Fri. May 24th, 2024
526 Views
“محکمہ تعلیم اور میر ٹ کی با لادستی”
تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
                        امتحان اور آزمائش کے ذریعہ  چھپی ہوئی صلاحتیں نکھرتی ہیں، لہذا امتحان کی روشنی میں ان صلاحیتوں  کا نکھرنا، انسان کی ترقی و کمال کا باعث بنتا ہے۔امتحان اورآزمائش انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتی ہے ۔۔امتحان اور آزمائش انسان کو اوج کمال تک پہنچاتے ہیں۔ خالق کائنات نے سورہ ملک کی پہلی اور دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے ’’بابرکت ہے وہ (خدا) جس کے ہاتھ (قبضہ قدرت) میں (کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ وہ بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے- دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں سب انسان اپنی قابلیت کے مطابق پر چے حل کر کے اسں امتحان گاہ سے چلے جاتے ہیں ۔ مگر اس امتحان کا نتیجہ آخرت میں سنایا جائے گا ۔ اسی کی بنیاد پر سزا اور جزا کا فیصلہ ہوگا۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے۔ اس لئے روز  جزا والے دن تمام انسان اللّٰہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کی تعریف کریں گے ۔اسی طرح اگر ذاتی پسند و نا پسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ کی بالادستی کو نصیب العین بنا لیا جائے تو معاشرے کےافراد کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔مسابقتی امتحانات  میرٹ کی بالادستی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ان کے زریعے افراد کو  قابلیت اور صلاحیتوں کے جوہر دکھانے اوراعلیٰ سماجی خدمات انجام دینے کا موقع ملتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسابقتی امتحانات کے ہی ذریعے   اہلکاروں کو ان کے خاندانی کنکشن یا دولت کے بجائے ان کی اہلیت کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔  یہ ہی وجہ ہےایک کسان کا بیٹا مطالعہ اور محنت کر کے  اعلیٰ حکومتی اہلکار بن جاتا ہے۔ تمام محکموں میں میرٹ کی بالادستی بہت ضروری ہے۔ چونکہ محکمہ تعلیم کا شعبہ ہی تمام شعبہ ہائے زندگی کی ماں ہے اسلیے اس میں میرٹ کی بالادستی نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے۔نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے ہمارے ہاں محکمہ تعلیم میں میرٹ پر  آنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے
 ۔  مقابلے کے امتحانات کے انتظار میں کئی لوگوں کی عمریں گزر جاتی  ہیں۔ اللّٰہ اللّٰہ کر کے اگر امتحان کا انعقاد ہو بھی جائے تو اسکی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں ، خاص طور پر زبانی امتحان کے مرحلے میں  پسند و نا پسند کی بنیاد پر  بہت سے اہل اہلکار مقابلے دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اگر یہ تمام مراحل طے کر کے کوئی میرٹ پر آ بھی جائے  تو اس کے صبر کا مزید امتحان لیا جاتا ہے۔ جو مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوتا ہے وہ تو پر سکون ہو جاتا ہے مگر میرٹ پر آنے والا انتظار کی سولی پر لٹک جاتا ہے ۔ اس وقت ہمارے بہت سے نوجوانان جو پی ایس  سی کا امتحان پاس کر کے میرٹ پر آئے ہیں تقرری نہ ہونے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں۔   میری وزیراعظم آزاد کشمیر سے درخواست ہے اس مسئلے کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے حق دار کو اسکا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

By ajazmir