Thu. Jul 25th, 2024
288 Views

“عزت دار چور”

تحریر:فرخندہ ظفر

عام استعمال میں کسی شخص کا مال اس کی مرضی یا اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر لے لینے کو چوری کہتے ہیں جبکہ ایسا عمل کرنے والا چور کہلاتا ہے۔چوری کو کسی بھی معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا اور نہ ہی چور کی کوئی عزت ہوتی ہے۔اسلام میں چوری کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ عربی زبان میں چور کے لیے سارق کا لفظ وارد ہوا ہے اور ایسے شخص کے لیے کافی وعید آئی ہے۔ آخرت میں سخت عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی کافی سخت سزا سنائی گئی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو اس عورت کی فکر پیدا ہوئی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، فتح مکہ کے موقعہ پر چوری کی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سفارش کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے سامنے سوائے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے اتنی جرات کون کر سکتا ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہیتے ہیں۔ آخر وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کی سفارش کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصے کی وجہ سے) بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کی حد میں سفارش کرتا ہے؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے لئے معافی کی دعا کیجئے۔ جب شام ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جیسے اس کو شایان ہے، پھر اس کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے تباہ کیا کہ جب ان میں عزت دار آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب غریب (ناتواں) چوری کرتا تھا تو اس پر حد قائم کرتے تھے۔ اور میں تو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی بھی چوری کرے، تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے جو جتنا بڑا چور وہ اتنا ہی عزت دار ہے۔ایک روٹی چرانے والے کو تو حقیر سمجھا جاتا ہے جب کہ دوسری  جانب ملکی خزانے لوٹنے والے معتبر ہی رہتے ہیں۔جس معاشرے میں دودھ کی رکھوالی پر بھوکی بلیاں مامور ہوں تو اس معاشرے کا پھر اللہ ہی حافظ ہے۔توشہ خانہ ہی کی رپورٹ کو دیکھ لیجیے کوئی گاڑی چور نکلا تو کوئی گھڑی،کوئی قالین چور ہے تو کوئی گملا اور تو اور بھوکی بلیوں کی طرح یہ تو کھانے ،پینے کی چیزیں بھی چٹ کر گئے ۔ افسوس اس بات کا ہے یہ اپنے کئے پر بلکل بھی شرمندہ نہیں۔ بلکےبڑے فخر سے کہتے ہیں ہم تو چھوٹے چور ہیں جبکہ فلاح  بڑا چور ہے ۔ہماری معاشی بد حالی کی وجہ یہ ہی ہے کہ آج تک کسی بد عنوان یاچور کو عبرتناک سزا نہیں ہوئی ۔ اسی لئے یہ دھڑلے سے چوری کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔  یہ سلسلہ یوں ہی جاری وساری رہے گا جب تک کہ عوام میں شعور بیدار نہیں ہوتا ۔    کیونکہ چوری کرنے والا صرف چور ہوتا ہے اور وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہوتا۔

By ajazmir