Tue. Jun 25th, 2024
397 Views

ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ)تھانہ پولیس لیپہ کے احاطہ میں مقامی شخص پر تشدد کا واقعہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہونے اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے ایس ایچ او وقت لیپہ افتخار اعوان سمیت سات پولیس اہلکاروں کو معطل کر تے ہوئے حاضر لائن پولیس جہلم ویلی کرنے کا حکم جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہونے کے بعد تھانہ پولیس لیپہ نے 30اکتوبر2023ء گرفتاریاں کیں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے شخص کا بھائی جو درخواست /مقدمہ میں نامزد ملزم نہیں تھا وہ گرفتار افراد سے صرف ملنے کے لیے تھانہ لیپہ پہنچا تو تھانہ میں تعینات پولیس اہلکاروں نے پہلے اسے کہا کہ رکشہ کا کرایہ دو اس شخص نے کہا کہ میں کرایہ کیوں دوں جس پر پولیس اہلکاروں نے اس کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کردی اور اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا واقعہ کی خبر اور ویڈیو میڈیا میں ہائی ہونے کے بعد مرکزی دفتر پولیس آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سے جاری شدہ حکم نمبر 39222-24سی پی او،پی ایس او میں کہا گیا ہے کہ تھانہ پولیس لیپہ کے احاطہ میں مورخہ تیس اکتوبر 2023ء کو ہونے والے واقعہ میں ملوث ملازمین کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1992ء کی روشنی میں تحت قواعد انکوائری اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس کرائم برانچ کو تفویض کی گئی ہے انسپکٹر جنرل پولیس نے واقعہ میں ملوث ملازمین تھانہ پولیس لیپہ ایس ایچ او وقت محمد افتخار اعوان،تفتیشی ہیڈ کا نسٹیبل محمد سرور،عبدالحمید ہیڈ کانسٹیبل،محمد منیب کانسٹیبل،زوالفقار رفیق کانسٹیبل،انصر لون کانسٹیبل،طفاقت احمد عباسی ڈی ایف سی کو معطل کرتے ہوئے حاضر لائن جہلم ویلی کیے جانے کی منظوری صادر کی ہے عوامی حلقوں نے انسپکٹر جنرل پولیس کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے دریں اثناء مورخہ 18نومبر2023ء کے روز آفاق خان ولد سرور خان ساکنہ غئی پورہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ اچانک انھیں والد کی کال آگئی انھوں نے موٹر سائیکل سائیڈ پر کھڑا کر کے والد سے بات چیت شروع کی تو اسی دوران موجودہ ایس ایچ او لیپہ یونس بٹ نے وہاں سے گذرتے ہوئے گاڑی سے نیچے اتر کر مبینہ طور پر آفاق خان کو تھپڑ مارتے ہوئے اس کے کپڑے پھاڑنے کے علاوہ ناجائز گالم گلوچ کی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی عوام علاقہ نے خیراتی باغ موڑ پر روڈ کو احتجاجا بند کر کے سخت احتجاج کیا تھا مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد ڈی ایس پی لیپہ ضیاء اللہ اور اسسٹنٹ کمشنر یاسر بخاری نے موقعہ پر پہنچ کر مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کرتے ہوئے انھیں ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد مظاہرین نے خیراتی باغ کے مقام پر بند کی گئی روڈ کو کھول دیا 18نومبر کے روز ایس ایچ او لیپہ کی جانب سے شہری پر تشدد،گالم گلوچ اور کپڑے پھارنے کے واقعہ کے تین روز گذرنے کے بعد ان کے خلاف کسی کارروائی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہو ئی عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے قانون ہاتھ میں لینے والے ایس ایچ او لیپہ یونس بٹ کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔۔۔۔۔

By ajazmir