Tue. Feb 27th, 2024
276 Views

کمسن (نابالغ) حقیقی بھتیجی سے جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو سزائے موت، سیشن کورٹ جہلم ویلی کا مثالی تاریخی فیصلہ
تحریر:، علامہ سید محمد اسحاق نقوی
یونین کونسل سیناں دامن کے گاؤں ”دامن“ کے رہائشی مسمٰی محمد شفیع ولد نظام دین جو شادی شدہ ہے اورپانچ بچوں کا باپ ہے نے گزشتہ سال (اگست 2023ء)اپنی نابالغ بھتیجی کو جھاڑیوں میں لے جاکر زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،گاؤں کے چند اشخاص نے مجرم کے خلاف قانونی کاروائی کی بجائے برادری جرگہ منعقد کرکے مجرم سے سوشل بائیکاٹ اوراسے علاقہ بدر کرنے کا تحریری فیصلہ کیا، مجرم کو فرار ہونے کا موقع ملا،خدا بھلا کرے ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا (جہلم ویلی) کے ذمہ دار صحافی حضرات کا جنہوں نے اس گھناؤنے وحشیانہ جرم پر مٹی پانے والوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس سنگین معاملہ کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے پوری استقامت سے جدوجہد جاری رکھی،مجرم مذکورہ کے خلاف سٹی تھانہ ہٹیاں بالا میں زیر دفعہ 377/Aاے پی سی مقدمہ درج ہوا،مقامی انتظامیہ (پولیس) نے 25روز بعد مفرور،روپوش ملزم کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا اوراس مقدمہ کی انضباطی وعدالتی کاروائی شروع ہوئی جو تقریبا ً تین ماہ کے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔
مورخہ 2جنوری 2024ء کو سیشن کورٹ جہلم ویلی آزادکشمیر کے سیشن جج محترم سید وسیم گیلانی نے اس مقدمہ کا تاریخی ومثالی فیصلہ بایں الفاظ صادر فرمایا ”مجرم محمد شفیع ولد نظام دین قوم گجر ساکن دامن کوبااثبات جرم 377-Aاے پی سی بطورتعزیرات سزائے موت دی جاتی ہے (جو بعد از توثیق معزز عدالت العالیہ تحت ضابطہ نافذ ہوگی)مجرم متاثرہ لڑکی کو مبلغ بیس لاکھ روپے جرمانہ ادائیگی کا پابند ہوگا،عدم ادائیگی کی صورت میں رقم مجرم کی غیر منقولہ جائیدادسے قانون معاملہ زمین کے تحت قابل وصول ہوگی“۔
اس مقدمہ کی تمام ترتفصیلات مورخہ 3جنوری 2024ء کے ریاستی اخبارات اورسوشل میڈیا پرآچکی ہیں،اس شرمناک قبیح فعل کے مرتکب مجرم کو انتظامیہ /پولیس کے توسط سے عدالت تک پہنچانے میں ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا (جہلم ویلی) کے صحافیوں کا کردار قابل ستائش ہے،راقم بحیثیت چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ”قلم“ وسرپرست ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا،محمدعارف کشمیر ی ممبر بورڈ آف گورننگ باڈی آزادجموں وکشمیر پریس فاؤنڈیشن، اعجاز احمد میر سابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا، مبارک حسین اعوان سابق جنرل سیکرٹری پریس کلب ہٹیاں بالا، محمد اسلم مرزا سابق صدر پریس کلب ہٹیاں بالا ودیگر ممبران کو صمیم قلب سے ہدیہ تحسین پیش کرتا ہے اوریہ توقع رکھتا ہے کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کی نئی باڈی (عہدیداران وممبران) باہمی اتفاق واشتراک عمل سے ”صحافت“ کے تقدس اور”قلم“ کی حرمت کا پاس رکھیں گے اورحقائق وشواہد کی بنیاد پر عوامی مسائل اورمظلومین ومتاثرین کی آواز کو قلم کے ذریعے اقتدار واختیار کے ایوانوں تک پہنچاتے رہیں گے اوررپورٹنگ کرتے وقت قرآن کریم کے اس حکم کو پیش نظر رکھاکریں گے ”اے ایمان والو! اگر کوئی شخص تمہارے پاس ایسی ویسی خبر لے کر آئے تو پہلے تحقیق کرلیاکرو کہ وہ صحیح ہے یا غلط (اوراطمینان کرلیاکرو)ایسا نہ ہو کہ نادانی ونافہمی میں کوئی ایسا اقدام کر بیٹھو جس پر تمہیں بعد میں ندامت اٹھانا پڑے“ (بحوالہ سورہ الحجرات آیت نمبر 6) اس مقدمہ کی انضباطی کاروائی میں مقامی پولیس انتظامیہ کا کردار بھی لائق تحسین ہے کہ انہوں نے اس سنگین معاملہ کوعدالت تک پہنچانے میں کسی تغافل وتساہل سے کام نہیں لیا۔
