Fri. May 24th, 2024
115 Views

مظفرآباد
حکومت کی طرف سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات میں کمی کے خلاف 13مارچ کو اسمبلی کے باہر احتجاج کا اعلان،آزاد کشمیر بھر کے منتخب بلدیاتی نمائندوں سے مشاورت مکمل،13مارچ کے بعد ریاست گیر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ۔اختیارات میں کمی کیے جانے پر منتخب بلدیاتی نمائندوں کا وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا گیا۔30سال بعد اگر میئرز اور کونسلرز کوبے اختیار کرنا تھا تو ریاست کے ایک ارب کے فنڈز کو کیوں ضائع کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار میئر میونسپل کارپوریشن مظفرآباد سکندر گیلانی نے سٹی صدر مسلم لیگ ن وکونسلر انجم زمان اعوان،سید عاصم نقوی،عادل قریشی،فضل محمود بیگ ایڈووکیٹ ودیگر کونسلرز کے ہمراہ مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ اس تحریک کو پورے آزاد کشمیر تک بڑھایا جائے گا۔ہم تمام ممبران ضلع کونسل،لوکل کونسلرز میئرز کو بے اختیار نہیں ہونے دیں گے۔اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر ہم سول سوسائٹی، تاجران اور دیگر تمام طبقات سے مل کر عوامی حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ہم بحیثیت سیاسی جماعت نہیں منتخب ہو کر آنے والے مینڈیٹ کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گے۔انتظامیہ اور اداروں سے الجھنا نہیں چاہتے اپوزیشن جماعتیں بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پورے آزاد کشمیر کے ممبران ضلع کونسل لوکل کونسلرز میئرز سے رابطے میں ہیں اور دارالحکومت سے اس احتجاج کی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں اور انکی مشاورت کے بعد احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے کونسلرز کا کہنا تھا کہ ان عہدوں پر بے اختیار چمٹیں گے نہیں بلکہ اختیارات حاصل کریں گے اس کے لیے خواہ ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔انہوں نے چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیں اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے سوال کیا کہ ان کے بلدیاتی نظام کی بحالی کیلئے دبنگ دعوے کہاں گے آج ان کی حکومت اختیارات ہی صلب کر رہی ہے جو کہ عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔عوامی حقوق پر کسی کو شب خون نہیں مارنے دینگے۔

By ajazmir