Thu. Apr 15th, 2021
159 Views
جس کا کام اسی کو ساجھے
تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
          بادشاہ کا ایک عزیز ترین حجام تھا ۔وہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتااور دو تین گھنٹے اسکے ساتھ گزارتا ۔اس دوران بادشاہ اپنی سلطنت کے امور بھی سر انجام دیتا رہتااور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن حجام نے بادشاہ سے عرض کیا ۔حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں اورمیں آپ کا وفادار بھی ہوں تو آپ مجھے اسکی جگہ وزیر کیوں نہیں بنا دیتے؟ بادشاہ مسکرایا اور اس سے جواب میں کہا۔ میں تمہیں وزیر بنانے کے لئے تیار ہوں ۔لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ  دینا ہو گا ۔حجام نے سینے پر ہاتھ آپ حکم کیجئے ۔باشاہ سلامت بولے ۔بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اسکے بارے میں معلومات لا کر دو۔ حجام حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دوڑ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آکر بولا جی بادشاہ سلامت جہاز وہاں کھڑا ہے۔ بادشاہ نے پوچھا یہ جہاز کب آیا؟ حجام دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا واپس آیا اور بتایا دو دن پہلے آیا ۔بادشاہ نے پوچھایہ بتائو یہ جہاز کہاں سے آیا۔ حجام تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا واپس آیاتو بادشاہ نے پوچھا جہاز پر کیا لدا ہوا ہے۔ حجام چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ القصہ مختصر حجام شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے؟ وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگاہ پر آیاتھا۔ اس میں جانور ،خوراک اور کپڑا لدا ہوا ہے۔یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا ۔اس میں دو سو لوگ سوار ہیں ۔میرا مشورہ یہ ہے ہمیں جہازوں پرٹیکس بڑھا دینا چاہئے ۔بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا ۔حجام نے چپ چاپ استرا اٹھایا اور عرض کیا۔ کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں۔                      ضروری نہیں ایک شخص جسے ایک شعبے میں مہارت حاصل ہو اوروہ دوسرے شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے۔ ایک ڈاکٹر انجینئر کا کام سر انجام نہیں دے سکتااور نہ ہی ڈاکٹرکو  انجینئر کے کام کی سوجھ بوجھ ہوتی ہے ۔اسی طرح ملکی امور کو چلانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ہمارے ہاں ایک عام سے لیکر جرنل تک سب سیاستدان بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ نہ تو یہ کسی نظریے کے قائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں دور اندیشی ہوتی ہے۔عوام کی نفسیات کو سمجھتے اور نہ ہی زمینی حقائق کا ادراک رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لیکر کر سیاست دان تو بن جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے سیاست دان سے قومی رہنما کا سفر طے نہیں کر پاتے۔ یہ سیاست کو کاروبار بنا لیتے ہیں ان کا مقصد صرف تجوریاں بھرنا اور مخصوص لوگوں کو نوازنا ہوتا ہے۔ یہ نام نہاد سیاست دان اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر ملک کاناقابل تلافی  نقصان کر بیٹھتے ہیں۔جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کوبھی بھگتنا پڑتاہے۔ہم غیر سیاسی نمائندوں کا انتخاب کر کے ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گےاور جب وہ ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتے تو اپنی قسمت کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں ۔پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے سیاست دان سیاست کو عبادات سمجھتے ہوئے عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہیں ۔اداروں کو با اختیار اور مضبوط بناتے ہیں ۔غربت،بےروزگاری ،مہنگائی اور تعلیم و صحت میں درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ مگر افسوس ہمارے سیاست دان ایک دوسرے  کو نیچا دکھا نے میں مصروف ہیں۔عوام میں ایک دوسرے سے نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔جسکی وجہ سے معاشرے میں عدم برداشت ،بدتمیزی ،تعصب اور انتشارمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں ایسےقومی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اپنے پیشے سے مخلص ہوں جنکے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب عوام میں بادشاہ جیسی بصیرت اور غیر سیاسی نمائندوں میں حجام جیسا شعور بیدار ہو گا۔
Avatar

By ajazmir