Thu. Apr 15th, 2021
797 Views

تھانہ پولیس چناری کے ظلم و ستم کا ستایا ہوا غریب ٹیکسی ڈرائیور ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سنانے کے لیے صحافیوں کے پاس پہنچ گیا قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر حلفا اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سناتے ہوئے وزیراعظم ،چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کردی۔چناری کے نواحی علاقے چنوئیاں کے رہائشی غریب ٹیکسی ڈرائیور اسرار احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ماہ وہ نڑدجیاں سے دو سواریاں لانے کے بعد اپنی گاڑی اپنے گھر کے قریب روڈ پر کھڑی کر کے گھر میں چلا گیا اس دوران تھانہ چناری میں تعینات تفاقت نامی ڈی ایف سی اپنے دیگر ساتھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ گاڑی کے پاس پہنچا اور اس نے ذاتی ذد پر اپنے پاس سے دو بوتل شراب رکھ کر ایس ایچ او کو فون کیا کہ اس گاڑی سے دو چھوٹی بوتل شراب برآمد ہوئی ہے ڈرائیور سمیت تین افراد گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیںایس ایچ او کے حکم پر تفاقت نامی ڈی ایف سی اور دیگر پولیس اہلکاراپنے پاس سے میری گاڑی میں رکھی گئی شراب سمیت گاڑی تھانے لے گئے اور میرے سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کردیاجب ہمیں مقدمہ درج کرنے کی اطلاع ملی تو اس کے دودن بعد ہم نے عبوری ضمانتیں کروائیںلیکن پولیس نے ذاتی ذد نکالتے ہوئے میری عبوری ضمانت عدالت سے کینسل کروا دی مجھے گرفتار کرنے کے بعد ڈی ایف سی تفاقت کی ایماءپر ایس ایچ او تھانہ چناری نے وحشیانہ تشدد کیا اور مجھے کہا جاتا رہا کہ فلاں بندے کا نام لو کہ میں نے اس سے شراب لائی ہے جب میں دوران تفتیش یہ کہتا رہا کہ شراب میری گاڑی میں تھی ہی نہیں تو میں کیسے کسی بندے کا نام لوں کہ میں نے اس سے شراب لائی ہے تو مجھ پر مزید تشدد کیا جاتا رہا بعد ازاں تھانہ چناری میں میرے اوپر ہونے والے تشدد پر عدالتی حکم پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا سے میرا میڈیکل ہوا جہاں پر میں نے ڈاکٹرز کو تشدد سے جسم پر لگی ہوئی ضربات دکھائی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل کے بعد جب دوباہ مجھے پولیس اسٹیشن لایا گیا تو تب بھی ایس ایچ او نے ایک ڈنڈے سے تشدد کیا اور جب تک وہ ڈنڈا نہیں ٹوٹا تب تک مجھ پر تشدد جاری رہا اس کے علاوہ تقریبا بیس گھنٹے تک مجھے کھڑا رکھا گیا اور ڈیوٹی پر موجود کا نسٹیبل کو ہدایت کی گئی کہ اسے کسی صورت بیٹھنے نہیں دینامیں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلفا کہتا ہوں کہ میری گاڑی میں شراب نہیں تھی تفاقت نامی ڈی ایف سی اور اس کے ساتھ نامعلوم پولیس اہلکاروں نے زد کی بناءپر میری گاڑی میں شراب رکھ کر میرے خلاف مقدمہ درج کیا اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا نہ ماضی میں کھبی منشیات کا کارروبار کیا نہ ہی گذشتہ ماہ منشیات میری گاڑی میں تھی ہم گذشتہ پندرہ سال سے وزیراعظم کے ووٹر ،سپورٹر ہیں ان کے ہی حلقہ انتخاب میں میرے ساتھ پولیس نے ظلم اور نا انصافی کی انتہا کی ہے وزیراعظم ،چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر کو میرے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کا نوٹس لیتے ہوئے مجھے انصاف فراہم کرنا چاہیے اگر مجھے انصاف فراہم نہ ہوا تو میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ آئی جی آفس کے سامنے خود سوزی کرنے سے گریز نہیں کروں گا اور میری موت کی تمام تر ذمہ داری تھانہ پولیس چناری پر عائد ہو گی اسرار نے مزید کہا کہ جس طرح میں نے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر حلف کیا ہے اگر تھانہ چناری کا ڈی ایف سی اور اس کے ساتھ میری گاڑی کو تھانے لانے والے پولیس اہلکار قرآن پر حلف کریں کہ انھوں نے گاڑی سے ہی شراب برآمد کی ہے تو میں سر عام سب پولیس والوں کے پاﺅں پکڑ کر معافی مانگھ کر پھر اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑ دوں گا پھر جس نے بھی جھوٹا قرآن اٹھایا ہو گا اللہ تعالی خود اسے سزا دیں گے میرے اس بیان کے بعد بھی پولیس مجھے مزید نقصان پہنچا سکتی ہے اس لیے میری ذمہ داران سے درخواست ہے کہ مجھے تھانہ چناری کے ظلم سے بچایا اور انصاف فراہم کیا جائے ۔۔

Avatar

By ajazmir