Thu. Jul 25th, 2024
667 Views

ایس ایچ او لیپہ علاقہ کا ڈان بن گیا موٹر سائیکل سوار پر تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے کپڑے پھار دیے،ناجائز گالم گلوچ واقعہ کے بعد عوام علاقہ کی روڈ بند کر کے ایس ایچ او کے خلاف نعرے بازی،احتجاجی مظاہرہ ایس ایچ او کی معطلی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق آفاق خان ولد سرور خان ساکنہ غئی پورہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ اچانک انھیں والد کی کال آگئی انھوں نے موٹر سائیکل سائیڈ پر کھڑا کر کے والد سے بات چیت شروع کی تو اسی دوران ایس ایچ او لیپہ یونس بٹ نے وہاں سے گذرتے ہوئے گاڑی سے نیچے اتر کر مبینہ طور پر آفاق خان کو تھپڑ مارتے ہوئے اس کے کپڑے پھاڑنے کے علاوہ ناجائز گالم گلوچ کے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی عوام علاقہ نے خیراتی باغ موڑ پر روڈ کو احتجاجا بند کر کے سخت احتجاج کیا اس موقعہ ایک شہری نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او نے غنڈہ گردی مچائی ہوئی ہے کوئی بھی بات کرنے سے قبل گالم گلوچ کرتے ہیں بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی گالم گلوچ کی جاتی ہے ایس ایچ او لیپہ کے تشدد کا نشانہ بننے والے آفاق خان کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا بنہ مولا کام کے سلسلہ میں گیا تھا ایس ایچ او نے گالم گلوچ کی،کپڑے پھاڑ دیے اور تھپر مارے اگر میرے بچے نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی تو ایس ایچ او کا کام تھا چلان کرتے کون سا قانون ایس ایچ او کو تشدد،گالم گلوچ اور کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتا ہے ایس ایچ او سے جواب لیے بغیر ہم خاموش نہیں رہیں گے مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد ڈی ایس پی لیپہ ضیاء اللہ اور اسسٹنٹ کمشنر یاسر بخاری نے موقعہ پر پہنچ کر مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کرتے ہوئے انھیں ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد مظاہرین نے خیراتی باغ کے مقام پر بند کی گئی روڈ کو کھول دیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ایس ایچ او کی جانب سے تشدد،گالم گلوچ اور کپڑے پھاڑنے کے واقعہ کا ازالہ نہ ہوا تو ہم سخت ترین احتجاج کریں گے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کے ذمہ داران پر عائد ہو گی یاد رہے کہ ایک ماہ کے عرصہ میں لیپہ پولیس کی جانب سے عام شہری پر تشدد کا یہ دوسرا واقعہ ہے

By ajazmir