Tue. Sep 21st, 2021
450 Views

ترابی صاحب یہ کیا ہوگیا؟
تحریر: لیاقت بلوچ
عبدالرشید ترابی بھائی یہ آپ نے کیا فیصلہ کیا؟کیا ایسا ہونا چاہیے تھا؟ آپ نے طویل مدت دعوتی، دینی، تربیتی، جہادی اور سیاسی محاذ پر کامیاب اور پُرعزم، قابلِ فخر زندگی گذاری، جس کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ اخلاص، محنت، دانش اور امانت و دیانت سے خالصتاً لِلّٰہ کام کیا۔
آپ نے اسلامی جمعیت طلبہ، جماعتِ اسلامی ٓزاد جموں و کشمیر کی تشکیل میں بنیادی اور جوہری کردار ادا کیا۔ جماعتِ اسلامی کے پیغام، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر کو قریہ قریہ، چپہ چپہ، جہاں جہاں انسان بستے آزاد جموں و کشمیر میں بنانے کا کام کیا۔ پھر آزادی، جہادی مراحل میں آپ کی حکمت، تجزیے، استقامت نے آپ کے قد کاٹھ میں بڑا اضافہ کردیا۔ قیادت، کارکنان اور بیرونِ جماعت آپ نے اپنی محنت؛، محبت، اطاعت سے دِلوں کو دوہ لیا، دلوں میں گھر بنالیا۔
جماعتِ اسلامی نے آپ پر ہر طرح سے اعتماد کیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا۔ آپ نے بھی اس اعتماد کو اپنی جدوجہد سے جلابخشی۔ قانون ساز اسمبلی میں آپ کی محنت کا زمانہ معترف ہے۔ حریت کشمیر، حق خودارادیت، مقبوضہ کشمیریوں کی جدوجہد کے لیے دن رات ایک کیا۔ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، پاکستان کے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اِسی نعرہ حق کو عالمی فورمز پر بھی بڑی محنت اور حکمت سے نائندگی کا حق ادا کیا۔
یہ حقائق بھی ہونگے اور یقینا مضبوط دلائل ہونگے کہ آپ کو امارت کی ذمہ داریوں کے بعد جماعتِ اسلامی کے اندر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِسے بھی آپ نے صبر و استقامت سے برداشت کیا۔ گذشتہ انتخابات میں آزاد جموں و کشمیر انتخابا ت میں ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ آپ کا ذاتی نہیں، مرکزی شوریٰ کشمیر کا فیصلہ تھا۔ اِس میں بھی جماعتِ اسلامی کے اندر بعض احباب کے رویوں نے آپ کے دل، اعصاب، جذبات پر بہت گہرے اثرات پیدا کئے۔ آپ نے قانون ساز اسمبلی کے حالیہ دور میں اپنی محنت سے اپنے لیے اور جماعتِ کے لیے اطمینان کا ماحول پیدا کیا۔ جماعتِ اسلامی ہی نہیں دینی، سیاسی، سماجی جماعتوں میں آپ کو بے پناہ احترام اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ ہی تو ہم سب کے لیے فخر اور شکر کا مقام بنا ہے۔
لیکن جناب ترابی صاحب، اجتماعی زندگی، سیاسی اور انتخابی محاذ پر آسانیاں بھی ہیں، آزمائش اور مشکلات بھی ہیں۔ تربیت، اخلاص، محنت، للہیت کا امتحان، آزمائش تو یہی ہے کہ اس مرحلہ پر استقامت دکھائی جائے۔ سیاسی اور انتخابی محاذ پر جیت اور نمائندگی بہت اہم ہے، لیکن ایسی جیت اور ممبری کا کیا حاصل جس میں اجتماعیت کا اعتماد نہ رہے اور معمول کی سیاسی کامیابی نظریاتی، اصولی، اللہ کی رضا اور جنت کے طلب گاروں کے لیے بے معنی، بے مقصد ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات آسان فیلڈ نہیں۔ سیاسی، عسکری مداخلت، سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لیے دباؤ، لالچ اور خصوصاً مال و دولت کا عمل دخل اصولی، نظریاتی، بامقصد سیاست میں بڑی رُکاوٹ ہے۔ پھر جہاں خود اپنی جماعت میں بھی کئی مشکلات کا سامنا ہو تو بدیہی مرحلہ صبر، استقامت اور نظریہ تحریک کے ساتھ جڑے رہنے کا ہے۔
