Tue. Feb 27th, 2024
211 Views

مظفرآباد ( ) سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہر طرح کے اختیارات اپنے پاس رکھنا دجالی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، آزاد کشمیر میں موجودہ نظام موجودہ صورتحال میں نہیں چل سکتا، واحد حل شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہیں جن کا فوری انعقاد ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا پڑے گا، حالات ہمارے ہاتھ سے نکل رہے ہیں، نہ تو نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا ہو گا، وزیراعظم انوارالحق کے ساتھ ایک بھی ممبر اسمبلی نہیں، جب ہم 14 ممبران نے اسے وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی تھی تو اس نے خود اعتراف کیا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔ مرکزی ایوان صحافت میں سینئر صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ میں 75ء سے 77ء تک پیپلز پارٹی کے دور کو بدترین قرار دیا جاتا ہے، وہ دور بھی موجودہ صورتحال سے بہتر تھا۔ گریڈ 1 سے 6 تک وزیراعظم نے کس اختیار کے تحت تقرریوں کی اجازت دی، یہ اختیار ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا ہے، دراصل تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کی سوچ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص میرے پاس آئے، اسی سوچ کو ہی دجالی کہا جاتا ہے۔ موجودہ نظام کسی صورت آگے نہیں بڑھ سکتا، آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں، خدشہ موجود ہے کہ یہاں بھی 5 اگست 2019ء جیسا سانحہ ہو سکتا ہے، جس طرح لوگ بے حس اور قومی معاملات سے لاتعلق ہو رہے ہیں حالات تباہی کی طرف جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر بھارتی جبر بڑھتا جا رہا ہے، غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں، کتنے لوگ احتجاج کے لیے نکلے ہیں؟ راجہ فاروق حیدر خان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کتنا عرصہ قائم رہتی ہے، دیکھنا ہو گا کہ اس حکومت کو لانے والوں کا جی بھرا یا نہیں، دوسری صورت یہ ہے کہ ممبران اسمبلی از خود کوشش کریں، جو ممبران 6 ماہ تک وزارتوں اور مراعات کے لیے دربدر رہے اور کسی نے بھی بولنے کی جسارت نہیں کی ان سے اسمبلی کے اندر تبدیلی کی امید رکھنا غیر مناسب ہے۔ ایک سوال پر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹیوں کے مطالبات کو از سرنو دیکھنے کی ضرورت ہے، ٹیرف پر بات کے بجائے بجلی کا حق مانگنا چاہیے، حق مانگنا کوئی جرم نہیں، اپنی سوچ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کی لاتعلقی اور سیاسی قیادت کی بے حسی کی وجہ سے عوامی ایکشن کمیٹیوں کے بیانیہ کو پذیرائی ملی، یہی سوچ مزید آگے بڑھی تو قومی سطح پر ناقابل تلافی نقصان ہو گا، معاملے کی حساسیت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے پاکستان کی قومی قیادت کو آزاد کشمیر کے سیاسی حالات کے حوالے سے بریف ہی نہیں کیا اور نہ ہی انہیں یہاں کے حالات سے آگاہ کیا ہے، دراصل ہمارے ہاں اوپر سے آنے والے احکامات کی تعمیل ہی فرض سمجھا جاتا ہے، قیادت کا کام قوم کی درست سمت میں رہنمائی اور آنے والے حالات کا ادراک کرنا ہو تا ہے، موجودہ ممبران اسمبلی کو کشمیری قیادت قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ مسلط شدہ لوگ ہیں جو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے آگے لائے گئے، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والی قیادت ہی مسلمہ اور اہل قرار دی جا سکتی ہے۔ بار بار کے تجربات نے آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی اور گورننس کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ مدتوں نہیں ہوسکے گا، مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں ہر شعبے میں بہتری لانے کی کوشش کی اور ہم بڑی حد تک کامیاب رہے، ہمارے بعد گورننس کی بہتری اور تعمیر و ترقی کا عمل رُک گیا جس سے عام آدمی کو نقصان پہنچا۔

By ajazmir