Fri. May 24th, 2024
514 Views

ہٹیاں بالا(نمائندہ خصوصی)طویل ترین جہدوجہد کے بعد معلمین القرآن کی آسامی پر نظر انداز کیے جانے والے ضلع جہلم ویلی کے گاؤں لانگلہ کے رہائشی،قاری لیاقت محمود مہروی نے وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کو بذریعہ درخواست انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی پورا نہ ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر مظفرآباد میں خود سوزی کا اعلان کردیا۔یہ اعلان متاثرہ مکتب معلم قاری لیاقت محمود مہروی نے اپنے ایک ویڈیو بیان کے زریعے کیا،انھوں نے مزید کہا کہ میری تعلیمی قابلیت بی اے، حفظ و قرأت اور فاضل عربی ہے گذشتہ رمضان المبارک میں مسلسل 28 سالوں سے نماز تراویح میں قرآن مجید سنانے کااعزاز حاصل کیا،مظفرآباد میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام شبینوں میں چار مرتبہ پہلی پوزیشن لے چکا ہوں، میری داستان یہ ہے کہ17مارچ2008ء کو میرا آرڈر میرے قریبی گاؤں میں ایک بوائز پرائمری سکول میں ہوا، ایک ہزار روپے اعزازیہ کے ساتھ فرائض دیانت داری سے سر انجام دیتا رہا، 6اگست 2011ء کو میری ملازمت کو مستقل کر دیا گیا،2014ء کوپھر مجھے سر پلس کر دیا گیا لیکن میں ہمت نہیں ہارا میں نے اپنی محنت جاری رکھی، عدالتی جنگ میں ہم نے مکتب معلمین کی نئی پوسٹیں لیں پورے آزاد کشمیر کی496میں سے جہلم ویلی کی 66 پوسٹیں حاصل کیں اس جہدوجہد میں میرا تقریبا زاتی خرچہ آٹھ سے نو لاکھ روپے ہوا، ان پوسٹوں پر جب انٹرویوزکے پہلے مرحلے میں 29جنوری کو اسناد لی گئیں اس کے61 دنوں بعد جب آرڈرز سامنے آنا شروع ہوئے تو مجھے بھی بڑی مبارک بادیں موصول ہوئی کہ میرا آرڈر ہو گیا ہے، لیکن جب میں اپنا آرڈر لینے ڈی ای او آفس گیا تواکیس رمضان کی شام کو ڈی ای او نے کہا کہ ابھی آرڈرز دو دن ہم نے نہیں دیتے آپ اپناآرڈربروز بدھ دن گیارہ بجے وصول کر لینا، میں پھر ڈی ای او کے پیچھے چکر پہ چکر لگاتا رہا، ڈی ای او نے جو آفر کی وہ بھی پوری کر دی، جو کچھ فرمائش کی وہ بھی پوری کر دی پھر بھی آرڈر نہ ہوا تو وزیر تعلیم کے پاس چلا گیا وزیر تعلیم نے ڈی ای اوسے مسئلہ پوچھا تو اس پر ڈی ای او نے وزیر تعلیم کو جواب دیا کہ اس کی یوسی کی تمام پوسٹیں مکمل ہو چکی ہیں تو پھر وزیر تعلیم نے غصے کا اظہار کیا، البتہ جو کچھ بھی ہوا، میرے ساتھ اتنی بڑی زیادتی،نہ انصافی ہوئی ہے آرڈر کر کے منسوخ کر دیا گیا سب سے پہلے2008ء 2011ء کے آرڈرز میرے پاس موجود ہیں، میرا جی پی ایف سرکاری خزانے میں موجود ہے، میری تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے بھی پورا اترتا ہوں،اس نہ انصافی کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر کو بھی انصاف فراہم کرنے کے لیے درخواست دے چکا ہوں لیکن کچھ بھی نہیں ہوا، دارالحکومت مظفرآباد میں ایک پریس کانفرنس کرنی ہے اس کے بعد بھی اگر مجھے حق نہ دیا گیا تو میں مظفرآباد میں محکمہ تعلیم کے آفس کے سامنے خودکشی کرونگا اس کی تمام تر ذمہ داری ڈی ای او جہلم ویلی اور محکمہ تعلیم آزاد کشمیر پر عائد ہو گی۔۔۔۔

By ajazmir