Tue. Dec 9th, 2025
297 Views

ہٹیاں بالا (بیورورپورٹ)چناری کے نواحی گاؤں گڑتھامہ(محلہ کھروسہ) میں جنگلی چیتے نے آبادی میں گھس کر حملہ کر تے ہوئے تین قیمتی بکریاں ہلاک کر دیں،پورے علاقہ میں خوف و ہراس،لوگ گھروں کے اندر بند ہو کر رہ گئے،محکمہ وائلڈ لائف اور انتظامیہ ضلع بھر میں عوام کے جان و مال کو جنگلی جانوروں سے محفوظ بنانے کے بجائے خاموش تماشائی۔تفصیلات کے مطابق ایلمنٹری مدرس اکابر حنیف کیانی ولد محمد حنیف کیانی ساکن کھروسہ گڑتھامہ کی تین بکریوں کو چیتے نے حملہ کر کے ہلاک کردیا،جن میں سے دو بکریوں کی باقیات مل گئیں جبکہ تیسری بکری مکمل طور پر چیتے نے کھا لی،مقامی لوگوں نے بتایا کہ حملے کے وقت گلی میں بچے بھی کھیل رہے تھے،اگر بچے باہر موجود ہوتے تو کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا تھا۔اس صورت میں ذمہ دار کون ہوتا؟عوام نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی خاموشی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جہلم ویلی کے مختلف دیہات میں چیتوں کے حملوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہیاب تک لاکھوں روپے مالیت کے درجنوں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں،مگر نہ محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں آیا اور نہ ہی انتظامیہ نے کوئی حفاظتی اقدام اٹھایا۔عوام کے مطابق محکمہ کی لاپروائی اور ضلعی انتظامیہ کی مسلسل خاموشی کے باعث لوگوں کا شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنا محال ہو چکا ہے۔رواں سال گاؤں کھروسہ  میں ہی چیتے کے ایک اور حملے میں ایک بچھڑا اور تین بکریاں بھی ہلاک ہو چکی ہیں، جس کے باوجود کوئی مؤثر حکمتِ عملی یا گشت کا انتظام نہیں کیا گیا،علاقہ مکینوں نے حکومت آزاد کشمیر، محکمہ وائلڈ لائف اور ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے چیتے کو قابو کیا جائے، حفاظتی گشت بڑھایا جائے اور عوام کو درپیش خطرے کا فوری حل نکالا جائے، تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے عوام بچ جائیں۔دریں اثناء وادی لیپہ میں سکول جانے والی متعدد طالبات آوارہ کتوں کے حملہ میں بھاگ کر جان بچاتے ہوئے پہاڑی سے گر کر زخمی ہو گئیں،عوام علاقہ کا حکام سے آوارہ کتوں کے علاقہ سے خاتمہ کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول بنہ مولہ کی طالبات سکول جا رہی تھی آوارہ کتوں کے جھنڈ نے ان پر حملہ کردیا،کتوں کے حملے سے بچنے کی کوشش میں پہاڑی سے چھلانگ لگانے پر چار طالبات زخمی ہو گئیں،مقامی افراد کی بروقت مدد سے بچیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انھیں ابتدائی طبعی امداد دی گئی،اہلِ علاقہ اور والدین نے واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کے خاتمہ کے لیے کئی بار شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کیا کتے بچوں کی جانوں سے زیادہ عزیز ہیں؟انتظامیہ فوری نوٹس لے اور آوارہ کتوں کے خلاف موثر اقدامات کرے تانکہ آئندہ اس طرح کا کوئی واقعہ نہ پیش آئے۔۔۔

By ajazmir