Thu. Feb 25th, 2021
306 Views

پاک چین اقتصادی راہداری کا متبادل روٹ تعمیر کرنے پر غور,
مظفرآباد خصوصی رپورٹ انصار نقوی
استور شونٹھر ٹنل کے ذریعے مظفرآباد کو شامل کیے جانے کا پی سی ون تیار کرنے کا حکم, سی پیک سے ہنزہ، نگر ،گلگت اور دیامر مائنس,پاکستان سی پیک کے تحت چین کے ساتھ زمینی رابطے کیلئے درہ خنجراب کے ذریعے ایک متبادل روٹ پر غور کر رہا ہے جس سے موجودہ روٹس کی نسبت فاصلہ 350 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق 8 جنوری کو گلگت بلتستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کو سی پیک کے نئے روٹ کیلئے ’کانسیپٹ کلئیرنس پرپوزل‘ کیلئے مسودہ تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو گلگت بلتستان کے اضلاع شگر، سکردو اور استور سے گزر کر آزاد جموں و کشمیر کے ضلع مظفرآباد کو ملائے گا۔

مذکورہ اضلاع میں بھی متعلقہ محکموں کو یرکند (چینی سرحد) سے لے کر براستہ شگرتھنگ (سکردو) گوری کوٹ ضلع استور تک 33 فٹ چوری ایسی سڑک کی تعمیر کا پرپوزل تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس پر سے بآسانی تجارتی ٹرک گزر سکیں۔

گلگت بلتستان کے وزیر میثم کاظم نے اسی حوالے سے جمعہ کو وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید سے ملاقات کی تھی، انہوں نے بتایا کہ سی پیک کا نیا روٹ موجودہ حکومت کا تاریخی کارنامہ ہو گا اور وزیر مواصلات مراد سعید بھی اس پروجیکٹ کی منظوری کے حوالے سے خاصے پُرامید ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ یرکند (Yarkand) سے براستہ شگر، سکردو تک روٹ قدیم دور سے چین اور گلگت بلتستان کے مابین تجارت کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے، اس تاریخی تجارتی روٹ کی بحالی علاقے میں معاشی سرگرمیوں میں انقلاب پیدا کر دے گی۔
واضح رہے کہ چین کا ایک وفد پہلے ہی شگر اور سکردو کے مذکورہ علاقوں کا دورہ کر چکا ہے جس دوران وفد کو مذکورہ تاریخی روٹ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں تھیں۔
حکام کے مطابق اگر یہ تاریخی روٹ بحال ہو جاتا ہے تو پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے موجودہ روٹ کی نسبت فاصلہ ساڑھے تین سو کلومیٹر روٹ کم ہوجائے گا.

Avatar

By ajazmir