شریعت اسلامیہ میں تعزیری قوانین کا مقصد اولین یہ ہے کہ ہرانسان کی جان، مال،عزت وآبرو، محفوظ رہے اگر کوئی شخص کسی کی جان کو تلف کرتا ہے تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا اگر کسی کے مال پر دست اندازی کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اوراگر کوئی شخص کسی کی عزت وناموس کا داغدار کرتا ہے (جنسی زیادتی کاارتکاب کرتا ہے) تو اس کو درّوں اوررجیم کی سزا دی جائے گی اسلا م نے سنگین جرائم کی جو سزائیں مقرر کی ہیں ان میں دو باتوں کا بڑا لحاظ رکھا گیا ہے،ایک تو یہ کہ مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے، دوسری یہ کہ وہ لوگ جن میں جرائم کے ارتکاب کا رحجان ومیلان پایا جاتا ہے وہ خوفناک سزاؤں سے ڈر کر جرائم کا ارتکاب نہ کریں،مدینہ منورہ میں جب سورہ نورنازل ہوئی تو یہ حکم نافذ ہوا کہ زانی مرد اورزانیہ عورت کو سو سو کوڑے لگائے جائیں،یہ سزا غیر شادی شدہ مرد اورعورت کیلئے ہے جبکہ شادی شدہ مرد اورعورت کی سزا یہ ہے کہ اُسے رجیم کیاجائے یعنی اس پر اتنے پتھر برسائے جائیں کہ وہ ہلاک ہوجائے، ساری امت محمدی ﷺ کا اس پر اجماع ہے چونکہ اس سزا کاایک اہم مقصد دوسروں کو عبرت دلانا ہے اس لیے حکم یہ دیاگیا ہے کہ یہ سزا مجمع عام میں قائم کی جائے تاکہ لوگ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اورباز رہیں،محتاط رہیں، مسئلہ اگر کوئی شخص حد/سزا قائم کرنے کے باعث فوت ہوجائے تو اس کی نعش کی بے حرمتی اورتوہین نہیں کی جائے گی بلکہ عام مسلمانوں کی طرح اُسے غسل دیا جائے گا اورکفن پہنایا جائیگا،نماز جنازہ اد اکی جائے گی اورمسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا (بحوالہ تفسیر کبیر) اگرہماری ریاست /آزادکشمیر وپاکستان میں شرعی قوانین کا من و عن نفاذ ہو تا تو مذکور مجرم کو اے جے کے یونیورسٹی کیمپس ہٹیاں بالا کے اسٹیڈیم /گراؤنڈ میں رجم / سنگسار کیا جاتا،عدلیہ، انتظامیہ دویگر اداروں کے ملازمین، بازار،قرب وجوار کے لوگ اس عبرت ناک سزا کا مشاہدہ کرتے،تاہم سیشن کورٹ جہلم ویلی آزادکشمیر کے جج محترم سید وسیم احمد گیلانی نے اس مقدمہ کا جو فیصلہ صادرفرمایا ہے وہ بھی تاریخی ومثالی ہے، اورموصوف کے تفکر وتدبر اور فہم وفراست کا آئینہ دار اوربادی النظر میں قابل تحسین وآفرین ہے،رب ذوالجلال محترم جج موصوف کی عمر میں صحت کے ساتھ برکتیں اورترقی عطافرمائے، ہمیں اُمید ہے عدالت العالیہ اس فیصلے کی توثیق فرمائے گی،الحمدللہ ہماری عدالتیں نسبتا ً باوقار ہیں، فیصلے خود بولتے ہیں،اس گئے گزرے دور میں بھی انصاف کی امید پر لوگوں کی نظریں عدالت ہی پر ہوتی ہیں،اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے محبوب رسولﷺ کے وسیلہ سے عاجزانہ دعا ہے کہ ہماری ماتحت عدالت عُظمیٰ تک ہر قابل احترام جج /جسٹس کومقدمات کے فیصلے مبنی عدل وانصاف بلارغبت ونفرت،آزادانہ طورپر بروقت صادر فرمانے کی ہمت واستقامت اور فہم وفراست عطافرمائے۔آمین
متذکرہ شرمناک واقعہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کیلئے عبرت کاباعث ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک بار نہیں متعدد بارفرمایا ہے کہ شیطان تمہاری ظاہری دشمن ہے اس کی پیروی نہ کرو اس سے بہر صورت بچو،جو صاحبان ایمان اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول مقبول ﷺ کے فرمانبردار اطاعت گذارہیں وہ شیطان مردود سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں شیطان کے شرسے محفوظ رکھتا ہے،کسی دانا کاقول ہے کہ شہوت وہ شرینی ہے کو لکھنے والے کو ہلاک کردیتی ہے،متذکرہ مجرم میں شیطان کے بہکاوئے میں آگیا،شیطان ا س کے اعصاب پر سوارہوگیا،شہو ت کے غلبے نے اس کے سوچنے،سمجھنے، اوردیکھنے کے حواس کو ماؤف کردیا،پانچ بچوں کا باپ ہوکر اپنی حقیقی بھتیجی جو بیٹی کی مانند ہوتی ہے کو حوس کانشانہ بنا کر خود عبرت کا نشان بن گیا،جانوروں سے بدتر انسانوں کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے،ترجمہ، ہم نے دوزخ کیلیے بہت سے جن اورانسان پید ا کردئیے ہیں ان کے دل تو ہیں لیکن حق کو نہیں سمجھتے ان کی آنکھیں بھی ہیں مگر وہ حق وسچ کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے کان تو ہیں مگر وہ اُن سے حق وسچ بات سننے کا کام نہیں لیتے، یہ لوگ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ،ان کو دین کی کچھ خبر نہیں (حق وباطل،حلال وحرام، خیر وشر کی انہیں کوئی تمیز نہیں) (سورہ الاعراف آیت نمبر 179)چوپائے اپنے مالک کو پہنچانتے ہیں،کتا اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے،نرجانور اپنے جنس کی کم سن مادہ سے جفتی نہیں کرتا اورنہ ہی غیر فطری عمل کرتا ہے جبکہ انسانوں بلکہ (بے شعور وبے شرم وبدعمل) مسلمانوں سے کیسے کیسے اعمال قبیح واقع ہورہے ہیں ”فا عتبروا یااُولی الابصار“ عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو۔القرآن

By ajazmir