Thu. Apr 15th, 2021
267 Views
اطہرمسعود وانی
پاکستان ،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان میں حسب روایت اس بار بھی5فروری کو آزادی پسند کشمیریوں کی حمایت کے حوالے سے یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔یہ دن سرکاری،سیاسی اور سماجی سطح پر منایا گیا اور اس حوالے سے مختلف تقریبات منعقد کی گئیں۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مظفر آباد میں مشترکہ جلسہ کیا ۔پاکستان کے صدر نے یوم یکجہتی کے موقع پر مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کوٹلی جلسے میں اپنی تقریر میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تھوڑے سے لوگ ہندوستان کے ساتھ تھے،5 اگست2019کو ہندوستان کے اقدام کے بعد وہ بھی آزادی کے حق میں ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے اردو روزنامہ ‘ جنگ’ اور انگریزی روزنامہ ‘ دی نیوز’ میں شائع خبر میں کہا گیا ہے کہ 5فروری کوپاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ‘ جموں و کشمیر لبریشن الائینس” کے نام سے پوسٹر آویزاں کئے گئے ہیں۔خبر کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں لگائے گئے دو طرح کے پوسٹروں کی تصویر بھی دی گئی ہے ۔ ایک پوسٹر پہ وزیر اعظم عمران خان کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ
” جموں وکشمیر کا مقدمہ عالمی فورموں پر موثر انداز میں پیش کرنے پر اہل جموں کشمیر کی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی مدد کرنے پر ، شکریہ پاکستان شکریہ عمران خان ،شکریہ جوان ،اللہ تعالی سے امید ہے کہ اہل پاکستان اپنا فرض اور قرض تا حصول مقصدادا کرتے رہیں گے ،انشا ء اللہ، منجانب جموں کشمیر لبریشن الائینس”۔ دوسرے پوسٹر پہ لکھا ہے کہ ”5فروری یوم یکجہتی جموں کشمیر م آج کا دن تجدید عہد کا دن ہے کہ تا حصول مقصدپر ہر ہندوستانی ہھتکنڈوں ،انسانیت کش مظالم کا اپنے آہنی عزم و استقلال پامردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقدس مشن کو جاری رکھیں گے چاہے ہمیں اس کے لئے کسی بھی حد تک جا پڑے،اپنے عظیم مقصد سے وفادار تھے،ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ان شاء اللہ ،منجانب جموں کشمیر لبریشن الائنس”۔
وزیر اعظم کے ذمہ دار عہدے پہ فائز شخص کی طرف سے غلط بیانی اور خلاف حقیقت بات کیا جانا قطعی طور پر غیر مناسب اور افسوسناک بات ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی حامی جماعتوں نے ہندوستان کی طرف سے 5اگست2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے اور اسے ہندوستان میں ضم کرنے کے ایک سال بعد، اپنی تقریبا ایک سال کی نظر بندی کے خاتمے پر ‘ گپکار ڈیکلریشن ‘ کے نا م سے ایک اتحاد قائم کیا جس کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی 5اگست2019سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی بتایا گیا۔ہندوستان نواز سات سیاسی جماعتوں کے اس اتحاد نے نئے متعارف کردہ ‘ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل’ کے الیکشن میں بھی یہ کہتے ہوئے حصہ لیا کہ ‘ بی جے پی ‘ کے لئے میدان خالی نہ رکھا جائے۔اس الیکشن کے بعد اتحاد میں شامل پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون نے یہ کہتے ہوئے ‘ گپکار الائینس’ سے علیحدگی اختیار کی کہ الیکشن میں الائینس میں شامل جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں حصہ لیا۔ سجاد لون نے مزید کہا کہ الائینس میں شامل جماعتیں ‘ بی جے پی’ کے بجائے ایک دوسرے سے لڑتی آ رہی ہیں۔ہندوستان کی حامی ان سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے مقبوضہ ریاست کی حیثیت کی بحالی کے لئے تو کچھ کام نہیں کیا البتہ اپنے بیانات سے خود کو ہندوستان کا وفادار ثابت کرنے کی تکرار ضرور کرتے نظر آئے۔چند ماہ قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور خود وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیانات میں ‘ گپکار الائیس’ کی تعریفیں کیں اور ان سے توقعات وابستہ کیں۔یوں پاکستان حکومت، اس کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اب تک اس بات سے بے خبر ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ‘ گپکار اتحاد’ آزادی کے حق میں نہیں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی 5اگست2019 سے پہلے کی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے خود کو ہندوستان کا وفادار ثابت کرنے کی کوشش میں ہے۔
