تحریر:اعجاز احمد میر،سابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب ، ہٹیاں بالا،آزاد کشمیر

قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جو اپنے کردار، قربانی، خلوص اور عوامی خدمت کے جذبے کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،آزاد کشمیر کی سیاست میں صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم بھی ان ہی شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی اصول، عوام دوستی اور ایثار کے ساتھ گزاری، آج ان کی وفات کو 19 برس بیت گئے ہیں، لیکن ان کی یادیں، ان کی قربانیاں اور ان کا عوامی درد آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے،2 ستمبر 2006ء کو علالت کے باعث راولپنڈی میں ان کا انتقال ہوا، وہ ایک درویش صفت رہنما، غریبوں کے مسیحا اور اصول پسند سیاستدان تھے جنہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد پر عوامی مفاد کو ترجیح دی، بھارتی گولہ باری کے دوران بحیثیت سینئر وزیر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عوام کے درمیان موجود رہنا اور 2005ء کے خوفناک زلزلے میں اپنے گھر کے افراد کی شہادت کے باوجود کئی میل پیدل چل کر متاثرین کے دکھ درد میں شریک ہونا ان کی لازوال قربانیوں کی روشن مثالیں ہیں،مرحوم کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ اقتدار میں آنے کے باوجود کبھی اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہیں بناتے تھے، ان کے قریبی ساتھی اکثر اس بات پر ان سے شکوہ کرتے کہ سخت رویہ اپنانا چاہیے، مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے کہ اللہ کی رضا کے لیے مخالفین کو معاف کر دینا بہتر ہے،یہی وجہ تھی کہ ان کے مخالفین کے دل میں بھی ان کے لیے نرم گوشہ موجود رہتا تھا اور انتخابی معرکوں میں وہ ان کی سخت مخالفت کرنے سے ہچکچاتے تھے،وہ ایک شعلہ بیاں مقرر تھے، پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام ان کی تقاریر سننے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے، ان کی باتوں میں سچائی، دردِ دل اور جرات کی چمک ہوتی تھی جو سامعین کے دلوں کو گرما دیتی تھی، ایک موقع پر اقوام متحدہ کے فورم پر خطاب کرتے ہوئے جب انہوں نے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کا ذکر کیا تو وہ خود بھی آبدیدہ ہو گئے اور پورا اجلاس اشکبار ہوگیا،ان کی دیانت داری اور ایمانداری کی واضح مثال یہ ہے کہ وہ اتنے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود کوئی جائیداد یا بینک بیلنس نہ بنا پائے، جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت بھی قائد حزب اختلاف کے منصب پر تھے لیکن خالی ہاتھ تھے، وراثت میں اپنی اولاد کے لیے صرف عوام کی محبت اور 42 لاکھ روپے قرض چھوڑ کر گئے، جسے بعد ازاں ان کے بچوں نے آہستہ آہستہ کر کے ادا کیا، یہ پہلو اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ وہ اقتدار کو دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت کا فریضہ سمجھتے تھے،مرحوم کا شمار ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، ان کی پہلی برسی پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے ٹیلی فونک خطاب میں انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب میں جلا وطنی کے بعد پاکستان آؤں گی تو اسحاق ظفر مرحوم اور ان کی شاندار تقریروں کو بہت مس کروں گی،جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی ماہ تک آزاد کشمیر میں واحد وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کی سیاسی بصیرت اور جرات کا مظہر تھا، وہ تحریک آزادی کشمیر کے سچے سفیر اور الحاق پاکستان کے زبردست حامی تھے،سیاسی میدان میں بھی ان کی جدوجہد شاندار رہی، وہ پہلی بار1975ء میں ایم ایل اے منتخب ہوئے اور اس کے بعد 1990ء، 1996ء، 2001ء اور 2006ء میں بھی الیکشن میں حصہ لیا، وہ بارہا سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کو شکست دیتے رہے اور عملی طور پر ناقابل شکست سیاستدان ثابت ہوئے، لیکن آخرکار 2006 ء میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئے، ان کے بعد ان کے صاحبزادے اشفاق ظفر ایڈووکیٹ نے پہلی بار ضمنی الیکشن میں حصہ لیا مگر فاروق حیدر سے شکست کھائی، اس کے بعد 2011ء، 2016ء اور 2021ء میں بھی اشفاق ظفر معمولی فرق سے شکست سے دوچار ہوتے رہے، اب 2026 ء کے انتخابات میں ایک بار پھر وہ انتخابی میدان میں سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے مقابلہ میں اتریں گے، صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم کی زندگی کا ایک پہلو ان کی روحانی کیفیت بھی ہے، بہت سے لوگ انہیں ولی اللہ سمجھتے تھے، کیونکہ جن افراد نے ان کے ساتھ بے وفائی یا دھوکہ کیا وہ بعد ازاں دنیاوی مشکلات کا شکار ہوتے دیکھے گئے، ان کی وفات کے بعد فاروق حیدر کو سیاست میں کامیابیاں ضرور ملیں لیکن وہی پیشگوئی جو ایک بار اسحاق ظفر نے چکوٹھی سے چناری آتے ہوئے کی تھی اس میں مرحوم کی سیاسی بصیرت کی ایک جھلک نظر آتی ہے، جب سکندر حیات کے دورِ حکومت میں وہ بطور ممبر اسمبلی اور راجہ فاروق حیدر بطور مشیر حکومت لائن آف کنٹرول چکوٹھی میں ایک میٹنگ میں گئے تو واپسی پر راجہ فاروق حیدر نے انہیں اپنی گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت دی،جب یہ قافلہ جسکول آبشار کے مقام پر پہنچا تو میری موجودگی میں اسحاق ظفر نے فاروق حیدر کو مخاطب کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے جب تک میں زندہ ہوں آپ ممبر اسمبلی نہیں بن پائیں گے، لیکن جب میں مر گیا تو آپ ایم ایل اے اور وزیر اعظم بھی بن جائیں گے،وقت نے ان کی یہ پیش گوئی درست ثابت کی، 2006 ء میں ان کے انتقال کے بعد فاروق حیدر نے مرحوم کے فرزند اشفاق ظفر کو شکست دے کر اسمبلی کی نشست جیتی اور پھر 2009 ء میں اسی اسمبلی سے پہلی بار وزیر اعظم بھی منتخب ہوئے،اسحاق ظفر مرحوم کی اعلیٰ عوامی،سیاسی،تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں عوام آج بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سب سے بڑے سول صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے،

صدر آصف علی زرداری کو چاہیے کہ ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ برائے خدمت عامہ عطا کریں،صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم کی وفات کو 19ویں برس بیت گئے انکی برسی محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ یہ تجدید عہد کا موقع ہے کہ سیاست کو خدمت کا نام دیا جائے اور قیادت کو ذاتی مفادات سے بلند کر کے عوامی خدمت کے جذبے سے آراستہ کیا جائے،وہ ایک درویش صفت، نڈر، شعلہ بیاں مقرر، دیانت دار، عوامی رہنماء اور ولی اللہ صفت شخصیت تھے جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی،مرحوم جیسی شخصیات واقعی صدیوں بعد بھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ سب سے بڑے سول صدارتی ایوارڈ کے اصل مستحق ہیں، انکی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کی مملکت پاکستان،تحریک آزادی کشمیر،عوامی خدمت اور سیاسی قربانیاں مشعل راہ بن پائیں،مرحوم کی کمی ہمیشہ محوس ہوتی رہے گی، اللہ تعالی میرے والدین،نانا،نانی سمیت مرحوم اسحاق ظفر کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے،آمین۔۔
