Wed. Jun 26th, 2024
556 Views

خلیفہ المسلمین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حیات وخدمات کااجمالی تذکرہ
تحریر. علامہ سید محمد اسحاق نقوی
خلیفتہ المسلمین حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اسم گرامی ”عبداللہ“ والد گرامی کانام ابو قحافہ عثمان بن عامر بن کعب اوروالدہ محترمہ کا نام سلمیٰ بنت صخربن عامر بن کعب اورکنیت ام الخیر تھی۔آپ کی کنیت ابو بکر ہے صدیق اور عتیق آپؓ کے القاب ہیں،آپؓ اپنی کنیت اورلقب ہی سے معروف ہیں۔لکھنے اورپڑھنے میں آپ اپنے نام ”عبداللہ“ کی بجائے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پہچانے اورپکارے جاتے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت واقعہ فیل سے تقریبا ڈھائی سال بعد ہوئی،آپ قریش ہیں،آپ نے اٹھارہ سال کی عمر میں حضور نبی کریم ﷺکی رفاقت اختیار کی تھی،جب آپ کی عمر بیس (20)ہوئی تھی تو آپؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کی ہمراہی میں بقصد تجارت شام کا سفر کیاتھا،حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے قبل ہی آپ ﷺ کی رفاقت وصحبت میں رہتے تھے،آپ کا اخلاق وکردار مکہ کے رہنے والوں سے منفردومختلف تھا اورشراب سے نفرت تھی،اپنی برادری میں سب سے زیادہ دولت مند تھے اورمروت واحسان کے پیکرتھے،قوم میں معززسمجھے جاتے تھے،حضرت امام نووی ؒ کا بیان ہے کہ ایام جاہلیت میں آپ کا شمار روسائے قریش میں ہوتا تھا،قریش آپ سے مشورہ لیا کرتے تھے اورآپ سے محبت بھی کرتے تھے۔جب حضور نبی کریم ﷺنے نبوت کااعلان فرمایا تو آپ نے رسالت مآب ﷺکی دعوت پر بلا چون وچرااوربغیر کسی حیل وحجت کے ایمان قبول کیا اورکلمہ شہادت پڑھا،اورآپ کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی،ابن عساکر نے سید ناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ دولت ایمان سے مشرف ہوئے،حضور نبی کریمﷺنے آپؓ کوصدیق وعتیق کے پیارے القاب سے نوازا تھا،صدیق کا مطلب ہے سچ کہنے والا،لقب صدیق کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ آپ نے بغیر پس وپیش کے دعوت اسلام کو قبول کیا اورنبی کریم ﷺ کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی اوردوسری وجہ یہ ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ معراج سے مشرف ہوئے تو آپ نے بلاتامل تصدیق کی تو حضور ﷺ معراج نے خوش ہو صدیق کے لقب سے نوازا،”عتیق“کے معنی ہیں ”آزاد“رسالت مآب ﷺنے آپؓ کے لئے ”عتیق من النار“(آتش دوزخ) سے آزاد کے الفاظ ارشاد فرمائے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ حلقہ بگوش اسلا م کے بعد سے رسالت مآب ﷺکے وصال تک ہمیشہ سفروحضر میں آپ کے رفیق رہے جب حضور نبی کریم ﷺنے حکم الٰہی سے مکتہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو اپنے بستر پر سُلایا اوراہل مکہ کو ان کی امانتیں لوٹانے کی تلقین فرمائی اورحضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنا رفیق سفر بنایا۔دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے آپ نے تین دن غارثور میں قیام فرمایا،جس کا خوب صورت تذکرہ قرآن مجید میں یوں ہو ”ثانی الثنین اذھما فی الغار اذیقول لصاحبہ لاتخزن ان اللہ معنا۔۔۔۔میں لصاحبہ سے مراد حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی ہیں اس لئے آپؓ کو رفیق غار بھی کہا جاتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اصحاب رسول ﷺ میں زیادہ سخی تھے،اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ”ترجمہ وہ پرہیز گار اورمتقی ہے جو اپنا مال دین اسلام کے لئے اسی مقصد سے خرچ کرتا ہے کہ وہ پاکیزہ ہوجائے،(سورہ الیل ٓیت ۱۸)علماء ومفسرین کا اس پراتفاق ہے کہ یہ آیت مبارکہ آپؓ ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے،حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم ﷺ نے فرمایا ”ابوبکر کے مال نے مجھے جتنانفع دیا اتنا کسی کے مال نے نہیں دیا“ اس پر حضر ت ابو بکرصدیقؓ نے روتے ہوئے کہا یارسو ل اللہ ﷺمیں اورمیرے مال سب حضور ہی کا ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہیں سے روایت ہے کہ جس دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو آپ کے پاس چالیس ہزاردینارودرہم تھے آپ نے یہ سارے حضور ﷺ کے ارشاد مبارک پرخرچ کیے یعنی مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے میں اورراہ اسلام میں۔حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد مہاجرین وانصار کی باہمی مشاورت سے آپ خلیفہ المسلمین قرارپائے،اورمنصب خلافت سنبھالنے کے بعد آپؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنااوررسالت مآب ﷺ پردود وسلام پیش کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب میں فرمایا ”اے لوگو! میں تمہاراوالی ہوں اگر میں اللہ تعالیٰ کے احکام اوراس کے محبوب ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے تمہارے ساتھ بھلائی کروں تو میری معاونت کرنا اگر غلطی کروں تو میری اصلاح کرنا،صدق امانت ہے اورکذب خیانت،خلافت کا اعزاز ملنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کے
حضرت اسامہؓ کی سربراہی میں قائم کئے جانے والے لشکر کو تیار کیا (اس لشکر کی روانگی حضور نبی کریم ﷺکی علالت کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی)رسول اکرم ﷺ کے وصال کی خبر پاکر عرب کے کچھ قبائل مرتد ہوگئے تھے اورادائیگی زکوۃ سے گریز کرنے لگے تھے آپ نے ان کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا،حضرت عمر فاروقؓ کی رائے تھی کہ فی الحال مانعین زکوۃ کی سرکوبی سے توقف کیا جائے اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ”اے عمر، مجھے امید تھی کہ امور خلافت میں تم میری مدد کرو گے لیکن تمہارایہ مشورہ صائب نہیں، میں ہر اُس شخص سے جہاد کروں گا جو نماز اورزکوۃ میں تفریق کرے گا اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مسئلہ آپ کو شرح الصدر کردیا ہے چنانچہ حضرت اسامہؓ کی قیادت میں لشکر روانہ کردیا گیا۔تحفظ ناموس رسالت وعقیدہ ختم نبوت قرآن وسنت میں ایک متفق علیہ عقیدہ ہے جس پرپوری امت کا اجماع ہے مسئلہ ختم نبوت عقائد کے باب میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے عقیدہ ختم نبوت اسا س ایمان اورمدار ایمان ہے اس مسئلہ کی نزاکت واہمیت کے پیش نظر کوئی مسلمان اس کی راہ میں حائل مصلحت وضرورت کو برداشت نہیں کرسکتا اوروہ منکرین ختم نبوت کی طرف کھڑی کی گئی دیوار کو گرانے کیلئے کسی کوتاہی اورتغافل شعاری کاتصور بھی نہیں کرسکتا اگرچہ ا س کیلئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دینا پڑے۔تحفظ ختم نبوت کے لیے حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ہر قسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹے مدعیان نوبت کیخلاف جہاد بالسیف کیا اورتحفظ ختم نبوت کے پہلے مجاہد قرار پائے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کیلئے ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت حضرت خالد بن ولیدؓ کو سونپی اوروہ اسلامی فوج لیکر یمامہ پہنچے،گھمسان کا رن پڑا،خون کی ندیاں بہہ گئی،مسیلمہ کذاب کے 21ہزار آدمی مارے گئے،مسیلمہ کذاب قتل ہوا اورباقی لوگ بھاگ گئے اسلامی لشکر کے بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ قرآن تھے،اسی طرح اسود عنسی بھی مارا گیا اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا سبحاح بن حارث ایک خاتون تھی اس نے بھی نبوت کا جھوٹادعویٰ کیا تھا اس کے بھی سینکڑوں پیروکار بن گئے تھے اس نے مسیلمہ کذاب سے شادی کرلی تھی اس کو بھی واصل جہنم کیا گیاطلیحہ بن خویلید نے نبوت کادعویٰ کیا تھا اس نے بھی معرکہ میں شکست کھائی پھر توبہ کرکے مسلمان ہوگیا۔ختم نبوت ﷺ کے سُچے سُچے عقیدہ کی آبیاری جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ نے اپنے خون سے کی اورآئندہ آنے والی نسلوں کیلئے عملی مثال اورپیغام چھوڑ دیا کہ کسی بھی دعویٰ نبوت کرنے والے کذاب کے خلاف انتہائی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا،یہی وجہ ہے کہ دور صدیقی سے لیکر آج تک امت مسلمہ نے تحفظ ختم نبوت کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔خلیفہ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریباً ڈھائی سال خلافت کی ذمہ داریاں نبھا کر۲۲جمادی الثانی ۱۳ہجری ترسیٹھ برس کی عمر میں انتقال فرمایا،دنیا کی ظاہری زندگی میں حضور ﷺ کی بے لوث رفاقت،اطاعت،اورخدمت کا صلہ آپؓ کو اسی طرح ملا کہ آپ رسالت مآب ﷺ کے رفیق مزار بھی ہیں اورگنبد خضرا کے سائے تلے اپنے محبوب کے قدموں میں آرام فرماہیں۔(جاری ہے)۔
(نوٹ اس مضمون کی تحریر وترتیب میں تاریخ الخلفاء علامہ جلال الدین سیوطی ؒ سے استفادہ کیا گیا ہے)۔

By ajazmir