مقبوضہ کشمیر سے ایسی کوئی خبر نہیں ہے کہ وہاں 5فروری کو پاکستان کے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرنے والے مزکورہ پوسٹر لگائے گئے ہوں۔ یہ اطلاع ہمیں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ادارے کے اردو اور انگریزی اخبار میں شائع خبر سے ملتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے پہلے مقبوضہ کشمیر میں وزیر اعظم عمران خان کی تصویر والے پوسٹر لگائے گئے تھے لیکن اب مقبوضہ کشمیر میں مزکورہ پوسٹر لگائے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔یہ دونوں پوسٹر ” جموں کشمیر لبریشن الائنس” کے نام سے لگائے گئے ہیں،جبکہ کشمیری ایسے کسی لبریشن لائنس کی موجودگی سے قطعی بے خبر ہیں،باالفاظ دیگر جموں کشمیر لبریشن الائنس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں میں پہلے حریت کانفرنس کے دو دھڑے قائم تھے ۔بعد ازاں دونوں دھڑوں کے سربراہان اور یاسین ملک پر مشتمل الائنس تشکیل دیا گیا ۔تقریبا تمام حریت رہنما 5اگست2019کے اقدام سے پہلے سے ہی ہندوستانی قید میں ہیں اور اب مقبوضہ کشمیر کے اخبارات میں بھی حریت رہنمائوں کے بیانات بھی دیکھنے میں نہیں آتے۔ہندوستانی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف بھر پور فوجی دبائو کے ساتھ ظلم و جبر کے سخت ترین حربے استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں موت کی طرح کا سکوت طاری کر رکھا ہے۔
پاکستان حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق عالمی اداروں میں تین اجلاسوں کو ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے ایک سینئر سفارت کار عبدالباسط کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے ان غیر رسمی اجلاسوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ جن کی کاروائی نہ تو منظر عام پر آ ئی اور نہ ہی دستاویزات میں ان کا کوئی تذکرہ موجود ہے۔پاکستانی عوام اور کشمیریوں میں اب وسیع طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان حکومت نے ہندوستان کے مقبوضہ کشمیرسے متعلق انتہائی اقدامات پر کوئی عملی ردعمل نہ دکھاتے ہوئے ” سہولت کاری” کا ماحول فراہم کیا ہے۔پاکستان حکومت کی کشمیر کاز کے حوالے سے پالیسی یہی بیان کی جاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر اتنا اجاگر کیا جائے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کا نوٹس لینے پر مجبور ہو جائے۔دوسری طرف پاکستان حکومت کی غیر تسلسل ،ناقص اور ناکافی سفارتی کوششیں بھی قطعی طور پر غیر موثر ثابت ہو چکی ہیں۔بجائے اس کے کہ ہندوستان کے جارحانہ اقدام کے جواب میں پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جاتا،الٹا وزیر اعظم عمران خان نے کچھ نہ کرنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے سب کو پابند کیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں کرنا ہے کہ جس سے ہندوستان کو آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی طر سے وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرنے کے پوسٹر لگنے کی اس خبر پر میں نے مقبوضہ کشمیر کے تحریکی حلقوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے لاعلمی اور صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جو پیسے لیتے ہیں ،وہ اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے ایسے کام کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سرکاری پیسے سے” شکریہ عمران خان” کے پوسٹر چھاپ کر مقبوضہ کشمیر میں لگائے جانے کی خبر شائع کراتے ہوئے عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مقبول ظاہر کرنے سے کشمیر کاز یا پاکستان کی کون سے خدمت ہو رہی ہے؟
پاکستان میں عمومی طور پہ مسئلہ کشمیر کو مظلوم کشمیریوں کے مسئلے کے طورپر بیان کیا جاتا ہے، کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دینے کی تکرار تو کی جاتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جاتا جس سے کشمیر کی ہندوستان سے آزادی کو ممکن کرنے کی کوئی کوشش نظر آسکے۔یوں پاکستان حکومت کی طرف سے کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت عملی طورپر ایک تلخ اور بھیانک مذاق بن کر رہ چکی ہے۔پاکستان حکومت کی طرف سے آزادی پسند کشمیریوں کی حمایت محض ایسے مذمتی بیانات میں محدود نظر آتی ہے جو کھوکھلے اور عمل سے عاری ہیں۔ہندوستان کے بھرپور دبائو کی صورتحال میں کشمیروں کی سیاسی اور عسکری مزاحمتی تحریک اب محض علامتی طورپر ہی باقی گئی ہے جبکہ سفارتی سطح پہ کشمیریوں کی کوئی آواز نہیں ہے۔ایک طرف پاکستان حکومت کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیئے جانے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کہ کشمیریوں کی رائے کو حکومت کا پابنداور تابعدار رکھا جائے۔کشمیریوں سے برتائو کی یہ صورتحال افسوناک نہیں بلکہ المناک ہے،جس کے مہلک ترین نتائج پاکستان کے لئے بھی زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔دیکھا جائے تو یہ کھلواڑ کشمیریوں ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کی تقدیر سے بھی کیا جا رہا ہے۔
Avatar

By ajazmir