Sat. Nov 26th, 2022
190 Views

تحریر ۔ فر خندہ اسحاق ظفر ۔

 

ہمارے معاشرے میں استاد کا مقام

۔ استاد وہ معمار ہےجو لوہے کو تپا کر کندن ،پتھر کو تراش کر ہیرا جبکہ زمین کو سینچ کر کھلیان بناتا ہے۔یہ استاد ہی جو انسان کو دنیا میں رہنے اور جینے کا ہنرسیکھاتا ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنے مقام ومرتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ۔مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف پڑھا دیا میں اسکا غلام ہوں خواہ وہ مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ معلم کو درس وتدریس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ انتظامی امور اور عہدوں پر فائز کرتے تھے۔ہارون رشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم میں کھڑا ہو جاتا
درباریوں نے کہا کہ اس سلطنت کا رعب جاتا رہتا ہے۔تو بادشاہ نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب جاتا ہے تو جائے
وہ قومیں ترقی کی منازل طےکرتیں ہیں جو معلم کی عزت کرتیں ہیں ۔جرمنی میں اساتذہ کو سب سے زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے۔جب ججز ،ڈاکٹر،انجینئر نے احتجاج کیا اور اساتذہ کے برابر تنخواہ کا مطالبہ کیا تو جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے اس پر کہا۔میں آپ لوگوں کو ان کے برابر کیسے کر دوں جہنوں نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔فرانس کی عدالت میں ٹیچر کے سوا کسی کو کرسی پیش نہیں کی جاتی۔چاپان میں پولیس کو ٹیچر کی گرفتاری سے پہلے حکومت سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔کوریا میں کوئی بھی ٹیچر اپنا کارڈ دکھا کر ان تمام سہولیات سے جو اسمبلی ممبران کو دی جاتی ہیں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اشفاق احمد لکھتے ہیں ۔جب میں اٹلی کے شہر روم میں تھا تو ایک بار اپنا جرمانہ بر وقت ادا نہ کرنے پر مجھے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑا
جب جج نے مجھ سے پوچھا کہ جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کیوں ہوئی تو میں نے کہا کہ میں ایک ٹیچر ہوں اور کچھ دنوں سے مصروف تھا۔اس سے پہلے کہ میں اپنا جملہ مکمل کرتا،جج اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور بآواز بلند کہنے لگا ۔عدالت میں ایک استاد تشریف لائے ہیں۔یہ سنتے ہی عدالت میں موجود سب لوگ کھڑے ہو گئے۔اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اس قوم کی ترقی کا راز کیا ہے۔ بلا شبہ کسی قوم کی ترقی کا راز اسکی علمی استعداد میں پہناں ہے۔تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا قابل اور مخلص اساتذہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ اہل علم کی ناقدری ہے ۔ جس معاشرے میں معلم کی ایک دن کی اجرت پندرہ سو جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے کا یومیہ خرچہ ایک ہزار ہو،چھے گھنٹے کی تدریس کروانے کے لئےاسے تین سے چار گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہو معلم چاہے جتنا بھی مخلص کیوں نہ ہواپنے پیشے سے انصاف نہیں کر سکتا۔ نہ بیٹھنے کی جگہ ہو اور نہ ہی پڑھانے کی ایک ہی کمرے میں بیک وقت چار سے پانچ کلاسز درس و تدریس میں مشغول ہوں جبکہ طلباء کی اکثریت کتابوں اور کاپیوں سے محروم ہوایسی صورتحال میں ٹیچر کیا خاک تدریس کروائے گا۔ جہاں میرٹ پر ہونے کے باوجود ٹیچر کو تقرریوں و تبادلہ جات کے لئے سفارش کا سہارا لینا پڑتا ہو ، کروڑوں کے فنڈز غائب ہو جاتے ہو،تعلیمی قابلیت اور کارکردگی کے بجائے عہدے دار کی تعظیم ہو چاہے وہ اس عہدے کا اہل بھی نہ ہو توایسے نظام تعلیم پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اساتذہ کے ساتھ ساتھ وزیروں،مشیروں اور بیوروکریٹس کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروائے۔ جب سیاست دانوں کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھے گے تب جا کر محکمہ تعلیم سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو گا ۔جب بیوروکریٹس کے بچے سرکاری سکولوں
سے تدریس حاصل کریں گے تبھی فنڈز کی تقسیم میں شفافیت ہو گی اور محکمہ تعلیم میں موجود نا اہل لوگوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

By ajazmir