Sun. Sep 25th, 2022
234 Views

حرمت شراب ،قرآن وحدیث کی روشنی میں
تحریر :۔سید محمداسحاق نقوی
اہل عرب شراب کے رسیا تھے ، پانی کی طرح شراب پی جاتی تھی لیکن کچھ سلیم
الفطرت لوگ شراب سے متنفر بھی رہتے تھے چنانچہ ایک بار حضرت عمرفاروق ؓ
اورحضرت معاز ؓ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں گزارش کی کہ یارسول اللہ ﷺ
ہمیں شراب کے متعلق حکم دیجئے کیونکہ یہ عقل زائل کرنے والی اورمال ضائع
کرنے شے ہے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، ”یَسئلونک عن الخمر
والمیسر ، قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “(سورہ
البقرہ آیت نمبر ۹۱۲) ترجمہ ، وہ سوال کرتے ہیں آپ سے شراب اورجوئے کی
بابت ،آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اورکچھ فائدے بھی ہیں لوگوں
کےلئے اور (لیکن ) ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے ، یعنی یہ درست
ہے کہ شراب سے عارضی سرور بھی حاصل ہوتا ہے اورجوئے سے بغیر محنت ومشقت
کے کچھ دولت بھی حاصل ہوجاتی ہے لیکن ان کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ان
کے سامنے اس قلیل نفع کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ، چونکہ اس آیت کریمہ میں
صراحتاً شراب سے روکا نہیں گےا تھا بعض لوگوں نے شراب ترک کردی اوربعض
پیتے رہے ، عرب میں شراب کااستعمال عام تھا اگر اسے یک لخت حرام کردیا
جاتا تو مسلمان بڑی مشکل میں پڑجاتے اس لیے حکیم وعلیم رب کریم نے اس کی
حرمت کے احکام تدریجاً نازل فرمائے ،ابتداء(متذکرہ آیت میں ) صرف اتنا
بتا دیا کہ یہ مُضر اورنقصان دہ چیز ہے ، اس کے بعض لطیف طبیعت والوں نے
شراب چھوڑدی ، ایک روز حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ہاں کئی
مہمان مدعو تھے کھانے کے بعد دور شراب چلا جب وہ اس کے نشہ سے جھوم رہے
تھے تو مغرب کی نماز کا وقت آگیا ایک صاحب امامت کےلئے آگے بڑھے اوراتفاق
سے سورة فاتحہ کے بعد سورة الکافرون پڑھی اورمدہوشی میں (لااعبد ماتعبدون
، کی جگہ اعبد ما تعبدون ) پڑھ گئے جس سے معنی بالکل بدل گیا (میں بھی ان
کی عبادت کرتا ہوں جن کی تم کرتے ہو ) تو اس وقت یہ آیت مقدسہ نازل ہوئی
” یا یھا الذین امنوا لاتقربو االصلوة وانتم سکارٰی حتیٰ تعلموا ما
تقولون ، (پارہ ۵واں ،سورة النساءآیت نمبر ۳۴) ترجمہ اے ایمان والو ، نہ
قریب جاﺅ نماز کے جبکہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو
جو زبان سے کہتے ہو ،اس آیت مبارکہ میں نشہ کی حالت میں نماز ادا کرنے سے
روگ دیا گیا ،بارگاہ الٰہی میں حاضری کے آداب سیکھائے جارہے ہیں تاکہ
قیامت کی حاضری آسان ہو ، بتایا گیا ہے کہ باادب اورہوشیار ہو کر نماز
ادا کرو کیونکہ نماز بارگاہ الٰہی میں حاضری کی ایک ادا ہے ، مدہوشی کی
حالت میں حاضری آداب شاہانہ کے خلاف ہے ، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد
لوگوں نے نماز کے اوقات میں شراب پینا ترک کردیا ،اس کا اثر یہ ہوا کہ ان
میں شراب کا استعمال بند ہوگیا ،عشاءکی نماز کے بعد پینے والے اس کا شوق
