں ان میں روزہ تیسرا رُکن ہے،اور یہ ہر عاقل بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید کے دوسرے پارے سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۵۸۱ میں ارشاد فرمایا ترجمہ ”ماہ رمضان برکت وفضلیت والا ہے جسمیں قرآن مجید کا نزول ہوا جو لو گوں کیلئے ہدایت،راہ حق کی روشن دلیل اور حق و باطل میں فرق بتانے والا ہے،پس جو مسلمان شخص اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ بیماری سے صحت یاب ہو کر اور سفر سے واپس گھر لوٹنے پر دوسرے دنوں میں سے اتنے ہی دن گن کر روزے رکھ لے،اللہ تعالیٰ تم پرآسانی کرناچاہتا ہے،دشواری نہیں چاہتا اور قضا کا حکم اس لئے ہے تاکہ ثواب میں کمی نہ ہو اور اس نیک طریقہ کی ہدایت الہی  پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اس کی عظمت بیان کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو،،بیماری اور سفر کے مسائل اپنے قریبی علماء کرام سے دریافت کئے جاسکتے ہیں)حضرت سلمان فارسی ؓسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے شعبان کے آخری دن میں ہمیں وعظ فرمایا ”اے لوگوتمہارے پاس برکت و عظمت والا اور رحمت والا مہینہ آرہا ہے،یہ وہ مہینہ ہے جسمیں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے،اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کئے ہیں،اس کی راتوں کو قیام کرنا (یعنی فرائض کے علاوہ،تراویح،اور نوافل ادا کرنا)باعث اجر وثواب ہے،جو اس میں نیکی کا کام،نفل عباد ت ادا کرے تو وہ ایسا ہے جیسے اور مہینہ میں فرض ادا کیا،اور جس نے ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جسیے اور دنوں میں ستر فرض اد اکیے،یہ صبر کا مہینہ ہے اورصبر کاثواب جنت ہے یہ غم خواری کامہینہ ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے،جو اسمیں روزہ دار کو افطار کروائے اس کی گناہوں کیلئے مغفرت ہے اور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کردی جائے گی۔اور اس میں افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسے کہ روزہ رکھنے والے کو ملے گا جبکہ روزہ رکھنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی،ہم نے عرض کیا،یارسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر شخص اتنی وسعت نہیں رکھتا جس سے افطار کروائے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کروائے،اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اس کو ا للہ تعالیٰ میر ے حوض سے سیراب کرے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا،یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا،یہ وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے،اور جو اپنے ملازم،غلام پر اس مہینہ میں تخفیف کردے اس سے کام لینے میں کمی کردے تو اللہ تعالیٰ اسے  بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا (اس حدیث مبارکہ کو امام بہیقی ؒنے اپنی کتاب میں نقل فرمایا ہے)۔اس ماہ مبارک کا پہلا عشرہ یعنی پہلے دس دنوں کا آغاز ہورہا ہے،جسے رسول رحمت ﷺ نے رحمت قرار دیا ہے،پہلے روزے سے لیکر دسویں روزے تک یہ سراپا رحمت والے ایام ہیں اسکی راتیں بھی رحمت بھری اور دن بھی رحمت خداوندی سے معمور وبھرپور،اللہ تعالیٰ اہل زمین پر ہمیشہ رحمت نازل فرماتا ہے لیکن رمضان المبارک کے ان ابتدائی دس ایام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے،وہ چشموں اور کنوؤں کی طرح نہیں ہوتی بلکہ دریاؤں اور سمندروں کی مانند ہوتی ہے،اب یہ لینے پر منحصر ہے وہ کس قدر لے سکتاہے،جتنا جس کابرتن ہوگا جتنی جسکی طلب ہو گی اسے ملے گی،رحمت خداوندی کی فیوض و برکات سے استفادہ کیلئے ضروری ہے کہ اپنے تن کی صفائی کے ساتھ اپنے من یعنی دل کو بھی صاف ستھرا اور پاکیزہ کیا جائے،انسان کا جسم اورلباس پانی سے پاک و صاف ہوجاتاہے اور انسان کا باطن استغفار اور توبہ سے پاکیزہ ہوتا ہے،اس لئے ہمیں ظاہری صفائی کے ساتھ اپنی اندرونی صفائی یعنی دل کو صاف و شفاف کرناہوگا،تاکہ اس رحمت بھرے عشر ے میں ہم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل کرسکیں۔رمضان المبارک کے ان دس دنوں میں فرائض و واجبات کے علاوہ نوافل اور بالخصوص تراویح کا بھی اہتمام کیاجائے،صبح وشام قرآن مجید کی تلاوت کی جائے،درود شریف کثرت سے پڑھا جائے،اوررحمت والے کلمات سے دعا کی جائے، (رَبّ ِاغفِر وَارحَم و انَت َ خیر راحمین،اللھم انی اسئلک من فضلک و رحمتک،یا اللہ یا رحمن یا رحیم)اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔

Avatar

By ajazmir