Tue. Feb 27th, 2024
198 Views
نفرت نہیں ،بچوں کو محبت سکھائیں
تحریر: فرخندہ ظفر:-
بچے کی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں، دماغ تیز رفتار شرح سے بڑھتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ بچہ مکمل طور پر منحصر شیر خوار سے ایک آزاد نوجوان ہونے لگتا ہے، جو سوچنے، ڈھلنے اور مسئلے کو حل کرنے کے بنیادی طریقوں کا اہل ہوتا ہے۔ اگرچہ جینیات آپ کے بچے کی صلاحیتوں اور اخلاقیات کے تعین میں اہم ہیں، لیکن ماحول کا کردار بچے کی معاشرتی اور جذباتی نشوونما کے سیکھنے کو اثر انداز کرنے میں یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران میں والدین اور اردگرد کے افراد کا رویہ بچوں میں اہم دماغی رابطے بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو مستقبل میں ان کی سیکھنے کی استعداد کو بتدریج بہتر کرتا ہے۔بچوں کا دماغ بڑوں کی طرح نہیں ہوتا۔ کم عمری میں ان کے ذہن کی نشوونما ہوتی رہتی ہے۔ یہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ بچےکے ذہن کو کس دھارے میں موڑتے ہیں۔ بچوں کی معاشرتی زندگی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اس کے اثرات ان کی زندگی پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔بچوں کو معاشرتی رہنمائی فراہم کرنے کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے اس ضمن میں والدین کو اپنی ذمہ داری پوری دیا نتداری کے ساتھ ادا کرنی چاہئے۔بچہ چونکہ والدین کے زیر سایہ اپنی عمر کی مختلف منازل طے کرتا ہے۔والدین سے سیکھ کر دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے۔ مگر افسوس ہمارے ہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتااور والدین اپنے عزیز و اقارب سے جُڑی رنجشیں اور ماضی کے تلخ حقائق کا اپنے بچوں کے سامنے ذکر کرتے ہیں، جب کہ بعض دفعہ نفرت کا آمیزہ تیار کر کے اپنے بچوں کے ذہن میں باقاعدگی سے انڈیل رہے ہوتے ہیں۔بہ ظاہر یہ ایک عام فطری عمل گردانا جاتا ہے، لیکن درحقیقت والدین کی طرف سے بچوں کے ذہن میں منفی بیج بونے کے مترادف ہے۔ اس تخریبی سوچ کے اثرات  مستقبل میں بچے کی عملی زندگی کے ساتھ ساتھ خاندانی اکائیوں پر گہرےاثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی والدین ایسے نہیں ہوں گے جو اس الزام کو تسلیم کرلیں کہ وہ اپنے بچوں کے دشمن ہیں، بچوں کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ جب بھی ان کے بچے کے ساتھ کوئی چھوٹا یا بڑا ناانصافی کرتا ہے تو وہ اس وقت آمادہ انتقام ہوجاتے ہیں لیکن وہ خود بڑی بڑی ناانصافیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہ ناانصافیاں بچے کی شخصیت کا خون کرتی ہیں ۔والدین جب تایا،تائی،چچا،چچی،ممانی ماموں،پھوپھو اور پھوپھا کی برائیاں بچوں کے سامنے کرتے ہیں تو گویا وہ ان سے نا انصافی کر رہے ہوتے ہیں ۔اختلافات کی نوعیت کچھ بھی ہو ،کبھی ابدی اور دائمی نہیں ہوتے ۔دل بدل جاتے ہیں، اپنے بیگانے بن جاتے ہیں اور کل کے دشمن بعد ازاں دوست بھی بن جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی انسانی تعلقات میں پائی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ذاتی رنجشیں توختم ہو جاتی ہیں لیکن والدین نے بچے کے معصوم ذہن میں نفرت کاجو بیج بویا ہوتا ہے وہ تناور درخت بن کر اسکے ذہنی سکون میں خلل پیدا کرتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مخلص رشتوں کو بھی شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔محبت ذریعۂ ہم آہنگی ہے، محبت ایک دوسرے کا احترام سکھاتی ہے، محبت دلوں کو جوڑتی ہے، محبت ا زالۂ شکوک و شبہات کا ذریعہ بنتی ہے اور محبت پر ذہنی صحت مندی اور کردار کی مضبوطی کا انحصار ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو ذہنی طور صحت مند بنانا چاہتے ہیں تو انھیں نفرت نہیں بلکہ محبت سکھائے ۔

By ajazmir