Tue. Oct 19th, 2021
431 Views

(فالٹ لائن) طاہر احمد فاروقی                                       ازادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے وزیراعظم کے منصب کے انتخاب میں سردار عبدالقیوم خان نیازی کو وزیراعظم منتخب کرلیا ہے وزیراعظم کے انتخاب میں حکومت کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی تحریک انصاف کی جانب سے سردار عبدالقیوم نیازی جبکہ انکے مدمقابل اپوزیشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر امیدوار تھے پورے ملک اور ازادکشمیر کی سیاسی پارلیمانی روایت اور پختہ تاثر یہی رہا ہے پارٹی سربراہ (صدر)ہی وزیراعظم تصور ہوتا ہے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور انتخاب کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی انتظامیہ کی جانب سے حکمرانی کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی جماعت کے صدر کو پروٹوکول دیدیا جاتا ہے اس جماعت کے مدمقابل اپوزیشن کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی بڑی جماعت کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر سمجھا جاتاہے اس تناظر میں تحریک انصاف ازادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کو ہی اندرون بیرون ممالک اور آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری  وزیراعظم کو طور دیکھ رہے تھے اگر چہ انکے علاؤہ تحریک انصاف میں اور دو تین لوگ وزارت عظمی کے خواہشمند تھے تاہم اس بار عام انتخابات کے نتائج کے اعلان سے لیکر وزارت عظمی کے انتخاب کے دن کی صبح تک ایک تذبذب رہا مگر وزیراعظم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم ازادکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کو بنانے کے فیصلے نے سب کو ہی حکومت اپوزیشن ہر خاص عام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور کسی ملکی سیاسی امور معاملات فیصلوں میں تبدیلی کا لفظ فٹ ہوتا ہے یا نہیں مگر آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے فیصلے سے ثابت کیا ہے تبدیلی واقعتاً آگئی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں سردار عبدالقیوم نیازی کنٹرول لائن سے جڑے بارہ حلقوں میں سے ایک پسماندہ دور افتادہ علاقے عباس پور حلقہ سے تعلق رکھنے ہیں سیاسی کارکن ہیں وزیر بھی رہے چکے ہیں اور  اپنے حلقہ کے عوام میں رہے کر شب و روز گزارتے چلے آئے ہیں ان کو سب سے زیادہ بھارتی گولا باری فائرنگ سے متاثرہ علاقوں کی عوام کی مشکل ترین زندگی کے حالات کا بخوبی اندازہ اور احساس ہے دبنگ شخصیت کے حامل سادہ زندگی کی عادات رکھنے والے انسان ہیں جھنوں نے اپنے انتخاب کے بعد اسمبلی میں  اپنے پہلے مختصر خطاب میں ہی عمران کے اپنے متعلق فیصلہ کی خاصیت یوں بیان کی میرا انتخاب اس حقیقت کا ثبوت ہے آزاد کشمیر میں نئے لوگوں سیاسی کارکنان خصوصاً نوجوانوں کے لیے سنگ میل ہے بڑے منصب عہدوں سمیت ہر جگہ کسی بھی برادری علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص بھی آسکتا ہے اس سے پہلے چھوٹی برادری اور پسماندہ علاقے کے لوگ اسکا تصور نہیں کرسکتے تھے جسکا کریڈت عمران خان کو جاتا ہے  جبکہ اپنے ارادوں کے حوالے سے سب کو ساتھ لیکر چلنے اور اپنے چیرمین عمران خان کے ویثرن پر عمل درآمد کا اظہار کیا ہے تاہم انکے کام کاج اور انداز حکومت و اثرات تبدیلی کابینہ سمیت دیگر تمام حکومت محکموں اداروں میں ابتدائی امور مکمل کرنے کے بعد شروع ہونگے جسمیں چار چھ ماہ لگے گے  تیرہویں آئینی ترمیم کے مطابق حکومت سازی میں وہ 16 رکنی کابینہ سمیت دو مشیر دو معاون خصوصی فلیگ ہولڈر  اور پانچ پارلیمانی سیکرٹری رکھ سکتے ہیں جبکہ اسمبلی کے اندر مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین اور باہر سیاسی کارکنان کی ایڈجسٹمنٹ پہلے کی طرح کرنے میں ان کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے ان کاموں میں ان کو ایک سے دو ماہ ضرور لگے گے حکومت سازی اور ایک اچھی تبدیلی ثابت کرنے کا بہت اعصاب شکن  مسلسل محنت ریاضت سے گزرنا لازم ہے مگر اس بھی