Wed. May 12th, 2021
379 Views

تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
تم ہمیں مار سکتے ہو ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے۔ یہ مزدروں کے ایک رہنما کے کہے ہوئے وہ تاریخی الفاظ ہیں جن کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔اپنے جائز مطالبات منوانے کے لئے یکم مئی1886ء کوامریکہ کے شہر شکاگو کے مزدوروں نے سفید جھنڈے اٹھا کر مظاہرہ کیا ۔ اس پرامن جلوس پر گولیاں چلا کر بہت سے مزدوروں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ جبکہ اس جرم کی پاداش میں سینکڑوں مزدوروں کے رہنمائوں کو گرفتار کر کے ان پر چھوٹے مقدمے بنا کر انہںیں پھانسیوں کی سزائیں سنائی گئیں۔ غرض مزدوروں کی تحریک کو دبانے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر یہ تحریک تاریخ میں امر ہو گئی۔تب سے یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد محنت کش طبقے کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرنا ہے ۔محنت کش طبقہ موسمی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اوقات کار اور اجرت سے بڑھ کر مشقت کرتا ہےمگر عالمی سطح پر نصف سے زائد محنت کشوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں۔ نہ تو ان کی کم سے کم اجرت مقرر ہے نہ ہی شکایات کی صورت میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ سماج میں ان کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود محنت کش طبقہ آرام سے نہیں بیٹھتا اپنے گھر کو چولہا جلانے کے لئے تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔ جب پوری دنیا اس طبقےکے ساتھ یک جہتی کرنے کے لئے ا س دن کو منا رہی ہوتی ہے مزدور کام کی تلاش میں در در کی ٹھو کریں کھا رہے ہوتے ہیں یا کہیں محنت مزدوری کر رہے ہوتے ہیں۔ دن بھر پسینہ بہا کرتب جاکر شام کو ایک وقت کی روٹی میسر آتی ہے اس لئے ایک دن بھی آرام کا مطلب ہوتا ہےایک دن کا فاقہ۔ یعنی آرام کی مزدور کی زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ۔ اب کی بار کہانی بلکل مختلف ہے ۔ کورونا وائرس اور لاک ڈائون کی وجہ سے بھوک محنت کش طبقے کا مقدر بن گئی ہے۔ بہت سی کمپنیوں اور فیکٹریوں نے اپنے ورکروں کو فارغ کر دیا ہے جبکہ یومیہ اجرت پر کام کروانے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں۔ تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ۔ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات مسلمان روزے کی حالت میں بھوک کے احساس کو بہتر محسوس کر سکتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ رمضان کا مبارک مہینہ ہے اور محنت کشوں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اس لئے مخیر حضرات کو چاہیِئے دل کھول کر اس مظلوم طبقے پر خرچ کریں۔جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے رب العزت کی عطا کردہ نعمتوں میں محنت کشوں کو نوازیں۔ اسلام ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے اور ہاتھ سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ہمارے نبی حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچپن میں بکرایاں چرائیں اور نبوت سے پہلے تجارت بھی کرتے رہے۔ اسی طرح بیت اللہ،مسجد قبا، مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ غزوہ احزاب میں خندق کی کھدائی میں بھی شریک رہے۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محنت کرنے والوں کو جو جاں فشانی سے رزق حلال کماتے ہیں اللہ کا دوست و محبوب قرار دیا ہےاور فرمایا مزدور کی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلےادا کرو۔ بہترین کمائی مزدور کی کمائی ہے بشرط یہ کہ کام خلوص اور خیر خواہی سے کرے۔ ہمارامذہب سرمائے کے بجائے محنت کو اہمیت دیتا ہے اور یہ سچ ہےکسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار محنت کشوں کا ہی ہوتا ہے۔ محنت کوشوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے انھیں قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا بے حد ضروری ہے ۔ آجروں کو پابند کیا جانا ضروری ہے وہ مزدوروں کی محنت کے مطابق اجرت دیں اور کام کے مناسب اوقات مقرر کریں ۔کام کے دوران اگر کوئی مزدور حادثے کا شکار ہو جائے تو اسے معاوضہ ادا کیا جائے۔ فیکٹریاں اور کارخانے اپنے ورکروں کا مشکل حالات میں خیال رکھیں اور ان کی مالی معاونت کریں ۔

Avatar

By ajazmir