Tue. Jun 22nd, 2021
175 Views

تحریر:صاحبزادہ محمد امتیاز ظفر
مظفرآباد آزادکشمیر کا دارلخلافہ ایک چھوٹا سا شہر چاروں طرف سے پہاڑوں میں گرا ہوا یہ شہر بڑا بھی نہیں ہو سکتا اس شہر کے پھیلنے کے امکانات بلکل نہیں البتہ اونچا ضرور ہو سکتا ہے جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے شہر کی بلندی بھی بڑھتی جا رہی ہے اگر آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو شہر کی حدیں آسمان کو تو نہیں پیر چناسی کے بلند و بالا پہاڑوں کو ضرور چھو لیں گی مظفرآباد شہر میں کاروباری حضرات سے کہیں زیادہ امیر لوگ اعلی سطح کے سرکاری ملازم اور سیاستدان بستے ہیں آسان قسطوں پر راتوں رات امیر ہونے والے یہ لوگ کاروباری حضرات کی طرح محنت اور مشقت کی تکلیف نہیں اُٹھاتے خاص کر سیاستدان سیاستدانوں کو بہت کم صرف الیکشن کے دنوں میں محنت کرنی پڑتی ہے سیاستدانوں کے برعکس سرکاری ملازمین کر صرف ٹی سی مارنے کی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے ٹی سی اگرچہ مشکل کام ہے مگر اس کا پھل ہمیشہ سو فیصد میٹھا ہوتا ہے مظفر آباد میں بسنے والی اشرافیہ خاص کر سابق وزرا اور موجودہ حکمران صرف اور صرف اپنی ذات کی حد تک ہی فکر مند رہتے ہیں اچھا گھر اچھی گاڑی انہیں زیادہ فکر مند رکھتی ہے حیران کُن بات ہے مہنگی ترین گاڑیوں سے لیکر رکشہ تک سب کے سب مظفرآباد کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پے ہی رواں دواں نظر آتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کروڑوں روپے سے خریدی گئی گاڑیوں کی سڑکیں بھی الگ سے ہوں تاکہ گاڑیوں کو تکلیف نہ پہنچے نہ جانے کس مجبوری کی بنیاد پر اشرافیہ ایسا نہیں کر پاتی ایک وجہ تو جگہ کی کمی ہو سکتی ہے جو بھی ہو مہنگی گاڑیاں بھی رکشوں اور دھواں چھوڑتی پرانے ماڈل کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں شکر ہے گاڑیوں کو ابھی تک پنکھے نہیں لگے ایسا ہو جاتا تو ہم لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے والے شعر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے اشرافیہ کے اربوں روپے مالیت والے گھر بھی اسی زمین پر ہیں گھروں کے باہر گندگی کے ڈھیر اور گلی کوچوں میں تعفن پھیلاتا ہوا گندا پانی دراصل اشرافیہ کے محلوں کے چہرے پے لگا ہوا کالا دھبہ ہے جو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے جتنے مرضی محل بنا لو جتنا مرضی ائرکنڈیشن میں چھپ کر بیٹھ لو آخر کار آپ کو باہر نکلنا پڑے گا آپ کی سانس کے ساتھ میں آپ کے پھیپھڑوں تک پہنچ کر رہوں گا گندگی کے ڈھیر جاہل ہوتے ہیں وہ غریب امیر کا فرق نہیں سمجھ پاتے اسی طرح سڑکیں راستے گلی کوچے بھی جاہل ہوتے ہیں انہیں اعلی سطح کے سرکاری افسران اور وزرا اور عام آدمی کے درمیان موجود فرق کا پتہ نہیں ہوتا
مظفرآباد میں بڑھتی ہوئی آبادی بے ہنگم ٹریفک مستقبل میں مکمل طور پر اشرافیہ کا درد سر بن کے رہ جائے گی درد سر بھی انہی کو ہوتا ہے جن کے پاس سر ہوتے ہیں اور وہ بھی نازک قسم کے غریب کے پاس سر نہیں ہوتا اگر غریب کے کا ندھوں پر سر لگ جائے تو اشرافیہ نہیں رہتی سب ایک برابر ہو جاتا ہے مظفرآباد میں بسنے والی اشرافیہ دُنیا کی نالائق ترین اشرافیہ ہے جو اپنی مہنگی ترین گاڑیوں کو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے حوالے کر دیتی ہے اور اپنے گھروں کو گندگی کے ڈھیروں سے پھیلنے والے تعفن سے خوشبودار بناتی ہے مظفرآباد آج بھی گندا ترین شہر ہے اور امید ہے دریاؤں کے بند ہو جانے کے بعد گندگی میں ورلڈ ریکارڈ توڑے گا۔
ستم ظریفی کی انتہا ہے انفرادی سوچ میں غرق اشرافیہ کیوں بھول جاتی ہے کے جب اجتماعی تباہی ہو گی تو اشرافیہ کو الگ نہیں بٹھایا جائے گا جیسے زلزلہ نے سب کو ایک ساتھ رگڑا تھا ایسے ہی پانی کی قلت گندگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ٹریفک جام ہونے کی اذیت سب کو ایک برابر ہی رگڑا دے گی شاید مظفر آباد کا غریب بھی اسی اجتماعی تباہی کے انتظار میں خاموشی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے جب رگڑا لگے گا تب غریب ہونے کا مزا آئے گا اور غریب سر فخر سے بلند کرتے ہوئے کہے گا آج غریب ہونے کا مزا آیا
اپنی دعا ہے اللہ پاک بشمول ہمارے ہماری اشرافیہ کو بھی عقل سے نوازے اور ہم اپنی سڑکوں کو اپنے گلی محلے کو اپنے سکول اور ہسپتالوں کو تعلیم یافتہ کر سکیں رہنا تو سب نے اسی شہر میں ہے تو کیوں نہ اربوں کے محل اور کروڑوں کی گاڑیاں لینے سے پہلے مظفرآباد کی سڑکوں کو بہتر بنایا جائے مظفرآباد کو صاف ستھرا بنایا جائے یاد رہے سب اچھا میں ہی سب کا بھلا ہے شہر امیر ہو گا تو سب کا سکھ ورنہ پراڈو اور رکشہ ایک ساتھ کھڈے جمپ انجوائے کرتے رہیں گے اور سانس بھی تعفن زدہ ہی رہے گی وزیر کی ہو یا غریب کی اگر اشرافیہ کے پاس اپنے لیے کوئی خاص پلان ہے جیسے گاڑیوں کے اوپر پنکھے آکسیجن کے سپیشل سلنڈر گندگی چھپانے والی خصوصی عینکیں پھر تو کوئی مسلۂ نہیں اگر ایسا نہیں تو اشرافیہ کو سوچنا پڑے گا آخر رہنا تو اسی شہر میں ہے

Avatar

By ajazmir