زیادہ بڑا چیلنج اپنی حکومت جماعت کے حوالے سے سیاسی استحکام مضبوطی باہمی اعتماد تعاون کی فضاء کو قائم رکھنے کا چیلنج ہوگا جسکے لئے تحریک انصاف ازادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کا اطمینان ناگزیر ہے جنکی جانب سے ایک بڑے لیڈر سیاستدان کی طرح بلند حوصلے کشادہ قلبی کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میں کہا گیا ہم سب نے فیصلہ کا اختیار چیرمین عمران خان کو دیا تھا یہ انکا فیصلہ ہے جبکہ میرپور کی تنظیم رہنماؤں کارکنان کے ایک بڑے استقبالیہ کے شرکاء کے فیصلے پر غم وغصہ سے چذبات کے جواب میں بھی حکمت کے خیالات سے انکے جذبات کو ٹھنڈہ کیا  میرے لیے یہ خوشی ہے جس جماعت کو بنایا چلایا عوام میں مقبول بناکر منوایا انتخابات میں کامیاب کرایا وہ حکومت میں آگئی ہے  میرا ایمان ہے اللہ کے فیصلوں میں بہتری ہوتی ہے اس بڑھ کر یہ میرے لیے بھی بہتری ہے اسکا یقین ہے نیز یہ کہہ کر کہ اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں حقیقت کے اعتراف کا مظاہرہ بھی کیا ہے جیسا کہ آج کے دور کے مقبول شاعر تہزیب حافی نے کہا ہے   (اس کی مرضی وہ جسے پاس بھٹا لے اپنے                    اس پر کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا) اب اس ماہ کے آخر میں ایک اور بڑا انتخاب آرہا ہے صدر ریاست کا انتخاب ہوگا جبکہ کشمیر کونسل کے چار ممبران بھی منتخب کیے جائینگے یہ حقیقت روز روشن کی طرح ثابت ہوچکی ہے صدر ریاست سمیت سیاسی جگہوں پر جہاں جہاں انتخاب آتا ہے وہاں وہاں کسی بھی ریٹائر بڑے سے بڑے نام اور غیر سیاسی بنیادوں پر آنے والے مکمل ناکام ہوئے ہیں اس طرح کے تجربات کرنے والی جماعتیں شخصیات خصوصاً ریاست اداروں نظام سمیت عوام کو اسکا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے اس منصب پر عالمی قومی عوامی سطح پر کشمیر کاز سمیت سیاسی انتظامی ریاضت تجربے اور ذہین و قلبوں کو قبول کردار ہی پہلے فیصلے کو کامیاب ثابت کرنے کا ضمانت ثابت ہوسکے گا جو بہرحال ایک بڑا اازادکشمیر وزارتِ عظمیٰ کا ورطہ حیرت فیصلہ (فالٹ لائن) طاہر احمد فاروقی ازادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے وزیراعظم کے منصب کے انتخاب میں سردار عبدالقیوم خان نیازی کو وزیراعظم منتخب کرلیا ہے وزیراعظم کے انتخاب میں حکومت کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی تحریک انصاف کی جانب سے سردار عبدالقیوم نیازی جبکہ انکے مدمقابل اپوزیشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر امیدوار تھے پورے ملک اور ازادکشمیر کی سیاسی پارلیمانی روایت اور پختہ تاثر یہی رہا ہے پارٹی سربراہ (صدر)ہی وزیراعظم تصور ہوتا ہے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور انتخاب کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی انتظامیہ کی جانب سے حکمرانی کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی جماعت کے صدر کو پروٹوکول دیدیا جاتا ہے اس جماعت کے مدمقابل اپوزیشن کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی بڑی جماعت کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر سمجھا جاتاہے اس تناظر میں تحریک انصاف ازادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کو ہی اندرون بیرون ممالک اور آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری وزیراعظم کو طور دیکھ رہے تھے اگر چہ انکے علاؤہ تحریک انصاف میں اور دو تین لوگ وزارت عظمی کے خواہشمند تھے تاہم اس بار عام انتخابات کے نتائج کے اعلان سے لیکر وزارت عظمی کے انتخاب کے دن کی صبح تک ایک تذبذب رہا مگر وزیراعظم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم ازادکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کو بنانے کے فیصلے نے سب کو ہی حکومت اپوزیشن ہر خاص عام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور کسی ملکی سیاسی امور معاملات فیصلوں میں تبدیلی کا لفظ فٹ ہوتا ہے یا نہیں مگر آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے فیصلے سے ثابت کیا ہے