Mon. Apr 22nd, 2024
994 Views

انسانیت کا درد رکھنے والوں کے نام
تحریر،صائمہ پروین
عنوان: جسے میرے درد کا درد ہو اُسی مہرباں کی تلاش ہے۔
دنیا والو پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدر ہم سے پوچھئیے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اگرچہ اس نعمت کی طلب میں مسلسل دو سال سے میں  کوشاں ہوں مگر ابھی تک محرومی کا سامنا ہے۔ ابھی تو مجھے خود بھی اپنا دکھ سناتے ہوئے اور اس درد کی دوا مانگتے ہوئے شرم آتی ہے مگر کیا کروں زندگی جہدِ مسلسل کا نام جو ٹھہری۔ بے بسی اور لاچارگی میں شرم کو خاطر میں رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج اِس اُمید سے اک بار پھر کوشش کر رہی ہوں کہ شاید قدرت اپنے کسی نیک بندے کے روپ میں ہم پہ مہرباں ہو جائے۔ دردِ دل اور دردِ انسانیت رکھنے والو! میں آپ کی توجہ فقط اپنی اُس مشکل کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں مگر پھر بھی ہم زندگی کو جئیے جا رہے ہیں۔

دنیا والو! جیساکہ آپ جانتے ہیں پانی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر ہم ایسے وہی لوگ جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ دنیا بھر میں انسانوں کی کثیر تعداد منرل واٹر استعمال کر رہی ہے۔ جو لوگ منرل واٹر پینے کی استطاعت نہیں رکھتے, انکے لیے حکومتِ وقت یا مختلف فلاحی ادارے جگہ جگہ واٹر فلٹریشن پلانٹس لگا کر دے رہے ہیں تاکہ لوگ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں مگر ہم ہیں کہ آلودہ پانی کو بھی ترس رہے ہیں۔ یہاں پانی کا واحد ذریعہ قدرت کی طرف سے برسات میں برسنے والی بارشیں ہیں۔ عموماً لوگوں نے اپنے اپنے صحن میں چھوٹی چھوٹی ٹینکیاں بنائی ہوئی ہیں جن میں اپنے مکان کی چھت کا پانی ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ دوم اپنی اپنی بستی کے قریب چھوٹے چھوٹے جوہڑ تلاب بنا کر بارش کا پانی جمع کر لیتے ہیں اور خشک ہونے تک استعمال کرتے ہیں۔ انسانوں اور جانوروں میں کوئی تفریق نہیں، سبھی ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں۔ جانوروں کا پیشاب، گوبر اور ہر طرح کی دیگر غلاظت اس پانی میں شامل ہوتی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص یہاں موجود ہو جو گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں سے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا نہ ہو۔ اسکے باوجود ہم لوگ پھر بھی ناچار خوش ہیں کیونکہ گوبر پیشاب اور دیگر غلاظت ملا یہ پانی بھی ہمارے لیے آبِ حیات سے کم نہیں ہے۔1947ء سے لیکر ابتک درجنوں لیڈر اپنے اپنے انداز میں عوام کو جھوٹی تسلیاں دیتے چلے گئے مگر اس دیرینہ مسئلے سے کسی نے نجات نہ دلائی۔ میں بذات خود بھی اس مسئلے کو سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اجاگر کر چکی ہوں لیکن اندھی گونگی اور بہری آزاد کشمیر حکومت نے شاہد اس لیے میری آہ و بکاہ پہ کوئی توجہ نہ دی کہ میں ایک عام سی لڑکی ہوں اور ایک دو بار رو پیٹ کر خود ہی خاموش ہو جاونگی۔ البتہ میری التجاء پر جموں کشمیر لیکس نے اس مسئلے کو ضرور اُجاگر کیا مگر لاحاصل۔ بعد ازاں پرنٹ میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے سات مختلف اخبارات میں برطانیہ سے نامور صحافی جناب چوہدری عبدالعزیز صاحب اور شیراز خان صاحب کی وساطت سے کالموں کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا تاکہ ذمہ داران کی توجہ مبذول ہو لیکن پھر بھی کسی کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ اس کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے چند چینلز پر انٹرویوز دیے جو کہ میری وال پر موجود ہیں۔ اب کی بار میری فریاد پر اے سی صاحب برنالہ اور موجودہ سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی جناب چوہدری انوار الحق کی مہربانی سے “واٹر سپلائی اسکیم تھب” (جس پر مقامی مافیا کا قبضہ تھا اور وہ اسے اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور تھب سے زیریں بستیوں کو کئی دہائیوں سے پانی کی نعمت سے محروم رکھے ہوئے تھے) سے متاثرہ بستیوں میں پانی کی فراہمی کا عمل شروع ہو گیا مگر مذکورہ بالا بڑے مافیا سے ذیلی مافیا نے جنم لیکر پانی کا کنٹرول اپنے قبضے میں لے لیا اور سب متاثرین کو انصاف سے پانی کی فراہمی کے بجائے فقط اپنی اور اپنے تعلق داروں کی ضروریات کو پورا کرنے لگے ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ مختلف حیلے بہانے بنا کر ہماری بستی کو رفتہ رفتہ اس پانی سے مکمل طور پہ محروم کر دیا گیا ہے۔ اسکے باوجود مجھے خوشی ہے کہ میری کوششوں سے میری بستی کے علاوہ دیگر تمام متاثرہ بستیوں کو تو پانی مل گیا۔ انشاءاللہ ہمارے لیے بھی اللہ ضرور اسباب پیدا فرمائے گا۔اےانسانیت کا درد رکھنے والو! جیساکہ میں اوپر بیان کر چکی ہوں کہ پانی کی نمعت کے لیے ہر طرح سے کوشش کر چکنے کے بعد بھی ہم اس نعمت سے محروم ہیں۔ واٹر سپلائی سکیم کی صورت امید کی جو کرن نظر آتی تھی وہ کرن بھی طلوع ہو کر ڈوب گئی۔ اب ہر طرف سے مایوسی کے اندھیرے چھا چکے ہیں جن میں پانی کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ تاہم میں ابھی ہمت ہاری نہیں ہوں۔ ابھی اللہ اور اسکے نیک بندوں پہ مجھے بھروسہ باقی ہے جوکہ میری آخری کوشش اور آخری اُمید ہے جسے میں اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔اب یہاں زندگی جینے کے لیے واحد حل بستی کے نزدیک چھوٹی سی برساتی ندی پہ مٹی کا بندھ باندھ کر بارشوں کے پانی کی ذخیرہ اندوزی ہے جسے موٹر پمپ یا جنریٹر کے ذریعے ہم اہل بستی کو فراہم کیا جا سکتا ہے، جسکے لیے آپ سے اپیل گزار ہوں۔ لوگ دنیا والوں سے پیسوں کی بھیک مانگتے ہیں مگر میں پیسے نہیں پانی کی بھیک مانگ رہی ہوں تاکہ(حلقہ نمبر پانچ بر نالہ کی یوسی پتنی کےگاؤں آمگاہ وارڈ نمبر پانچ  کے لوگوں کی آبی ضرورت پوری ہوں ہمیں پانی کی نعمت عطا کرنے میں اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کیجیے۔ آپکی انفرادی یا اجتماعی مہربانی سے کم و بیش چھوٹے بڑے 229 نفوس پانی کی نعمت سے مستفید ہونگے جن کی دعائیں یقیناً آپکو دنیا میں فرش سے تخت پر بٹھا سکتی ہیں اور آخرت میں جنت کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ پانی سے بڑھ کر اور کوئی بڑا صدقہ جاریہ نہیں ہے۔ لہذا اپنی دنیا و آخرت سنوارنے اور اپنے والدین و عزیز و اقارب کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ہم بے بسوں کی خاطر اللہ سے تجارت کیجیے۔ پانی کی بوند بوند کو ترستے لوگوں کو پانی کی فراہمی کے لیے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عمل کو دہرائیے۔

اپیل گزار آپ کی بہن/بیٹی صائمہ پروین
bkwt.barnala@gmail.com

By ajazmir