Tue. Feb 27th, 2024
222 Views

 

تحریر۔محمد زاہد اعوان،نو منتخب صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا
مجھے شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے تقریباً چوبیس سالوں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے اس عرصہ کے دوران صحافت کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے بہت سے مسائل کا بھی سامنا رہا تاہم عوامی خدمت کے جذبے مجھے صحافت کے شعبہ سے الگ نہ کر سکے،ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا میں بہت سے مختلف عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملا عبدالوحید کیانی سابق تحصیل صدر کے ساتھ بھی بطور ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہٹیاں بالا کام کیا،ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سابق صدر مرزا محمد اسلم اور دیگر صدور بھی شامل ہیں جن کے ساتھ صحافتی فرائض سرانجام دینے کا موقعہ ملا،لیکن جتنی دلچسپی اور لگن کے ساتھ جنوری 2022 ء سے لے کر 25دسمبر 2023 ء کے دوران سابق صدر اعجاز احمد میراور مبارک حسین اعوان جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کے ساتھ ملکر کام کرنے کا لطف اٹھایا میں صحافتی عرصہ میں اتنا لطف اندوز کبھی نہیں ہوا،ان دو سالوں کے دوران سابق تنظیمی باڈی کے عہدیداران و ممبران نے صدر اعجاز احمد میر کی قیادت میں جو تاریخی کارنامہ سرانجاام دیا اس کی نہ تو ماضی میں کوئی مثال دیکھنے کو مل سکتی ہے اور نہ ہی شاہد مستقبل میں ایسا کوئی کارنامہ سرانجام دے سکے گا،اس تاریخی کارنامے کا تذکرہ کرنا بھی مناسب سمجھوں گا وہ کارنامہ تھاڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کا (آئین) ضابطہ اخلاق جو سابق صدر اعجاز احمد میر کی صدارت کے دوران ڈسٹرکٹ پریس کلب کے صحافیوں کو اعزاز کی صورت میں ملا، اس ضابط اخلاق کو جہلم ویلی کے بابا صحافت محمد عارف کشمیری کی تکنیکی مہارت کے جملوں سے مکمل کیا گیا،اس ضابطہ اخلاق کی تیاری میں محمد عارف کشمیری کے ساتھ ساتھ تحریر میں راقم کے علاوہ مبارک حسین اعوان،محمد اسلم مرزا نے بھی بھر پور معاونت کی،اسی ضابطہ اخلاق کی بدولت پریس کلب کے کچھ ممبران بھی ممبر شپ سے محروم ہوئے،جس کے باعث صحافتی برادری میں اختلافات پیدا ہو گئے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے جو ادارہ ڈسپلن کے لیے اصول بناتا ہے ان اصولوں کو اپنے اوپر لاگو نہیں کرتا تو پھر بنائے گئے اصولوں اور ادارہ کی کوئی حثیت نہیں ہوتی اور پھر اصولوں پر چلنے والے انسان کے لیے عہدہ پھولوں کی سیج تو ہوتی نہیں اس کو کانٹوں پر چلنا پڑتا ہے،جس کی پاداش میں جہلم ویلی کے صحافیوں کو عدالتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا،ایک سال تک باہمی اختلافات تمام سینئر صحافیوں کی باہمی حکمت عملی سے اختتام پذیر ہوئے جس کے نتیجہ میں راقم کو صدر کے عہدہ پر فائز کیا گیا،سابق صدر اعجاز احمد میر کی ڈسٹرکٹ پریس کلب کے لیے لازوال قربانیاں ہیں جن کو کسی صورت فراموش نہیں کیاجاسکتا،اعجاز احمد میر نے پہلی بار صدر بننے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان سے نو منتخب تنظیمی باڈی کا حلف کروایا اس موقعہ پر سردار تنویر الیاس نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے دس لاکھ روپے،پریس کلب ہٹیاں کی عمارت کی تعمیر اور اپنی جیب سے آٹھ موٹر سائیکل دینے کا اعلان کیا،ان اعلانات میں سے دس لاکھ کی رقم ڈسٹرکٹ پریس کلب کے اکاؤنٹ میں آئی جو ممبران کی فلاح و بہبود پر خرچ کی گئی جس پر جملہ صحافیوں نے وزیر اعظم وقت سردار تنویر الیاس خان کا دلی شکریہ ادا کیا،اس کے علاوہ پریس کلب کی عمارت کی تعمیر اور اس وقت کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی جانب سے اپنی جیب سے آٹھ موٹرسائیکل دینے کا اعلان تاحال پورا نہیں ہوا امید ہے کہ سردار تنویر الیاس خان ہٹیاں بالا کے صحافیوں کے نا مسائد حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر کیے گئے دو وعدوں کو بھی جلد پورا کردیں گے،ایک وعدہ جو عمارت کی تعمیر کے حوالہ سے تھا وہ انکی حکومت کے ختم ہونے کے بعد تو مشکل سا ہو گیا، لیکن آٹھ موٹر سائیکل فراہمی کا وعدہ آج بھی سردار تنویر الیاس خان کے بس میں موجود ہے اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر نعمت سے نوازا ہے پریس کلب کی بلڈنگ کے اعلان کو بھی پورا کر سکتے ہیں ان سب اقدامات میں سابق صدر اعجاز احمد میر کے دست وبازو بنے جنرل سیکرٹری مبارک حسین اعوان،محمد عارف کشمیری،شاہد عزیز کیانی،زاہد جاوید عباسی،سید انصار نقوی، عامر شیخ،لقمان چوہان،اور راقم خود شانہ بشانہ رہا،اس پوری ٹیم کی کاوشوں کے پیچھے جس شخصیت یا جس کا کردار تھا وہ کردار،نہ بکنے،نہ جھکنے والے سابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا اعجاز احمد میر کا تھا جو بہادر،دلیر،جرأت مند صحافی ہیں،جنہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا،کبھی بھی جہلم ویلی کی صحافت کو داغدار نہیں ہونے دیا،کبھی بھی صحافیوں کی عزت پر کسی بھی قسم کی آنچ نہیں آنے دی،تمام مشکلات،دباؤآنے کے باوجود کبھی بھی عوامی حقوق کی جنگ سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، اپنے صحافی بھائیوں کی عزت کی خاطر مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمیشہ چٹان کی طرح کھڑے رہے سابق صدر اعجاز احمد میر کے ویژن،مشن کو انشاء اللہ ہمیشہ اپنایا جائے گا کبھی بھی جہلم ویلی کی صحافتی برادری کی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی کبھی عوامی حقوق کی جنگ لڑنے سے گریزاں ہوں گے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

By ajazmir