Wed. May 12th, 2021
151 Views

 

بدعنوانی معاشرتی ناسور
تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
کرپشن کے لفظی معنی بدعنوانی ہے جسکا مطلب عنوان میں تبدیلی کرنا ہے ۔کرپشن سے مراد سماجی ،معاشی و معاشرتی انحرافات ،فسادنجاست ،بگاڑ ،خباثت ،خرابی ،منافی ۔گٹھ جوڑنا، مل جانا ،غبن کرنا ،لوٹنا ،نچوڑنا ،موکل بازی اور شر پسندی ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سیاستدانوں کی کرپشن کا غلغلہ مچایا جاتا ہے۔ ہر نئی آنے والی حکومت الزام لگاتی ہے کہ گزشتہ حکومت میں بہت زیادہ کرپشن ہوئی ہے ۔جبکہ پچھلی حکومت کے نمائندوں کو نئی حکومت میں شامل بھی کر لیا جاتا ہے۔ یہ ہی نمائندے پارٹی تبدیل کرکے تمام الزامات سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔مہذب معاشروں میں چور کی کوئی عزت نہیں ہوتی مگر ہمارے ہاں جو جتنا بڑاچور ہے وہ اتنا ہی باعزت ہے۔  جو چوری نہیں  کرتا وہ غریب رہتا ہے۔ ویسے بھی غریب کی عزت کون کرتا ہے؟چاہے وہ کتنا ہی دیانتدار کیوں نہ ہو۔ کچھ اساتذہ گھر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں مجال ہے کوئی انھیں برا کہے۔ ججوں کو بے شمار مراعات دی جاتیں ہیں تاکہ وہ بلاتخصیص اور فوری انصاف فراہم کر سکیں ۔لیکن انصاف کے طلبگار عدالت کے فیصلوں کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ جبکہ عام آدمی بااثر افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاجر ملاوٹ کر کے ،کم تول کر اور مہنگی چیز بیچ کر خوش ہوتا ہے۔ خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینے میں قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر منافع کی خاطر ایسی ایسی ادویات لکھ دیتے ہیں جن کی مریض کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ٹھیکیدار ناقص میٹریل استعمال کر کے کروڑوں غبن کر جاتے ہیں۔ صحافی سچ چھپا کر اور کبھی جھوٹ کا پرچار کر کے مالدار ہو جاتے ہیں۔سیاستدان، جنرل ،بیوروکریٹ ،کلرک ،صحافی غرض جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیتا ہے۔ لیکن جب کرپشن یا بدعنوانی کی بات ہوتی ہے توہم سب سے زیادہ سیاستدانوں کو کوستے ہیں۔موجودہ حکومت جو تبدیلی اور کرپشن کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر منتخب ہوئی ہے ابھی تک کرپشن اور بدعنوانی کو کم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔بدعنوانی وہ بیماری  ہے جسکا شکار معاشرے کا ہر دوسرا شخص ہے۔کوئی بھی ایسا شعبہ یا ادارہ نہیں جو کرپشن سے پاک ہو۔  اس معاشرتی ناسور کی وجہ سے ہم ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکے نا ممکن نظر آرہا ہے۔                                     خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا   ہم نہایت ہی خوبصورت مذہب  کے پیروکار ہیں۔اسلام کسبِ حلال کی تعلیم دیتا اور حرام مال خواہ کسی بھی ذریعے سے کمایا جائے ،اسے ناجائز اور جہنم کا ایندھن قرار دیتا ہے،جس سے اجتناب ایمان اور بندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ایک سچا مسلمان دنیاوی زندگی پہ اخروی زندگی کو ترجیح دیتا ہےاس کے دل میں دنیاوی مال و دولت کی کوئی لالچ نہیں ہوتی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر  چلنے کی توفیق دے تاکہ ہم کسی بھی قسم کی حق تلفی اور بدعنوانی کے مرتکب نہ ہو۔
Avatar

By ajazmir