Wed. May 12th, 2021
197 Views

*بدلتے حالات اور بدلتے مزاج*

_تحریر_ : *محمد لقمان چوہان*

آزاد کشمیر میں الیکشن 2021 کی آمد آمد ہے سیاسی حلقوں میں سیاسی رنگ اتر اور چڑھ رہے ہیں کہیں طغیانی ہے تو کہیں طوفان برپا ہے اور کہیں تیز ہواؤں کا دباؤ ہے خاموشی کہیں بھی نہیں ہر جماعت اپنے اپنے طور پر رائے عامہ کی تشکیل کے لئے پروپیگنڈہ کا فارمولہ اپناۓ ہوئے ہے لیکن آزاد کشمیر کا یہ الیکشن ماضی کے انتخابات سے بلکل مختلف خیال کیا جا رہا ہے کچھ سیاسی تجزیہ کار اس الیکشن کے بارے میں ماضی کی روایات کے مطابق نتائج کا خیال کر رہے ہیں تو کچھ کے نزدیک یہ الیکشن پچھلی روایات سے ہٹ کر ہونے جا رہا ہے بہرحال یہ انتخابات کے ایک ماہ پہلے ہی پتا چلے گا کہ حالات کا اصل رخ کس طرف ہے آزاد کشمیر کے انتخابات کی طرح وزیراعظم آزاد کشمیر کے آبائی حلقہ انتخاب کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے یہاں کی سیاست ماضی کے سیاق و سباق سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے جا رہی ہے آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی اور راجہ فاروق حیدر خان کے آبائی حلقہ انتخاب میں صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم کے بعد فاروق حیدر خان اس حلقے کی سیٹ پر براجمان ہوئے اور ابھی تک ناقابل شکست ہیں اگرچہ انکے سیاسی حریف اور فرزند صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم ،صاحبزادہ اشفاق ظفر انکے ساتھ کانٹے کے مقابلے میں رہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے بلکل اسی طرح اسحاق ظفر مرحوم جب تک حیات رہے تو فاروق حیدر خان کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوتا رہا موجودہ انتخابات میں چونکہ وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اس لیے ماضی کی روایات کے مطابق تحریک انصاف یہاں حکومت بنانے کے لیے پر تول رہی ہے اور اس کا براہ راست اثر دوسری دو بڑی جماعتوں پر پڑ رہا ہے جہلم ویلی حلقہ پانچ (سابقہ)اور حلقہ چھے (موجودہ)میں صاحبزادہ اشفاق ظفر جو کہ فاروق حیدر جیسے سیاسی لیڈر کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں انکے بارے میں بہت عرصے سے یہ افواہ گردش کر رہی تھی کہ وہ بھی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے جا رہے ہیں جسکی وہ وقتاً فوقتاً تردید بھی کرتے رہے درمیانی عرصے میں انکی طبیعت کی ناسازی کےسبب وہ منظر عام سے غائب رہے اور پھر صحتیاب ہوتے ہی پر ہجوم پریس کانفرنس کی اور آزاد کشمیر کی مرکزی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر جماعت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان سب سازشوں کا اعتراف بھی کیا جسکی نشاندھی سکندر حیات کر چکے تھے اور پھر کارکنان بھی وقتاً فوقتاً کرتے رہے لیکن اشفاق ظفر نے اس وقت ان تمام باتوں پر کوئ رد عمل نہ دیا اب جب تقریباً انہیں احساس ہوا کہ میرے ساتھ اور میرے حلقے کی عوام کے ساتھ ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا تو دل کی باتیں انکی زبان پر آہی گئیں جنکا حلقہ کے کارکنان کو شدت سے انتظار تھا اور اشفاق ظفر نے کھل کر اپنی پریس کانفرنس میں ماضی کی تمام اور حال کے حالات پر بات کی جس سے عوامی حلقوں میں اطمینان پیدا ہوا کہ شاید اب اشفاق ظفر سب جان چکے شائد جانتے پہلے سے ہوں لیکن چپ کا روزہ آج توڑا ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس قیادت پر یہ سازشوں کے الزامات لگے ہیں ان میں چوہدری لطیف اکبر سر فہرست ہیں جو کہ صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم کے دور میں یار خاص ہوا کرتے تھے اور اسحاق ظفر مرحوم نے انکو خوب پروموٹ کرنے میں کوئ کثر باقی نہیں چھوڑی تھی یوں کہیے کہ یہ جو آج کی مرکزی قیادت ہے یہ کل تک اسحاق ظفر مرحوم کے سیاسی شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور آخر کیا وجہ ہے کہ انکے بعد یہ لوگ انکے جانشین کو اگنور کر کے مخالف سے گٹھ جوڑ کرتے رہے اور بقول اشفاق ظفر کے اس بار بھی وہی سازش ہونے جا رہی ہے جو نہیں ہونے دوں گا یہاں سیاست سے ہٹ کر ایک عام آدمی کی طرح بھی سوچا جائے تو انسان کے اندر لہو کی گردش تیز ہو جاتی ہے کہ کیا ایسا بھی ممکن ہو سکتا ہے ؟؟؟آخر ایسا گٹھ جوڑ اپنے محسن کے جانشینوں کے خلاف کرتے ہوئے ضمیر نے ملامت نہیں کی ہوگی؟ خیر لالچ بڑی بری بلا ہے یہ انسان کو مکافات بھلا دیتی ہے میرے استاد شیخ عاطف صاحب اکثر اپنے ویڈیو لیکچرز میں کہتے رہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے حالات کیسے بھی نہ ہو جائیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھلانا اور قدرت کا قانون بتاتے ہیں کہ قدرت کا ایک قانون ہے اس کے نزدیک کامیابی کا شارٹ کٹ نہیں درجے ہیں وقت لگتا ہے اور قدرت جب آپ کو کوئ مقام دینا چاہے تو آپ کو جس فیلڈ میں آپ ہیں وہاں ایک رہنما فراہم کرتی ہے اسکا ہاتھ پکڑ کر آپ کو درجے بدرجے اپنی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے اور جب آپ اس منزل پر پہنچیں تو وہ جس کا ہاتھ پکڑ کر آپ وہاں پہنچے ہیں اسے بھی قدرت وہاں تنہا نہیں کردیتی بلکہ قدرت کا اصول ہے کہ جب تک اپنے محسن کو یاد رکھے گا آگے بڑھتا جاۓ گا اور اگر وہاں پہنچ کر انسان اپنے محسن کے پاؤں کاٹنے کی کوشش کرے گا تو قدرت وہاں پھر ایکشن لیتی ہے اور بس پھر قدرت کے اصول میں معافی نہیں ہوتی پھر آپ کا زوال زوال مسلسل کی صورت اختیار کر کے آپ کو وہی پہنچا دیتا ہے جہاں سے چلے تھے اور پھر احساس ہوتا ہے اور شروعات ہوتی ہے کاش،اگر،مگر،،،،،،،،لیکن وقت بڑا بے رحم ہے دوبارہ ہاتھ نہیں آتا

Avatar

By ajazmir