تبدیلی واقعتاً آگئی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں سردار عبدالقیوم نیازی کنٹرول لائن سے جڑے بارہ حلقوں میں سے ایک پسماندہ دور افتادہ علاقے عباس پور حلقہ سے تعلق رکھنے ہیں سیاسی کارکن ہیں وزیر بھی رہے چکے ہیں اور اپنے حلقہ کے عوام میں رہے کر شب و روز گزارتے چلے آئے ہیں ان کو سب سے زیادہ بھارتی گولا باری فائرنگ سے متاثرہ علاقوں کی عوام کی مشکل ترین زندگی کے حالات کا بخوبی اندازہ اور احساس ہے دبنگ شخصیت کے حامل سادہ زندگی کی عادات رکھنے والے انسان ہیں جھنوں نے اپنے انتخاب کے بعد اسمبلی میں اپنے پہلے مختصر خطاب میں ہی عمران کے اپنے متعلق فیصلہ کی خاصیت یوں بیان کی میرا انتخاب اس حقیقت کا ثبوت ہے آزاد کشمیر میں نئے لوگوں سیاسی کارکنان خصوصاً نوجوانوں کے لیے سنگ میل ہے بڑے منصب عہدوں سمیت ہر جگہ کسی بھی برادری علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص بھی آسکتا ہے اس سے پہلے چھوٹی برادری اور پسماندہ علاقے کے لوگ اسکا تصور نہیں کرسکتے تھے جسکا کریڈت عمران خان کو جاتا ہے جبکہ اپنے ارادوں کے حوالے سے سب کو ساتھ لیکر چلنے اور اپنے چیرمین عمران خان کے ویثرن پر عمل درآمد کا اظہار کیا ہے تاہم انکے کام کاج اور انداز حکومت و اثرات تبدیلی کابینہ سمیت دیگر تمام حکومت محکموں اداروں میں ابتدائی امور مکمل کرنے کے بعد شروع ہونگے جسمیں چار چھ ماہ لگے گے تیرہویں آئینی ترمیم کے مطابق حکومت سازی میں وہ 16 رکنی کابینہ سمیت دو مشیر دو معاون خصوصی فلیگ ہولڈر اور پانچ پارلیمانی سیکرٹری رکھ سکتے ہیں جبکہ اسمبلی کے اندر مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین اور باہر سیاسی کارکنان کی ایڈجسٹمنٹ پہلے کی طرح کرنے میں ان کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے ان کاموں میں ان کو ایک سے دو ماہ ضرور لگے گے حکومت سازی اور ایک اچھی تبدیلی ثابت کرنے کا بہت اعصاب شکن مسلسل محنت ریاضت سے گزرنا لازم ہے مگر اس بھی زیادہ بڑا چیلنج اپنی حکومت جماعت کے حوالے سے سیاسی استحکام مضبوطی باہمی اعتماد تعاون کی فضاء کو قائم رکھنے کا چیلنج ہوگا جسکے لئے تحریک انصاف ازادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کا اطمینان ناگزیر ہے جنکی جانب سے ایک بڑے لیڈر سیاستدان کی طرح بلند حوصلے کشادہ قلبی کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میں کہا گیا ہم سب نے فیصلہ کا اختیار چیرمین عمران خان کو دیا تھا یہ انکا فیصلہ ہے جبکہ میرپور کی تنظیم رہنماؤں کارکنان کے ایک بڑے استقبالیہ کے شرکاء کے فیصلے پر غم وغصہ سے چذبات کے جواب میں بھی حکمت کے خیالات سے انکے جذبات کو ٹھنڈہ کیا میرے لیے یہ خوشی ہے جس جماعت کو بنایا چلایا عوام میں مقبول بناکر منوایا انتخابات میں کامیاب کرایا وہ حکومت میں آگئی ہے میرا ایمان ہے اللہ کے فیصلوں میں بہتری ہوتی ہے اس بڑھ کر یہ میرے لیے بھی بہتری ہے اسکا یقین ہے نیز یہ کہہ کر کہ اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں حقیقت کے اعتراف کا مظاہرہ بھی کیا ہے جیسا کہ آج کے دور کے مقبول شاعر تہزیب حافی نے کہا ہے (اس کی مرضی وہ جسے پاس بھٹا لے اپنے اس پر کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا) اب اس ماہ کے آخر میں ایک اور بڑا انتخاب آرہا ہے صدر ریاست کا انتخاب ہوگا جبکہ کشمیر کونسل کے چار ممبران بھی منتخب کیے جائینگے یہ حقیقت روز روشن کی طرح ثابت ہوچکی ہے صدر ریاست سمیت سیاسی جگہوں پر جہاں جہاں انتخاب آتا ہے وہاں وہاں کسی بھی ریٹائر بڑے سے بڑے نام اور غیر سیاسی بنیادوں پر آنے والے مکمل ناکام ہوئے ہیں اس طرح کے تجربات کرنے والی جماعتیں شخصیات خصوصاً ریاست اداروں نظام سمیت عوام کو اسکا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے اس منصب پر عالمی قومی عوامی سطح پر کشمیر کاز سمیت سیاسی انتظامی ریاضت تجربے اور ذہین و قلبوں کو قبول کردار ہی پہلے فیصلے کو کامیاب ثابت کرنے کا ضمانت ثابت ہوسکے گا جو بہرحال ایک بڑا فیصلہ اور واقعتا تبدیلی کی مثال ہے جسکا تحفظ بھی لازمی ہے

By ajazmir