Wed. Jun 26th, 2024
437 Views

ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ)سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ کا ایک روزہ دورہ جہلم ویلی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہٹیاں بالا اور سید طاہر ہمدانی مرحوم میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ سیزن ٹو کی اختتامی تقریب میں پہنچنے پر مہمان خصوصی کا شاندار استقبال کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ دورہ جہلم ویلی کے دوران سب سے پہلے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہٹیاں بالا پہنچے جہاں پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہٹیاں بالا راجہ پرویز اقبال ایڈووکیٹ، اسد چغتائی ایڈووکیٹ،محمد شفیع ایڈووکیٹ، گلزار نسیم ایڈووکیٹ، عقیل عثمانی ایڈووکیٹ،چوہدری عبدالجبار ایڈووکیٹ،سید شاہد ہمدانی ایڈووکیٹ، شیخ شاہد ایڈووکیٹ، راجہ جمیل صدیق ایڈووکیٹ، شکیل کیانی ایڈووکیٹ، اعزاز کھوکھر ایڈووکیٹ، نثار علی چک ایڈووکیٹ،ساجد مغل ایڈووکیٹ، سید جواد ہمدانی، سید ظاہر ہمدانی، سید نور محمد شاہ، ڈاکٹر قاضی ذوالفقار، سید اکرم شاہ، سید بلال ہمدانی، سید عثمان ہمدانی، سید مقبول شاہ، سید واجد ہمدانی، سید حامد ہمدانی نے ان کا شاندار استقبال کیا،

ڈسٹرکٹ بار جہلم ویلی میں وکلاء اور سول سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ جہلم ویلی آکر بڑی خوشی ہوئی آپ کی دی ہوئی عزت کو ہمیشہ یاد رکھوں گا ڈسٹرکٹ بار جہلم ویلی کے نوجوان وکلاء کو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر سامنے لانے کے لئے بھر پور تعاون کروں گانوجوان وکلاء رابط رکھیں سکالرشپ کے زریعے بیرون ممالک میں بھی بھیجوائیں گے اپنے طور طریقوں میں تبدیلی لائی جانی چاہیے ہر ایک کے پاس الگ الگ سکل موجود ہوتی ہے جس سے ملک و قوم کو فائدہ ملتا ہے اس لئے سب کو آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے، پاکستان کے عوام کے دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں پاکستانی عوام ہر لمحہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہیں گے پانچ اگست2019ء کوجب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارت کی طرف سے تبدیل کی گئی تو مجھ سے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور اس وقت کے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے نے رابطہ کر کے مشورہ پوچھا کہ اس پر کیا ردعمل دیا جائے اس پر میں نے بطور قانون دان بتایا کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی،انڈیا کے قانون اور پاکستان، بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے بھارتی وکلاء جو بھارتی اقدامات کے خلاف عدالتوں میں کیس لڑ رہے ہیں وہ بھی بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ بھارتی اقدامات قانون کے خلاف ہیں اسی لیے بھارتی وکلاء بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیر کے ایشو پر ہم سب وکلاء نے قانونی جنگ لڑنی ہے اس کے لیے ہم سب کو زیادہ سے زیادہ تیاری کرنی چاہیے کہ ہم کیسے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مقدمہ بہتر سے بہتر لڑ سکتے ہیں میں نے کشمیر پر قانون کے حوالہ سے بہت کام کیا ہے جسٹس منظور الحسن گیلانی کا بہت معترف ہوں وہ انتہائی بین الاقوامی اور کشمیر کے قانون کے سپیشلسٹ ہیں کئی مقامات پر میری اور انکی گفت و شنید ہوتی ہے اور ہم اپنے نوٹس کا تبادلہ کرتے ہیں میں یہ چاہتا ہوں ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑنے میں سابق سینئر وزیر آزاد کشمیر مرحوم صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر سمیت چند شخصیات کے ساتھ ساتھ جہلم ویلی اور آزاد کشمیر کے ہر وکیل کا نام بھی آنا چاہیے اس کے لیے سب وکلاء کو ریسرچ اور محنت کرنے کی اشد ضرورت ہے تانکہ نئے اسحاق ظفر کے نام بھی جہلم ویلی بار اور آزاد کشمیر بھر سے سامنے آئیں جو کشمیری عوام کی ملکی اور انٹر نیشنل سطح پر وکالت کر رہے ہوں آج کے دور میں ہر شخص دنیا کے ہر حصہ سے جڑا ہوا ہے جہلم ویلی کے وکلاء کی زیادہ زمہ داری ہے کہ کشمیر کے کیس کی تیاری جہلم ویلی بار سے فوری شروع کریں وکالت بہت بڑا ہتھیار ہے وکیل کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا اس لیے وکلاء کو اپنی ریسرچ مزید تیز کرنا ہو گی تانکہ کشمیر میں مزید اسحاق ظفر جیسے وکیل پیدا ہوں جہلم ویلی بار کی انٹرنیشنل سطح پر بڑی اہمیت ہے یہاں کے وکلاء کی انٹرنیشنل سطح پر بات زیادہ سنی جائے گی میں یہاں کے وکلاء کے چہروں پر چمک دیکھتا ہوں اگر جہلم ویلی کے وکلاء مزید محنت کریں تو یہاں کا نام بہت اوپر تک جا سکتا ہے جہلم ویلی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بھی مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں کیونکہ وہ کشمیریوں کا مقدمہ بھرپورانداز میں ہر جگہ پیش کرتے ہیں 1973ء کا آئین پاکستان کا خوبصورت ترین آئین ہے ہم یہ سمجھتے ہیں اس آئین کو اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے جب ہم نئے نئے وکالت کرتے تھے تویہ ڈر رہتا تھا کہ مارشل لاء آج لگے گا کل لگے گا لیکن اب وہ دور ختم ہو گیا ہے سب کو سمجھ آگئی ہے اب کوئی ایک پارٹی یا ادارہ پاکستان کے بارہ میں فیصلہ نہیں کرسکتا سب کو اکھٹے بیٹھنا ہو گا تب ہی جاکر پاکستان کے بارہ میں بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں اب ہر ادارے کی مناپلی ختم ہو گئی ہے جو پہلے دور میں ہوا کرتی تھی یہ ملک ان شاء اللہ آگے بڑے گا اسرائیل فلسطین میں بین الاقوامی قوانین کی سخت ترین خلاف ورزی کررہا ہے جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اس پر ہر پاکستانی اور کشمیری کے آنسو بہہ رہے ہیں وہاں کی ویڈیوز دیکھی بھی نہیں جا سکتی ہیں مسلمان ممالک فلسطین کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ انھیں فوری طور پر کرنا چاہیے جن کرائسز سے امت مسلمہ کو گذرنا پڑ رہا ہے یہ بہت بڑی آزمائش ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ فلسطین جا کر انکی خدمت کرے لیکن بے بسی کی وجہ سے وہا ں جا نہیں سکتا ہے مسلمان ممالک جب اکھٹے ہو جائیں گے تو پھر اسرائیل کی ہمت نہیں ہو گی کہ وہ فلسطین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے فلسطین میں ہونے والے مظالم کی دنیا میں کوئی تاریخ نہیں ملتی ہے ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،دریں اثناء سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے جہلم ویلی کرکٹ سٹیڈیم ہٹیاں بالا میں سید طاہر ہمدانی مرحوم میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ سیزن ٹو کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی،

