Tue. Oct 19th, 2021
402 Views

ماہ ذوالحجہ کی اہمیت ،قربانی کا پس منظر ، فضائل ،مسائل اوراجروثواب
تحریر ! سید محمد اسحا ق نقوی
قمری اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ذوالحجہ کہلاتا ہے اورپہلا مہینہ محرم ،قمری سال کے بارہ مہینوں کے نام بالترتیب بذیل ہیں ۱)محرم ،۲) صفر ،۳) ربیع الاول ،۴)ربیع الثانی ،۵)جمادی الاول ،۶)جمادی الثانی ،۷)رجب ،۸)شعبان ،۹)رمضان ،۰۱)شوال ،۱۱)ذی قعد،۲۱)ذوالحجہ ،ذوالحجہ اس سے مراد حج کا مہینہ ،اس مبارک مہینہ میں صاحب استطاعت مسلمان ،اسلام کا پانچواں رکن حج ادا کرتے ہیں ،ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن بڑی عزت ،حرمت ،عظمت اوربرکت والے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں کی قسم اٹھائی ہے ،قرآن کریم کے آخری پارہ کی سورة الفجر کی پہلی پانچ آیات کا ترجمہ یوں ہے ۔(۱)قسم ہے فجر کی (صبح جو رات بھر نیند کے بعد عالم بیداری سے بعث بعدالموت کا منظر پیش کرتی ہے )(۲)اورقسم ہے دس راتوں کی (ذی الحجہ کی دس راتیں جن میں اطراف عالم سے حجاج بیت اللہ کے پاس جمع ہو کر مناسک حج ادا کرتے ہیں اورکل بروز قیامت میدان حشر میں اپنے اعمال کی جواب دہی کےلئے اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہونے کا صحیح نمونہ پیش کرتے ہیں )،(۳)اورقسم ہے جفت کی اور طاق کی (کل جہاں جس کی ہر چیز جفت سے جوڑاجوڑا ہے مثلا ً رات اوردن ،خوشی اورغمی ،علم اورجہالت وغیرہ سب فانی اوراللہ کی ذات جوطاق ہے وہ ہمیشہ باقی ہے اورفانی باقی کے سامنے قیامت کو جوابدہ ہوگا )(۴)اورقسم ہے رات کی جبکہ وہ گذر جائے (رات جب آہستہ آہستہ عالم پہ چھاجاتی ہے اورپھر دھیرے دھیرے گزرجاتی ہے )۔(۵)ضرور ان میں ایک بھاری قسم ہے اہل عقل کے لیے (ان متذکرہ احوال میں اہل عقل کےلئے ایک زبردست شہادت موجود ہے سو قیامت ضرور آنے والی ہے )۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے فرمایا سال کے دنوں میں سے کوئی زمانہ جس میں بے انتہا عمل صالح یعنی نیکیاں اوربھلائیاں کی گئی ہوں وہ ماہ ذوالحجہ کے پہلے عشرہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب نہیں ہے ،لوگوںنے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی مساوی درجہ نہیں رکھتا ؟ارشادفرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی اللہ تعالیٰ کو ان ذی الحجہ کے دس دنوں سے زیادہ محبوب نہیں ،راوی کا بیانہے کہ تین مرتبہ لوگوں نے یہی سوال کیا توآپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی جواب عنایت فرمایا ،پھر فرمایا البتہ وہ شخص جو اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کےلئے گیا اوروہیں اللہ تعالیٰ کو پیا را ہوگیا (بخاری )ابن عوانہ ؓ اورابن حبان ؓ نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسو ل کریم ﷺ نے فرمایا عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ کوئی دن افضل نہیں “عشرہ ذی الحجہ کے دنوں کی افضلیت اس لیے ہے کہ اس میں یوم عرفہ واقع ہے اورماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اس لیے افضل ہے کہ اس میں لیلتہ القدر واقع ہے ،اور چونکہ ماہ ذی الحجہ کے پہلے عشرہ یعنی 9تاریخ کو عرفہ کا دن ہوتا ہے اسی لیے اس دن کو سب دنوں پر فضیلت حاصل ہے ،صحا ح ستہ کی ابوداﺅد اورنسائی میں بعض ازواج مطہرات ؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ 9ویں زی الحجہ ،۰۱ ویں محرم اورہر ماہ تین دن کے روزے اکثر وبیشتر رکھا کرتے تھے اورہر ماہ کے تین دنوںمیں سے پہلے پیر اورپہلی جمعرات کے دن روزہ دار رہتے تھے ۔ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے مطلق عمل صالح کے بارے میں جو فضیلت کے احکام ہیں ان اعمال صالحہ میں روزوں کی فضیلت بھی داخل ہے ،یعنی اعمال صالحہ میں سے سب سے پہلے زیادہ فضیلت کی چیز روزہ ہے ،اوررمضان کے روزوں کے علاوہ ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے ۹روزوں کی زیادہ فضیلت ہے ،علمائے مقتدمین نے لکھا ہے کہ جس نے سال کے افضل دنوںمیں روزہ رکھنے کی منت مانی ہو اسے چاہیے کہ عشرہ ذی الحجہ (یکم تا ۹)روزے رکھنے کی نیت پوری کرلے اورجس نے سال کے کسی ایک افضل دن روزہ رکھنے کی منت مانی ہو تو اسے عرفہ کے دن (۹ویں ذی الحجہ )روزہ رکھ کر اپنی نذر پوری کرنا چاہیے اورجس نے ہفتہ کے کسی دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو تو اسے جمعہ کے دن روزہ رکھنا چاہیے ۔رسو ل کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی دن ایسے نہیں جن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ پسند ہو کیونکہ ان میں سے ہر ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزہ رکھنے کے برابر ہے اور ہر ایک رات کاجاگنا (عبادت کی خاطر)شب قدر میں جاگنے کے برابر ہے بحوالہ (ابن ماجہ و ترمذی )ایک وضاحت ذی الحجہ کی ۰۱ ویں تاریخ سے ۳۱ ویں تاریخ تک چا رایام کا روزہ ممنوع ہے کیونکہ د س ذوالحجہ کو عید الاضحی ہوتی ہے اورباقی تین دن ایام تشریق میں شامل ہیں ۔رسو ل کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ (۹ویں ذی الحجہ )کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کا کفارہ ہوتاہے (مسلم شریف )ماہ ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں راقم نے اختصار کی بناءپر چند ایک احادیث کا حوالہ دیا ہے ،اللہ تعالیٰ توفیق عطافرمائی یکم ذی الحجہ سے ۹ ویں ذی الحجہ تک دن کو روزہ رکھ کر اورراتوں کی شب بیداری کرکے اپنی عاقبت کو سنوارنے کا کوئی اہتمام کیا جاسکے ،حضرت سیدنا عبدالقادرجیلانی ؒنے حدیث مبارکہ کے حوالے سے غنیتہ الطالبین میں لکھا ہے کہ جب ذی الحجہ کا مہینہ آئے تو بندہ اپنی عبادت میں کوشش کرے اللہ تعالیٰ نے عشرہ ذی الحجہ کے روزوں کی فضیلت بخشی ہے اوراسکی راتوں کو مثل اوراس کے دنوں کی عظمت عطافرمائی ہے ،اس عشرہ کی راتوں میں پچھلے پہر چاررکعت نوافل پڑھے جائیں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعدتین بارآیت الکرسی ،تین بار سورہ الاخلاص ،اورایک ایک بار سورہ خلق اورسورہ الناس پڑھی جائے تو بڑا اجر وثواب حاصل ہوگا اوردعائیں قبول ہونگی ،ماہ ذوالحجہ کے چار احکام بڑے اہم ہیں (۱)یکم ذی الحجہ سے ۹ویں ذی الحجہ تک روزے اور دسویں تک شب بیداری (۲)تکبیرات تشریق بالخصوص ۹ویں زوالحجہ کی نماز فجر سے ۳۱ویں ذی الحجہ کی نماز عصر تک (۳)نما زعید الاضحی ،۴)قربانی
