Tue. Feb 27th, 2024
231 Views

ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ)سابق صدر خواتین ونگ مسلم لیگ ن ہٹیاں بالا،ممبر ڈسٹرکٹ کونسلر غزالہ اشرف نے کہا ہے کہ ریاست کو اپنے تمام اداروں اور انکے ملازمین کو حقوق دینے چاہیے ناکہ پہلے سے تعینات ملازمین کو نوکریوں سے نکال کر انکے گھروں کے چولہے ٹھپ کرنے چاہیے آزادکشمیر میں پندرہ سال سے ایک پروجیکٹ ایم این سی ایچ اور ڈبلیو ایچ اوقائم تھاجس کے سپیشلسٹ سے لے کر ہیلتھ ورکر تک بارہ سو ملازمین ہیں دو سابق وزیراعظم اور دو سابق چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے انکی مستقل ملازمتوں کی منظوریاں دی ہوئی ہیں موجودہ وزیراعظم اور موجودہ وزیر صحت نے اس پروگرام کے ملازمین کوگھر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے ایم این سی ایچ پروگرام کے بعض ملازمین کی عمریں بلائی حدود کو کراس کر چکی ہوئی ہیں پاکستان میں اس پروجیکٹ کے ملازمین کو پروجیکٹ سمیت محکمہ صحت کی تحویل میں دیا گیا ہے جبکہ آزادکشمیر میں وفاق سے آنے والے پانچ پروجیکٹ قبل ازیں محکمہ صحت عامہ آزادکشمیر کی تحویل میں دئیے جا چکے ہیں وزیر صحت نے اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ کروانے کے لئے پہلے سے کوالفائی صحت عامہ کے ملازمین کے حقوق تلف کرنے کے لئے جو حکومتی فرمان جاری کرایا ہے اس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومتیں روزگار لگاتی ہیں چھینتی نہیں ریاست میں قائم کیا جانے والا دوہرا معیار بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے این ٹی ایس،پبلک سروس کمیشن کو فحال اور انفرادی غیر متنازعہ ادارہ جات بنانے کی ضرورت ہے پبلک سروس کمیشن کو غیر فحال بنا کر ریاست کے ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنایا جا چکا ہے جس کے باعث ریاست کا قیمتی اثاثہ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک جانے پر مجبور بنا دئیے گئے ہزاروں نوجوانوں سے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن آزاد کشمیر نے آن لائن درخواستیں لی جن کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا ہوا ہے سیاسی و سفارشی کلچر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے گڈ گورنس کا نام شرمندہ تعبیر نہ ہو سکاغزالہ اشرف نے کہا کہ میرٹ،عدل انصاف کے حصول کے لئے مسلم لیگ ن خواتین ونگ اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار فراہم کرائیں گے حق تلفیوں کے خلاف موثر انداز میں ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

By ajazmir