Thu. Apr 15th, 2021
274 Views

زندگی ہے اپنے قبضے میں،
نہ اپنے بس میں موت……
——————————-
رشحات قلم
سید طاہر نقوی
—————-
ریاست جموں و کشمیر کے اس آزاد حصہ میں سیاست کی نیرنگیوں نے جو منظرنامہ پیش کرنا شروع کیا ہے…… اہل عقل و خرد سے پوشیدہ نہیں. اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس پر ابھی توجہ مبذول کرنے کی ہمیں نہ تو فرصت ہے ، اور نہ ہمارا قومی مزاج.
ان حالات میں تحریک آزادی کشمیر کے وہ کون سے تقاضے ہیں جن کو پورا کیا جانا حکومت اور سیاسی قبیل کی ترجیحات میں شامل ہو گا؟؟؟
ہمیں معلوم نہیں.
گزشتہ ڈیڑھ سال میں ملکی ، سیاسی ، عالمی اور سفارتی سطح پر کیا مفید اقدام لئیے گئے؟ قارئین اس سے بھی باخبر ہیں.
ہم نے ملت اور وطن کے شہداء کی قربانیوں کو فراموش ہی نہیں کیا ، بلکہ ریاستی اور قومی بلند مقاصد کو درخور اعتنا نہیں سمجھا.

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے……
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف….

ریاست کے اس حصہ کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آزادی کے حصول کے دور کی داستانیں سن رسیدہ بزرگوں سے سنا کریں تاکہ ان پر آزادی کی بیکراں جدوجہد اور قربانیوں کا عقدہ کشا ہو سکے.
تاریخ سے ہمیں ویسے بھی دلچسپی نہیں اور کہیں تاریخ “مار آستین” بنا دی گئی ہے.
بھارت کے کشمیر پر جابرانہ تسلط کے خلاف ریاست بھر میں بالعموم اور مظفر آباد میں بالخصوص جب بھی صدائے احتجاج بلند ہوئی تو میر افضال سلہریا غیرت و حمیت کا استعارہ بن کر اگلی صف میں نظر آئے.
گزشتہ دو عشروں سے میر افضال سلہریا کی جدوجہد،
ریاست کی سالمیت ،
تقسیم کشمیر کے خلاف توانا آواز ،
مظفرآباد میں سماجی و سیاسی کردار ،
ماحول اور آبی مسائل سے لیکر بھارتی حکومت اور مودی کے 5- اگست 2019 کے ظالمانہ اقدام پر صدائے حق بلند کرنے کے ساتھ ساتھ موصوف نے ہر مرحلہ پر ایک غیرتمند کشمیری سپوت کا کردار ادا کیا.
ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہر حکومت نے ان غیور جوانان ملت کی ہر سرگرمی کو مشکوک انداز سے دیکھا.
ہر دور کی انتظامیہ نے ان حمیت کے کرداروں پر تشدد کیا
گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں.
جیلیں اور نظربندیاں….
مقدمے اور ضمانتیں…
ذاتی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو ہر لمحہ مشکل بنا دینے والا سلوک…..
دھرتی کو ماں سمجھنے والوں…..
ریاست کی سالمیت کی صدا بلند کرنے والوں…..
اور تقسیم کشمیر کے خلاف حق کی آواز بلند کرنے والوں…
اپنا آج…. ملت کے کل پر قربان کرنے والوں پر ہر دور میں بہیمانہ تشدد کرنے والے کون ہیں ؟؟؟
اور ان ہتھکنڈوں سے ان کے کون سے مقاصد پورے ہوتے ہوں گے؟
یارو……….. زمین پر “طاقت” اپنے راستے پر چلتی ہے……
اور فطرت اپنی راہوں پر گامزن ہوتی ہے.
طاقت دبا دینے کا عمل دھراتی رہتی ہے. اور یہ سمجھتی ہے کہ اب اس قبیل سے کسی دیوانے کا ظہور ممکن نہیں……
لیکن فطرت تخلیق کے عمل کو مہمیز دیتی ہے.
اور طاقتوں کو منہ کی کھانا پڑتی ہے.
اصولوں پر قائم اور کبھی نہ جھکنے والے ہمارے محب وطن دوست میر افضال موت کے پیالے پر جاں ، جان آفریں کے سپرد کر گئے.

میر افضال سلہریا ریاست جموں کشمیر کی سالمیت اور تحریک کا ایک اہم نام تھے۔
ذاتی زندگی میں صابر و شاکر…
قناعت پسند…..
خواہشات اور تعیشات سے کوسوں دور…..
بمشکل ضروریات زندگی کے متحمل…..
مہمان نواز…..
میز سے مجلس اور محفل سے اسٹیج تک دلائل سے بھرپور گفتگو کرنے والے….
دوستوں کے دوست….
اور اجنبیت کے ماحول میں ثانیہ بھر میں یگانگت پیدا کرنے والے…
کشمیر کی تحریک پر بیباک کردار.
سماج میں متحرک اور مخلص.
میر افضال احمد سلہریا………..
صرف کشمیر نیشنل پارٹی کے لئے یہ سانحہ ناقابل تلافی نہیں…….بلکہ غیور اہل کشمیر کے لئے یہ عظیم صدمہ ہے.
راقم نے اس المناک سانحہ کی خبر سنی…..
یقین نہیں آ رہا تھا…..کہ ایک حد درجہ مخلص اور آزادی پسند دوست…………
ایک درمند شخصیت نئے سال کے آغاز پر ہمیں داغ مفارقت دے کر ہمیشہ کے لئے آسودہ خاک ہو جائے گی.
میر افضال احمد سلہریا صاحب.

آپ کی جدوجہد کو ہمارا سلام ہو……
آپ کی تحریکی مساعی کو ہمارا سلام ہو.
آپ کی غیرت و حمیت کو ہمارا سلام ہو.
آپ کی بیباکی اور جرات کو ہمارا سلام ہو.
مظفرآباد…. تخت نے آپ کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا….
ہمیں افسوس ہے….
قانون و انصاف کے در و بام سے شنوائی نہیں ہوئی.
ہمیں اس کا بھی صدمہ ہے.
لیکن کے ایچ خورشید سے لیکر
گل نواز بٹ شہید تک ………..
حق و صداقت کی صداؤں کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوتا رہا…..
ہم محسنوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے کے عادی ہو چکے ہیں.
میر افضال سلہریا ، آزادی کشمیر کا خواب آنکھوں میں سجائے،
اور مساوات و تکریم کے یکساں معاشرے کی تشکیل کی تمنا اپنے دل میں لئے , عالم ناپائیدار سے سفر آخرت پر روانہ ہو چکے.

انا للله و انا اليه راجعون ….0

ان کے دوستوں اور ہمارے دلوں میں یہ ارمان ٹھنڈے نہیں پڑیں گے. ان شاءاللہ.
ہم میر افضال سلہریا صاحب کے خاندان….، عزیز و اقارب….
تنظیمی و تحریکی ساتھیوں…..
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھائیوں…………………….,
مظفرآباد کے جملہ رفقاء…اور احباب سے اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے سلہریا صاحب کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے اللہ رب العزت سے دست بہ دعا ہیں.

زندگی ہے اپنے قبضے میں،
نہ اپنے بس میں موت….
آدمی مجبور ہے اور………
کس قدر مجبور ہے…….!!

تحریر:-
سید طاہر حسین نقوی
جہلم ویلی…….. کشمیر

Avatar

By ajazmir