پورا کردیتے ،پھر کچھ ہی دنوں بعد ایک محفل کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام
عتبان بن مالک نے کیا تھا ،شرکاءمحفل میں شراب کے جام چلنے لگے ،پینے
والوں کو خمار چڑھنے لگا تو وہ اپنے اپنے قبیلوں کی تعریف میں زمین
وآسمان کے قلابے ملانے لگے ،لاف زنی شروع ہوئی ، کسی صاحب نے انصار کی
ہجو میں شعر کہہ دیا ،ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اس کے سر پر دے
ماری اورسر پھوڑ دیا ،بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں شکایت کی گئی ،حضرت عمر
فاروق ؓ بھی وہیں موجود تھے انہوں نے بھی نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں التجا
کی کہ دعا فرمائیے ،رب العزت شراب کے بارے میں واضح حکم نازل فرمائے ،
اسی عرصہ میں چند ایسے واقعات اوربھی رونما ہوچکے تھے جس سے شراب پینے کے
مفاسد اورنقصانات کا صحابہ کرام ؓ کو زیادہ سے زیادہ احسا س ہونے لگا تھا
جب ایمان پختہ ہوگئے ،اسلامی تعلیمات کے پاکیزہ اثرات صاحبان ایما ن کے
قلوب وروح میں جاگزیں ہونے لگے اوراللہ تعالیٰ اوراس کے رسول مقبول ﷺ کے
ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی عادت فطرت بن گئی تو پھر حرمت شراب
کا واضح حکم آگیا یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ،”یایھاالذین امنوا انما
الخمروالمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطٰن ، فاجتنبوا لعلکم
تفلحون ، پارہ ۷واں سورة المائد ہ آیت نمبر ۰۹) ترجمہ ، اے لوگو ایمان
والو ، بے شک شراب اورجوا اوربُت اورجوئے کے تیر سب ناپاک ہیں اورشیطان
کی کارستانیاں ہیں سوبچو ان سے تاکہ تم فلاح پاﺅ ، اس سے اگلی آیت نمبر
۱۹ بھی اسی حوالہ سے ہے ،”انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العدوة
والبغضآءفی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوة فھل انتم منتھون
سورہ المائدہ آیت نمبر ۱۹، ترجمہ بے شک یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے
تمہارے درمیان عداوت اوربغض ،شراب اورجوئے کے ذریعے اورروک دے تمہیں یاد
الٰہی سے اورنماز سے تو کیا تم باز آنے والے ہو (ان دونوں آیات کے نزول
کے بعدحضور نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کو حکم فرمایا کہ مدینہ منورہ کی گلی
کوچوں میں پھر کر بلند آواز سے ان آیات کا اعلان کرے ،جب منادی کرنے والا
اعلان کرے نکلا تو کئی جگہ شراب کی محفلیں آراستہ تھیں مے خوار جمع تھے
جام گردش میں تھے جو نہی کان میں ان آیات مبارکہ کی آواز پہنچی ہاتھوں
میں اٹھائے ہوئے پیالے زمین پر پھینک دئیے ،ہونٹوں سے لگے ہوئے جام خود
بخود الگ ہوگئے ، جام وسبو توڑدئے گئے ،مشکوں ،مٹکوں اورصراحیوں میں بھری
ہوئی شراب انڈیل دی گئی ،وہ چیز جو انہیں حددرجہ محبوب تھی اب گندے پانی
کی طرح گلیوں اورنالیوں میں بہہ رہی تھی ،حیرت یہ ہے کہ اس کے بعد کسی
صحابی نے شراب پینے کی خواہش کا اظہار تک نہ کیا، قرآن مجید کی اثرآفرینی
،حضورنبی کریم ﷺ کے فیض تربیت ، صحابہ کرام ؓ کی کامل ترین اطاعت