اس موقعہ پر چیئرمین ضلع کونسل جہلم ویلی طیب منظور کیانی،انسپکٹر انکم ٹیکس انصر نقوی،ممبر ضلع کونسل جہلم ویلی نمبردار ساجد ہمدانی،سابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب سید ظاہر حسین ہمدانی،واجد ہمدانی،جواد ہمدانی،عدنان فاطمی،ڈاکٹر ذوالفقار قاضی،اسامہ کلیم چغتائی،امجد اعوان،سید نور محمد شاہ ہمدانی،اکرم ہمدانی،اسرار ہمدانی، بلال ہمدانی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ خان سپورٹس سراں بمقابلہ المنصور کرکٹ کلب چناری،گھڑتھامہ کے درمیان کھیلا گیا،خان سپورٹس سراں نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا،المنصور کرکٹ کلب چناری،گھڑتھامہ نے مقررہ اوورز میں 141 رنز کا ہدف دیا جواب میں خان سپورٹس سراں 129 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی اس طرح المنصور کرکٹ کلب چناری،گھڑتھامہ نے فائنل میچ 13 رنز سے اپنا نام کیافائنل میچ کے بہترین کھلاڑی سجاول عباسی قرار پائے جنہوں نے 15 بالز پر 30 رنز اور 4 اوور میں 15 رنز دیکر 2 بڑے کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ٹورنامنٹ آرگنائز سید مدثر طاہر نے مہمان خصوصی سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی کا جہلم ویلی میں دو مختلف تقریبات میں شرکت کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیادونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں مہمان خصوصی سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی اور دیگر مہمانوں کی طرف سے انعامات تقسیم کیے گئے ونر ٹیم کو 50 ہزار جبکہ رنر آپ ٹیم کو 15 ہزار روپے انعام دیا گیا۔مہمان خصوصی سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے دونوں ٹیموں کو اچھا کھیل پیش کرنے پر جبکہ بہترین ٹورنامنٹ آرگنائز کرنے پر سید مدثر طاہر، سید وسیم طاہر،سید فیصل ہمدانی اور انکی پوری ٹیم کو خصوصی مبارکباد دی

By ajazmir