Fri. May 24th, 2024
185 Views

مظفرآباد() حکومت آزاد کشمیر کی ناقص پالیسیاں،سرمایہ دار آزاد کشمیر سے منہ موڑ کر جانے لگے،درجنوں فیکٹریوں کی بدوں قانون بندش سے آزاد کشمیر میں موجود صنعت کاروں نے اہنا کاروبار سمیٹ کر آزاد کشمیر چھوڑنے پر غور شروع کر دیا۔جبکہ دوسری طرف بے روزگار ہونیوالے افراد کا دھرنہ اٹھویں روز میں داخل،ہمارے بچوں سے روٹی کا نوالہ چھین لیا گیا ہمارا روزگار بحال کرو،آزاد کشمیر میں فیکٹریوں کی بندش سے بے روزگار ہونے والے شہریوں کی ہڑتال آٹھویں روز میں داخل ہوگئی،مزدوروں کے خاندان فاقہ کشی پر آگئے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔تفصیلات کے مطابق میرپور،بھمبھر آزاد کشمیر میں قائم فیکٹریوں کو محکمہ انلینڈ ریونیو کی جانب سے سیل کرنے کے بعد آٹھویں روز فیکٹریوں میں کام کرنے والے بےروزگار مزدوروں اور عملہ نے سڑکوں پر نکلتے ہوئے حکومت کو نا اہل قرار دے دیا۔بےروزگار شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں “صنعت کش” پالیسیاں ہیں موجودہ حکومت نے سینکٹروں افراد کو بے روزگار کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں موجود فیکٹریوں کو سیل کر دیا ہے جو سراسر نا انصافی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔بےروزگار شہریوں کا کہنا تھا کہ انکی فیکٹریاں حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس دے رہی ہیں اور حکومت نے جن بے بنیاد الزامات کو بنیاد بنا کر فیکٹریوں کو سیل کیا انکا خود انکے پاس بھی کوئی ثبوت موجود نہیں۔حکومت آزاد کشمیر کی ناقص پالیسیوں کی وجہ درجنوں فیکٹریاں بند جبکہ باقی ماندہ سرمایہ دار بھی آزاد کشمیر سے اپنا کاروبار سمیٹ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔بےروزگار افراد نے چیف جسٹس ،چیف سیکرٹری و وزیراعظم آزاد کشمیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر بند فیکٹریوں کو کھولا جائے تاکہ انکے گھر کا چولہا جل سکے اور انکے بھوکے فاقہ کش بچوں کو رزق نصیب ہو۔یاد رہے کہ میر پور میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اربوں روپے کے فراڈ کی تحقیقات کا ابھی تک کوئی تنیجہ نہیں نکلا اور حکومت کے ناقص وریہ کی وجہ سے اعداد شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم کشمیری کی طرف آزاد کشمیر میں سرمایہ کرنے میں واضح فرق پڑا ہے۔پوری دنیا میں سرمایہ داروں کو عزت اور تحفظانہ ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ داری کریں اور ریاست کی عوام کو خوشحال کرنے میں ٹیکس کی صورت میں اپنا حصہ ڈالیں لیکن آزاد کشمیر کی حکومت اور انلینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ بجائے سرمایہ داروں کا بہترین ماحول دینے کے انہیں حراساں کر کے بھگانے میں مصروف عمل ہے۔

By ajazmir