Tue. Feb 27th, 2024
331 Views

ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ)دوسری سالانہ شان اہلبیت ایک روزہ کانفرنس اہلسنت والجماعت حلقہ حسین ابن علی چکوٹھی کے زیر اہتمام مولانا ناصر حنیف کیانی کی زیر صدارت و زیر نگرانی مفتی نسیم چغتائی منعقد ہوئی جس میں ضلع جہلم ویلی کے جید علمائے کرام نے شرکت کی جمعیت علما اسلام مظفرآباد ڈویژن کے امیر و سابق امیدوار اسمبلی مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی،پیر سید تجمل السلام گیلانی،مولانا ابو بکر،مولانا فرید احمد،مولانا گل احمد الاظہری، مولانا مفتی جمیل احمد جامی،قاری عبدالرحیم،قاری شہزاد حسانی،قاری مقصود احمد،حافظ عبدالشکور حسان، راجہ قاصد،مولانا عمران تنولی،قاری سعید جگوال،حافظ عنصر رشید،حافظ عقیل،حافظ نسیرمغل،قاری اقبال،مولانا طاہر فاروقی،راجہ نثار گل،حافظ ابرار،قاری اسرائیل ودیگر سیاسی وسماجی شخصیات، انجمن تاجران چکوٹھی، سول سوسائٹی صحافی برادری سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو صحابہ کرام و اہلبیت اطہار کی زندگیوں کو پڑھ کر ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تب جاکہ ہم کامیاب ہونگے اگر ہم نے انکی زندگیوں میں سے اختلافات نکالنے کہ کوشش کی تو خود گمراہ ہونگے انکی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی ہمیں ان کے اندر خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں مفتی نسیم چغتائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی و سینٹ سے تحفظ صحابہ و اہلبیت بل پاس ہونے پر بل کی مخالفت کرنے والوں کو کسی بھی صورت ووٹ نہیں ڈالیں گے جو صحابہ و اہلبیت کا نہیں ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایک ریاست میں دو قانون نہیں چل سکتے کوئی بڑا خلفائے ثلاثہ پر تبرا کرے ریاست اسے تحفظ دے تو ریاست کس طرح چل سکتی ہے؟؟ اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ہم نے ہمیشہ ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور قانون کے مطابق اپنے مخالف کو لگام دی ہے کانفرنس کے مہمان خصوصی پیر سید تجمل السلام گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دفاع صحابہؓ اس لئے کرتے ہیں کہ جہاں سے بند ٹوٹتا ہے وہاں ہی سے جوڑا جاتا ہے اس وقت صحابہؓ کا دفاع اصل میں اسلام کا دفاع ہے آج کا اجتماع شہدائے فلسطین و شہدائے جموں و کشمیر کو سلام عقیدت پیش کرتا ہے،آج کا عظیم الشان اجتماع فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کی بھرپور مزمت کرتاہے اور OIC سی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنا جاندار موقف پیش کریں اور مسلمانوں کی نسل کشی کو فوری طور پر روکا جائے،آج کا اجتماع مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیا جائے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں،آج کا اجتماع ملک پاکستان و آزاد کشمیر میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈینس کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے،آج کا اجتماع ملک میں نفاذ اسلام کا مطالبہ کرتا ہے۔آج کا یہ اجتماع صحابہ و اہلبیت کی توہین کے مرتکب افراد کے لئے عمر قید کی قانون سازی کامطالبہ کرتا ہے۔آج کا یہ اجتماع صحابہ و اہلبیت کا تعارفی مضامین بطور نصاب سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے آج کا یہ اجتماع ضلعی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں جعلی سوشل میڈیا اکانٹ بنا کر مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اسے فوری طور پر روکا جائے تاکہ اس ویلی کا امن برقرار رہے،کانفرنس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی کانفرنس کے اختتام پر ملک پاکستان کی امن و سلامتی تحریک آزادی کشمیر فلسطین آزادی قبلہ اول کی آزادی اور شہدا کشمیر و فلسطین کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں انجمن تاجران چکوٹھی کی طرف سے کانفرنس کے اختتام پر لنگر دیا گیا

By ajazmir