عبدالرشید ترابی صاحب آپ سے نصف صدی کا تعلق ہے، یہ تعلق اللہ کے دین کے لیے ہے، غلبہ دین کی جدوجہد میں ہر مرحلہ کا ساتھ ہے۔ یقین مانیں آپ نے اور ضلع باغ شوریٰ اور مقامی قیادت نے جو فیصلہ کیا ہے اس نے میرے جذبات، احساسات اور محبت و عقیدت کو بری طرح متأثر کیا ہے۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آپ جیسا پُرعزم، استقامت کا کوہِ گراں یوں اندرونی حالات کے سامنے اپنے اعصاب توڑ دیں گے اور سپر ڈال دیں گے…………۔ یقین مانیں ہر فیصلہ اور ہر اقدام کے ہزار دلائل ہونگے لیکن آپ کے اس فیصلہ کی کوئی دلیل کارآمد نہیں ہے اور نہ ہوگی۔ یہ آپ کی ذات، آپ کی جماعت اور مجموعی تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے کسی صورت میں بھی مفید نہیں۔ ممبر شپ مل جائے، کشمیر کمیٹی اور حکومتی عہدہ مل بھی جائے لیکن جو بے تاج بادشاہی آپ کو حاصل رہی اُس کے مقابلہ میں اِن دنیاوی عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
خبر سُنی، یقین نہ آّیا، رفتہ رفتہ ہر پہلو کھلتا چلا گیا۔ زندگی بھر کسی غلط فیصلے پر اتنا صدمہ اور دھچکا نہیں لگا جس قدر آپ کے اِس اقدام سے ہوا۔ عبدالرشید ترابی صاحب آپ نے فیصلہ کرلیا، اعلانات ہوگئے، امیر ضلع نے وضاحت کردی۔ جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر نے بھی فیصلہ کردیا، جس نے صورتِ حال کو اور گھمبیر بنادیا۔ لیکن اب اِس کا حاصل کیا ہے؟ کوئی کمیٹی بنے یا کوئی کمیشن بنے، فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنے، کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
بس عبدالرشید ترابی صاحب آپ ہی ہمت کریں۔ حکمت و استقامت سے کام لیں، باغ کی ایک نشست پر فیصلہ سے خود رجوع کرلیں۔ غلطی کے اعتراف کا اعلان کردیں، ایسے میں آپ سرخرو ہونگے اور جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے لیے آزمائش اور امتحان بڑھ جائے گا۔
عبدالرشید ترابی صاحب اجتماعیت میں خیر ہے، خیر سے جڑے رہنے میں ہی خیر اور کامیابی ہے۔ یقینا جماعتِ اسلامی کی قیادت اور دستوری فورمز حق پر مبنی ہی راستہ اختیار کریں گے۔
ترابی صاحب یہ ہماری خوش بختی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ ہم پر راضی ہوا اور اپنے دین کے لیے ہمیں چُن لیا۔ کیا دُنیا کے چناؤ کی وجہ سے، کچھ لوگوں کی عدم حکمت کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے دین کے چناؤ سے اپنے آپ کو باہر کردیا جائے؟ یہ بڑا گھاٹے کا سودا ہے!!!
نہ جانے مجھے کیوں یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت، حکمت، استقامت اور صبر دیں گے اور آپ ہی اِسی اُلٹی بازی کو پلٹا دیں گے اور راہِ حق پر استقامت سے کھڑے رہیں گے۔ (اِن شاء اللہ!)

Avatar

By ajazmir