Sun. Sep 25th, 2022
306 Views

“جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو
ڈٹ جاؤ تم حسینؓ کے انکار کی طرح

تحریر۔ایڈووکیٹ نعمان سعید ترین
____________
یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر کی تاریخ کا سب سے بونڈا/انوکھا بدترین فیصلہ جامعہ کشمیر کے وائس چانسلر کلیم عباسی نے جامعہ کشمیر میں پچھلے 10، 12 سالوں سے تعینات درجہ چہارم کہ تمام چھوٹےملازمین جن میں خاکروب،نائب قاصد،مالی،ٹیبل گرل،ٹیبل بوائے، ٹیلی فون اٹینڈنٹ،کنڈکٹر، باورچی، تندورچی، کک، گارڈز،مشین آپریٹر،لائبریری اٹنڈنٹ، لابٹری اٹینڈنٹ، کلرکس،DEO وغیرہ کو ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا جن میں سے بیشتر افراد باقاعدہ بذریعہ اشتہار حسب سفارش سلیکشن کمیٹی لگائے گئے اور جن کی باقاعدہ ہر چھ ماہ بعد توسیع کی جاتی رہی ہے اور ہر بار اگلی دفعہ پکہ کرنے کا لالی پاپ دے کر بھرپور کام لیا جاتا رہا اور جو کہ اب ذائد عمر بھی ہو چکے ہیں کو وائس چانسلر نے زاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر تقریباً 250 میں سے تقریباً 150 ملازمین کوبلا جواز HEC کی طرف سے جھوٹا اور بے بنیاد خط کو بنیاد بنا کر فارغ کردیا کے وائس چانسلر کے اس ظالمانہ اقدام کی تقریباً تمام سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹیز اور طابقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ذی شعور لوگ بھرپور انداز میں مذمت کر رہے ہیں اور جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے وائس چانسلر کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف ہم جامعہ کشمیر کے تمام سبکدوش ملازمین کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور ان کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے آپ کی بحالی تک کلیم عباسی کوچین سے نہیں بیھٹنے دیں گے درجہ چہارم کے ان ملازمین کو اس طرح فارغ کرنا اور ان کے بچوں کا رزق چھیننا کسی طرح سے اچھا و درست عمل نہ ہے اور نہ ہی کسی طور پر ایسا ظالمانہ اقدام قابل قبول ہے ہم حکومت وقت صدر/چانسلر جامعہ کشمیر اور وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور تمام ذمہ دران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف فل فور ایکشن لیا جائے اور وائس چانسلر کلیم عباسی کے اس ظالمانہ بے ایمانہ اور بد نیتی پر مبنی اقدام پر کیمیشن بنا کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے ورنہ اس ظالمانہ اقدام اور بد نیتی پر مبنی اقدام کے سخت نتائج سامنے آ سکتے ہیں جس کی تمام طرح ذمہ داری حکومت پر ہو گی. ہم جامعہ کشمیر کے سبکدوش ملازمین کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق قائم رکھیں آپ اکیلے نہیں ہیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ اور لب لالچ میں آنے سے گریز کریں آپ حق پے ہیں اور انشاءاللّہ فتح حق و سچ کی ہو گی اور ان وقت کے فرعونوں/یزیدوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اور ظلم کے خلاف ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں کیونکہ ظلم آخر ایک دن مٹ کر رہتا ہے… تاریخ میں زندہ وہی لوگ رہتے ہیں جو اپنے حق کے لیے لڑتے ہیں تاریخ ہمیشہ ٹکرانے والوں کی لکھی جاتی ہے بھاگنے والوں کی نہیں……

°ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکوں
نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوت للکار نہیں°

“ایڈوکیٹ نعمان سعید ترین”

By ajazmir