قربانی کی ابتداءحضرت آدم ؑ کے دور سے ہوئی قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے ”آپ ﷺ ان لوگوں کو حضرت آدم ؑ کے بیٹوں کا سچا قصہ سنائیں جبکہ ان دونوں (ہابیل وقابیل )نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کیں ان میں سے ایک کی قربانی (ہابیل )قبول ہوئی اوردوسرے (قابیل )کی قبول نہ ہوئی ،،اس (قابیل )نے (بھائی سے )کہا کہ میں تجھے ضرور قتل کردوں گا۔(ہابیل نے جواب دیا )اللہ تعالیٰ تو پرہیز گاروں کی قربانیاں قبول فرماتا ہے ۔قرآن مجید کا چھٹا پارہ سورة المائدہ کی آیات ۷۲ تا ۱۳ میں اس قصہ کا اجمالی تذکرہ بیان کیا گیا ہے ،تفاسیر میں اس قصہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں ۔ ہر ایک امت کے لئے ہم نے قربانی مقرر کردی گئی تھی جیسا کہ سورة الحج کی آیت نمبر ۴۳ میں مذکورہے ،ترجمہ ،ارشاد الٰہی ہے ہر ایک امت کے لئے ہم نے قربانی مقرر فرما دی تھی تاکہ وہ ان حالا وپاک جانوروں کو اللہ کانام لیکر ذبح کریں پس تمہارا معبود ایک اللہ ہی ہے اسی کے آگے سرتسلیم خم کرو (درگاہ خداوندی میں )عاجز ی کرنے والوں کو خوشخبری دیجیے ۔قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں ۷۱ آیات میں قربانی کا تذکرہ ہوا ہے ۔
سور البقرہ آیت نمبر ۶۹۱، سورہ آل عمران آیت نمبر ۷۶۱،سورہ المائدہ آیت نمبر ۲، ۵۹،۷۹،سورة الحج آیت نمبر ۸۲،۴۳،۶۳،۷۳،سورہ الصفت آیت نمبر ۷،۱،سورہ الفتح آیت نمبر ۵۲،سورة الکوثر آیت نمبر ۲ ۔قربانی ملت ابراہیمی اورشریعت مصطفوی کی ایک تابندہ علامت ہے اس کا مقصد سنت ابراہیمی کو زندہ کرنا ہے ،قربانی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ سنت نبوی ﷺ بھی ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ کی قولی اورفعلی سنت ہے ،قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پسندیدہ عمل ہے جس طرح اذان ،نمازباجماعت ،جمعہ اورعیدین شعائر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں داخل ہیں اسی طرح قربانی بھی شعائر دین میں سے ہے مروجہ قربانی شرک کے خاتمے اورتوحید کی بقاءپر دلیل ہے ۔
قربانی کیا ہے ۔مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے شب ترویہ یعنی ۷ذی الحجہ کی رات خواب میں دیکھا کہ ایک کہنے والا کہہ رہا ہے کہ (اے ابراہیم ؑ)آپ کا رب آپکو بیٹا ذبح کرنے کا حکم فرما رہا ہے یہی خواب آپ ؑ نے متواتر مزید دوراتوں کو دیکھا چنانچہ اس حکم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہونے کا یقین فرماتے ہوئے آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ کو اس بارے میں آگاہ کیا فرمانبردار اوراطاعت گزار بیٹے نے فوراً اظہار رضامندی فرماتے ہوئے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کردیا ،چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل ؑ کو لیکر وادی منیٰ میں پہنچے ،فرمانبردا ر سعادت مند بیٹے کی درخواست کے مطابق ان کے ہاتھ پاﺅں باندھے اوراپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انہیں پیشانی کے بل زمین پر لٹاد یا اوران کی گردن پر چُھری چلادی ،لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم ؑ کے تسلیم ورضا کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اپنی قدرت کاملہ سے چھری اورگردن کے درمیان تانبے کی ایک پلیٹ حائل کردی اورحضرت جبرائیل ؑ کوحکم دیا کہ فوراً جنت سے مینڈھا لاکر چھری کے نیچے رکھ دیں اورحضرت اسماعیل ؑ کو نیچے سے سرکا دیں ۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائی کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل ؑ صحیح سلامت ہیں اوران کی جگہ ایک مینڈھا ذبح ہوا ہے روایات میں ہے کہ یہ وہی دنبہ تھا جو حضرت آدم ؑ کے بیٹے حضرت ہابیل ؑ نے بطورقربانی پیش کیا تھا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاکاملہ سے یہ جنت میںتھا اسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کا فدیہ بنادیا

By ajazmir