وفرمانبرداری ،دین اسلام کی انقلاب آفریں قوت کا وہ فقید المثال مظاہر ہ
ہے جس کی تاریخ عالم میں کوئی مثال نہیں ملتی ،شراب کے زہر یلے اثرات
دیکھ کر یورپ اورامریکہ کے ڈاکٹر ،دانشور لرزہ براندام ہیں اس مصیبت سے
قوم کوچھٹکارہ دلانے کےلئے بڑی بڑی مخلصانہ اورحکیمانہ کوششیں جاری کی
جارہی ہیں ،حکومت امریکہ نے پورے چودہ سال تک شراب کے خلاف زوروشور سے
جدوجہد جاری رکھی اوراس کاوش میں نشرواشاعت اورپروپیگنڈے کے جدید ترین
اورمضبوط ترین وسائل اختیار کیے ،اخبارات ،رسالے ،لیکچر،تصاویر اورفلمیں
سبھی شراب سے نفرت دلانے کےلئے مصروف عمل رہے اس مہم پر حکومت نے تقریبا
ً چھ کروڑ ڈالر (ساٹھ کروڑ روپیہ)خرچ کیا ، پچیس کروڑ پونڈ کا خسارہ
برداشت کیا ،تین سو افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ،پانچ لاکھ سے زائد
اشخاص کو قید وبند کی سزائیں دی گئیں ،بھاری جرمانے کئے گئے ،بڑی بڑی
جائیدادیں ضبط کی گئیں لیکن یہ سارے حربے بے کار ثابت ہوئے آخر حکومت کو
اپنی شکست فاش کا اعتراف کرنا پڑا اوراس نے شراب نوشی جس کے خلاف عرصہ
دراز سے وہ معرکہ آراءرہی تھی کو ۳۳۹۱ءمیں قانوناً جائز قرار دیا ۔
اسی طرح برطانیہ میں جو اس پر برائے نام پابندی تھی اسے بھی ۱۶۹۱ءمیں
واپس لیا گیا اوراس کی بیخ کنی کےلئے ساری کوششیں ناکام ہوجانے کے بعد
بھی قانونی طور پر سند جوازملی گئی لیکن یہ سب کچھ بے فائدہ اورسب بے اثر
، یہ دین اسلام کی حقیقی قوت قاہرہ تھی جس نے ایک فرمان سے ساری مسلم امہ
کو شراب کی نجاست وخباثت سے نجات دلادی ۔
سورة المائدہ کی متذکرہ آیت نمبر ۰۹ میںچار چیزوں کی حرمت کا بیان ہے
،خمر ، میسر ،انصاب ، اورازلام
خمر ، ہر مدہوش کرنے والی شراب کو خمر کہتے ہیں ،مدینہ طیبہ میں حرمت
قطعی سے قبل جو شراب استعمال ہوتی تھی وہ انگو ر ، گندم ،جو ، کھجور اور
شہد سے کشید ہوا کرتی تھی اورجب یہ آیت نازل ہوئی تو کسی صحابی نے بھی یہ
نہیں سمجھا کہ صرف انگوری شراب ہی حرام ہے حالانکہ وہ اہل زبان تھے۔
میسر ، مطلقاً جوا کو کہتے ہیں خواہ اس کی صورت کیسی ہی ہو ،حضرت علی کرم
اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ الشطرنج من المیسر کہ شطرنج بھی جوا ہے ، انصاب
،انصاب ان پتھروں کو کہا جاتا ہے جو کعبہ کے اردگرد نصب تھے اورکفار ان
کے لئے جانور ذبح کرتے تھے اوران کا خون پتھروںپر مل دیتے تھے ،
ازلام ، وہ تیر جن کے ذریعے فالیں نکالی جاتی تھیں نیزوہ تیرجن کے ساتھ
جوا کھیلاجاتا تھا ،اس آیت میں مقصود تو شراب اورجوا کی حرمت قطعی بیان
کرنا ہے لیکن انصاب اورازلام کو ان کے ساتھ ذکر کرکے ان کی قباحت کو
اورزیادہ عیاں اورواضح کردیا ،چنانچہ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا ” اے
شراب تیراذکر تو جوئے ،انصاب اورازلام کےسا تھ ملاکرکیا گیا ہے ، بعدلک
وسھقا، تیرا ستیاناس ہو ، تیرا خانہ خراب ہو ، (استفادہ تفسیرتسہیل
البیان از الحاج مولانا فیروز الدین مولف فیروزاللغات ،و تفسیر
ضیاءالقرآن جلد اول مفسر ضیاءالامت پیر محمد کرم شاہ الازہری ) ۔

By ajazmir