“سکون کا متلاشی انسان”
تحریر:فرخندہ ظفر
اطمینان قلب ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ مادیت پرستی کی دوڑ میں آج کا انسان سکون کا متلاشی ہے۔ کوئی اسے دنیا کے جھوٹے رنگوں میں تلاش کر رہا ہے، کوئی مال و دولت میں، کوئی شہرت و کامیابی میں اور کوئی کسی انسان میں۔ حالاں کہ ان سب میں بس ایک عارضی سکون و اطمینان ہوتا ہے، جو پل بھر میں بے قراری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔تمام تر مادی لوازمات کی فراہمی کے باوجود آج کا انسان پریشان ہے۔ اُس کے دل و دماغ میں بے چینی اور اضطراب ہے۔ وہ ذہنی و قلبی سکون و اطمینان سے محروم ہے اور ا س کی روح ویران ہے۔ دنیا کی وقتی، عارضی اور سطحی خوشیوں میں مشغول انسان حقیقی، دائمی اور پائیدار خوشیوں سے محروم ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں۔
وَمَا هٰذِهِ الْحَیٰـوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَهْوٌ وَّلَعِبٌ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ.
(العنکبوت)
’’ اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ(یہ راز) جانتے ہوتے۔ ‘‘
یہاں دنیوی زندگی کو کھیل تماشہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جس طرح کھیل تماشہ بہت جلد ختم ہو جانے والی چیزہے، یہی حال دنیا کا ہے۔ حب الدنيا رأس كل خطيئة.
(کنزالعمال)
’’دنیا کی محبت ہر خطا کی بنیاد ہے۔‘‘
دنیا جب تک ضرورت کے مطابق ہو تو نہایت مفید ہے لیکن جب انسان زیادہ سے زیادہ لوازماتِ دنیا کو اکٹھا کرنے کے جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے تو تباہی و بربادی اُس کا مقدر بن جاتی ہے
اس دنیا میں ہم ہر اعتبار سے آسودہ حال ہو بھی کیسے سکتے ہیں ؟جبکہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ہمیں صاف طور پر بتلادیا ہے کہ: ’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔‘‘ (البقرہ) تقویٰ انسان کو اللہ پر پختہ یقین اور بھروسہ عطا کرتا ہے، جس سے اسے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے اور وہ کسی بھی مشکل کا سامنا پرسکون طریقے سے کر سکتا ہے۔سکون قلب کی تلاش کا آخری مقام ذکر الہی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے، تو اس کے دل کو سکون ملتا ہے اور وہ روحانی خوشی محسوس کرتا ہے۔اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ:سن لو! اللّٰہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں ۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ ذکرِ الٰہی کی طبعی تاثیر بھی دلوں کا قرار ہے ، اسی لئے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تواس کے دل کو قرار آنا شروع ہوجاتا ہے ۔ انسان روح اور جسم کا مرکب ہے ۔دنیا کی آسائشوں سے جسم کو راحت ملتی ہے روح کو نہیں ۔ روح کی راحت کےلئے دنیا کے ہر نشے سے چھٹکارا ضروری ہے۔یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ دنیا کا مال و دولت اور دنیا کے جملہ رشتے چاہے وہ عزیز داری کے ہوں یا تعلقات وہم و گمان کے بتوں کی طرح ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اصل حقیقت ایک ہی ذات ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی سچی و حقیقی محبت وہ ہے جو دیگر تمام محبتوں پر غالب اور مقدم رہے، اور بندے کی تمام تر محبّتیں اُسی (اللہ کی) محبت کے تابع و تحت ہونی چاہئیں ،اسی سے انسان کے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ انسان جتنی زیادہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اتنی ہی زیادہ ایمان کی لذت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے، اور جس کا دل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت سے بھرجائے اسے ابدی سکون مل جاتا ہے۔
