Tue. Dec 9th, 2025
349 Views

“” تحریر:- فرخندہ ظفر

چچا صاحبزادہ مقبول احمد قمر علیل تھے مگر وہم و گمان میں نہیں تھا وہ ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جائے گئے۔ ان کی موت کی خبر بجلی بن کر گری ۔اس کے ساتھ ہی تمام زخم تازہ ہو گئے ۔ پروفیسر صاحبزادی انور کوثر ، صاحبزادی نذیر فاطمہ ،صاحبزادہ عرفان دانش ، صاحبزاہ مقبول احمد قمر نانا حافظ میاں محمد یونس ؒ کے آنگن کے پھول تھے جو اب مرجھا گئے ۔ جب کہ انکی دو بیٹیاں حیات ہیں ۔حافظ میاں محمد یونس ؒ کا شمار آزاد کشمیر کی مشہور روحانی شخصیات میں ہوتا ہے ۔ انھیں علم و ادب سے بہت لگاؤ تھا والد محترم صاحبزادہ اسحاق ظفر کے تایا ،استاد اور محسن تھے ۔نانا محترم نے صاحبزادہ اسحاق ظفر جو کہ پیدائشی یتیم تھے کی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کے مریدین صاحبزادہ اسحاق ظفر کو ان کا بڑا بیٹا سمجھتے تھے ۔ میاں محمد یونس ؒ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد صاحبزادہ اسحاق ظفر نے تایا کے بچوں جن میں ان کے دو مادری بہن بھائی بھی شامل تھے کا بہت خیال رکھا ۔ صاحبزادہ اسحاق ظفر ،صاحبزادہ عرفان دانش ،صاحبزادی انور کوثر اور صاحبزادہ مقبول احمد قمر بلاشہبہ میاں محمد یونس کا پر توں تھے ۔ میاں محمد یونس ؒ کا ایک شعر ہے ۔رہسی اے دنیا آباد ،کون کرے پھر یونس یاد۔ اک دن کوچ روانی ہے ،اوڑک دنیا فانی ہے۔ موت ایک تلخ حقیقت ہے ۔کسی کے ساتھ کوئی مرتا نہیں مگر جدائی موت سے بھی سخت چیز ہے ۔ جدائی دو گھڑی کی ہو تو کوئی دل کو سمجھائے ،جدائی چار پل کی ہو تو کوئی دل کو بہلائے۔جدائی عمر بھر کی ہو تو کیا چارہ کرے کوئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی الوداع کہنا پڑتا ہے ۔ آج مجھے اپنے والد (صاحبزادہ اسحاق ظفر) ماموں (صاحبزادہ عرفان داش ) پھپھو (زرینہ بی بی ، انور کوثر) خالہ (نذیر فاطمہ) اور نو محروم چچا صاحبزادہ مقبول احمد قمر سب کی بہت یاد آ رہی ہے۔ ان بہن بھائیوں کی اولادیں غم سے نڈھال ہیں ۔ ایک ہی چھت کے نیچے پرورش پانے والے ایک ایک کر کے اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ لے او یار حوالے رب دے میلے چار دِناں دے
اُس دِن عید مبارک ہوسی جِس دِن فیر مِلاں گے

لے او یار حوالے رب دے لمبی پئی اے جُدائی
رب مِلایا آن مِلاں گے ہور امُید نہ کائی

لے او یار حوالے رب دے مِلناں نال نصیباں
تُساں اَساں نُوں ہے بُھل جانڑا رکھنا یاد غریباں اللہ سبحانہ وتعالی چچا صاحبزادہ مقبول احمد قمر کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے۔ آمین

By ajazmir