Sun. Sep 25th, 2022
376 Views

” مری میں ایک کشمیری مسافر خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے پر اظہار مذمت اور اہل مری کے سماجی اکابرین کے لیے لمحہ فکریہ
رشحات قلم:-
سید طاہر حسین نقوی
————————————————————————–
اخلاق و خصائل کا حسن انسانی عزت وقار کی علامت ہوا کرتا ہے ۔
نرم روی ، خندہ پیشانی ، خوش خلقی اور قوت برداشت، انسانوں کی توقیر اور مقام میں اضافہ کی صورتیں ہیں۔
اہل کشمیر کی بد قسمتی رہی ہے کہ انہیں سفر و اسفار میں پاکستان کے کسی شہر میں جانے کے لیے “مری” سے گزرنا پڑتا ہے۔
بالخصوص مظفرآباد ڈویژن کے تینوں اضلاع اور پونچھ ڈویژن کے کچھ علاقوں سے سفر کرنے والے کشمیری کوہالہ/مری کے سفری مصائب اور “انسانی مظالم” کا شکار اکثر بنتے رہتے ہیں۔
ہر نیا واقعہ، پچھلے کچھ بھولے، بسرے گندے واقعات اور سانحات کی یاد دلاتے ہوئے طبیعت کو مکدر اور احساسات کو مضمحل کر دیتا ہے۔
مظفرآباد کے گزشتہ سال کچھ نوجوانوں کو مری کے ایک ہوٹل میں تھوڑی دیر قیام اور چائے، پانی کے دوران فقط اس بات پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا گیا کہ نوجوانوں نے گندے گلاسوں کو دھونے یا صاف گلاس کی مانگ کی گستاخی کر ڈالی ۔
ریاستی اخبارات اور سوشل میڈیا پر تصاویر کے ساتھ 2020 کا ایک واقعہ دیکھا اور پڑھا گیا کہ ایک کار میں بیٹھی فیملی کو بدسلوکی کا شکار کیا گیا اور بیگم اور بچوں کے سامنے ان کے شوہر اور باپ کو گاڑی سے باہر کھینچ کر زد و کوب کرتے ہوئے مغلظات بھی دی گئیں۔
گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ اور لوٹ مار کچھ عرصہ سے کم ہوئی۔
راولپنڈی آنے جانے والوں کا یہ ہمیشہ کا مشاہدہ ہے کہ کوہالہ بالائی رابطہ سڑک کے نکتہ آغاز سے لیکر مری آرمی کیمپ اور جھیکا گلی تک ، اور ایسے ہی نچلی سڑک پر سفر مقامی لوگوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ کوئی آپ کو راستہ نہ دے، آپ خاموشی کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔
آپ کے سامنے دونوں جانب غلط گاڑیاں کھڑی ہیں، آپ صرف رک سکتے ہیں اور وہ بھی ہونٹ سی کر۔
تند مزاجوں اور صعوبتیں بخشنے والے انسانوں کی قبیل کسی بھی پورے خطہ کو بدنام اور شہرت کو بٹہ لگا دینے کیلئے کافی ہوا کرتی ہے۔
واقعات اور مشاہدات اتنے زیادہ ہیں کہ سب کا تذکرہ کرنے کے لیے ایک کتاب کی اشاعت ممکن ہو سکتی ہے۔
جنوری ، فروری کا تازہ مری تو دنیا بھر میں اپنے وہ نشانات ثبت کر گیا کہ بحر الکائل کا پانی اس کی صفائی و ستھرائی کے لیے ناکافی ہو گا۔
اور دھول مٹی اتر بھی گئ تو کم و بیش پچاس سیاحوں کا خون قیامت تک بولتا رہے گا۔
مری کے حسن کو، مری کی لالچ و حرص نے تباہ کر کے رکھ دیا۔
مری کے اچھے لوگوں اور آبادیوں کو سڑک چھاپ اچکوں نے بدنام کر دیا۔
مری کی سڑکوں پر، پنجاب اور کشمیر کے مسافروں کو مری کے سڑکاتی دکانداروں اور ٹرانسپورٹ سے متعلقہ تمدن سے محروم لوگوں نے ہمیشہ اذیت دی۔
آج اتوار کے روز ایک کشمیری فیملی کے ساتھ مری میں پیش آنے والا واقعہ شرمناک اور افسوسناک ہے ۔
کشمیری مسافر ماں بیٹا اور بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک انسانیت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔
بلا کوئی قدم اثھائے فضول کھڑی گاڑی کو راستہ دینے کی استدعا پر جتھہ بندی کے ساتھ مسافروں پر تشدد، گالم گلوج اور خواتین کی پرواہ نہ کرنا نہ جانے کس دنیا کا رواج ہے، جو کہ حیوانوں کا بھی شیوہ نہیں۔
ایک ذاتی گاڑی میں سوار ایک فیملی بشمول ایک مریض کے ساتھ رونما یہ سانحہ کس قدر بہیمانہ اور ظالمانہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔
اس سانحہ میں اس مسافر فیملی کے سربراہ زاہید کیانی کو شدید زخمی کر دیا گیا۔ مضروب کی والدہ کی منت و سماجت کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔
بلکہ شائع شدہ کچھ خبروں کے مطابق انہیں /خواتین کو بھی حراساں کیا گیا۔
نقدیات اور موبائل فون چھین لیے گئے۔
لباس دریدہ کر دیئے گئے۔
بیقابو زبانوں اور جتھہ بندی کے تحت بازوؤں کی قوت کے، ایک مسافر فیملی پر آزادانہ استعمال پر ہم ، مری کے تعلیم یافتہ طبقات ، باشعور افراد اور سماج میں عزت و مقام رکھنے والوں کو اس سلوک پر ، مبارکباد کے علاوہ اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں ؟؟
مظفرآباد کی حکومت اگر احساس و حمیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
انتطامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ذرہ بھی توقیر اور صلاحیت رکھتے ہیں تو اس سانحہ پر متاثرہ خاندان کی داد رسی کی جائے۔
حوصلہ و عزت افزائی کے ساتھ انصاف فراہم کیا جائے۔
اور آئندہ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ٹھوس، مضبوط اور طاقتور لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
پنجاب حکومت اور ضلع راولپنڈی و مری انتطامیہ کے ساتھ ان سانحاتی معاملات کو پوری شدت اور ذمہ داری کے ساتھ اٹھایا جائے۔
یہ اہل کشمیر کی عزت اور سلامتی کا سوال ہے۔
ان سانحات کو نظر انداز کر دینے کے نتائج کبھی سازگار نہیں ہوتے۔
اور پھر سادہ سا سوال یوں بھی ہے کہ مظفرآباد کی حکومت اور ریاست کی انتظامیہ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرے اور زیادتی و نا انصافی کا ازالہ کرے۔
سارے آزاد کشمیر کے شہروں میں کاروبار کرنے والے اہل مری یہاں عزت و سلامتی کے ساتھ مری کے روایتی حساب پر منافع پر کاروبار کرتے ہوئے ہمارا خون بھی جونکوں کی طرح چوس کر اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے شب و روز مصروف ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنی آبادیوں اور بازاروں سے گزرنے والے کشمیری خاندانوں کے ساتھ ایسا غلیظ اور انسانیت دشمن سلوک بھی روا رکھیں تو اہل مری کیلئے فقط مبارکباد۔
مظفرآباد کے بیس کیمپ میں حکمران طبقات کو احساس ہونا چاہیے کہ یہاں کی شریف عوام کی یادداشتوں کا امتحان نہ لیا جائے ۔
جھوٹے اور ناقابل عمل اعلانات بند کیے جائیں۔
ہر حکومت کبھی ٹرین چلانے کے دعوے کرتی ہے۔
کبھی موٹر وے بنانے کے جھوٹے اعلانات ہوتے ییں۔
کبھی ایکسپریس وے کی فزیبیلیٹی رپورٹس شائع کروائی جاتی ہیں۔
کبھی مظفرآباد تا اسلام آباد ہوائی سفر کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔
کبھی کوہالہ/تریٹ ٹنل کی خوشخبری دی جاتی ہے۔
اور پچہتر برسوں سے پاکستان راولپنڈی کا سفر نہ کم ہوا
اور نہ ہی خوشگوار بنانے پر نفع بخش اقدامات اٹھائے جا سکے۔
انسانی صعوبتوں اور بدسلوکیوں کا شکار، اور بیہودہ رویوں کے مارے ، اہل کشمیر کے درد کا درماں جانے کون ہو گا اور کب؟؟؟
لیکن وقت بہت سارے فرعونوں کی خاک اڑا گیا۔
اور آج خیر سے ان کے نام لینے والے نہیں ۔
ہم بار دگر متاٹرہ کیانی فیملی، اور دیگر کسی بھی کشمیری فیملی اور مسافروں کے ساتھ مری میں تازہ اور سابقہ تمام بدترین سانحات اور بدسلوکیوں پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اور ریاستی حکومت اور انتظامیہ کا سانحہ پر قانونی مواخذہ کے عمل کا انتظار کرتے ہیں۔
میری بالخصوص چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے واقعہ کی شفاف کارروائی، متاثرہ فیملی کو انصاف کی فراہمی اور مستقبل میں اہل کشمیر کے لیے محفوظ سفر کے اقدامات کی اپیل کرتا ہوں۔

اخلاص و احثرام
فریاد کناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید طاہر حسین نقوی
جہلم ویلی ۔۔۔۔۔ کشمیر

By ajazmir