Thu. Feb 25th, 2021
952 Views
ہٹیاں بالا میں این ٹی ایس کے امتحانات میں سابق سینئر وزیر صاحبزادہ اسحاق ظفر کی بیٹی نے بطور امیدوار شرکت کرکے امتحان میں ہونے والی بے ضابطگی کا پردہ چاک کر دیا
تحریر:فرخندہ اسحاق ظفر
                 جس معاشرے میں بدیانت لوگوں کی تعداد زیادہ ہو وہاں کبھی بھی آپ اچھائی کی توقع نہیں کر سکتے اب کی باراین ٹی ایس کےہونے والے امتحان میں عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کرنا پڑانگران صاحب نے امیدواروں کو کھلی چھٹی دے ر کھی تھی جس کی وجہ سے کمرہ  امتحان مچھلی بازار بنا ہوا تھا۔شور شرابے میں بڑی مشکل سے پچاس فی صد پیپر حل کیا تو موصوف نے شور مچانا شروع کر دیا کہ آپ کے پاس صرف پندرہ منٹ رہ گے ہیں گھبراہٹ میں دس سے پندرہ ایم سی کیو ایس حل کئے بعدازاں پتا چلا ابھی تو پورا ایک گھنٹہ باقی ہےمیرے ساتھ دو سے تین لوگ خاموشی سے پیپر حل کر رہے تھے جبکہ دیگر امیدواران  کا یہ حال تھا کہ لگ رہا تھا وہ پیپر دینے نہیں بلکے سمجھنے آئے ہیں۔دل تو کر رہا تھا پیپر  پھاڑ کر چلی جاؤں لیکن پھر سوچا نقصان تو اپنا ہی ہو گا۔ پہلے این ٹی ایس کا تجربہ اس سے قدرے مختلف تھا۔بہت سے پڑھے، لکھے اور اہل لوگوں کو ان کا حق بغیر کسی سفارش کےملا ۔لیکن تب بھی قسمت نے ساتھ نہ دیا میرٹ پر آنے کے باوجود پوسٹ نہ ہونے کی وجہ سے میری  جونیئر ٹیچر کے طور پر تقرری نہ ہو سکی۔ حالانکہ میں تیرہ سال سےبطورپرائمری ٹیچر کے  شعبہ تدریس سے منسلک ہوں جبکہ میری تعلیم ایم۔ اے، ایم ایڈ اور ایل ایل بی ہے۔ اپنے حق کے لئے میں نے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ کرونا کی وجہ ایک سال این ٹی ایس تعطل کا شکار رہا اسی دوران  گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بنی حافظ سکول میں ہی جونیئر  جنرل لائن  کی پوسٹ  خالی ہو گئی۔ تب ہیڈ مسٹریس محترمہ رقیہ نقوی نےمجھے سے کہا آپ اس پوسٹ کی حقدار ہیں اسکے لئے کوشش کریں۔ میں نے وزیراعظم اور ایجوکیشن منسٹر سے منظور شدہ درخواستیں سیکرٹریٹ میں جمع کروائی۔ جب مجھے  فائل واپس ملی تو اس سے وزیراعظم کی دستخط شدہ درخواست ہی غائب تھی۔ پوچھنے پہ پتا چلا کسی کلرک صاحب کی کارستانی ہے ۔ مجھے انصاف نہیں  چاہئے مگر میں چاہتی ہوں جس نے سکریٹریٹ سے میری درخواست غائب کی اسے سزا ضرور ملے۔تاکہ اسے آئندہ کسی کی بھی  فائل چوری کرنے کی جرات نہ ہو۔ بلا شہبہ این ٹی ایس کے نافذ ہونے سے محکمہ  تعلیم میں انقلاب آیا ہے ۔اس سے پہلے نہ تو اشتہارکا پتا چلتا تھا اور نہ ہی ٹیسٹ اور تقرری کا۔این ٹی ایس کے طریقہ امتحان پر عوام کو مکمل  اعتماد تھا لیکن افسوس اس مرتبہ ہم میں موجود کچھ کالی بھیڑوں نے اسکو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کیونکہ این ٹی ایس کے ٹیسٹ میں زیادہ تر لوکل اہلکار ہی نقل کروانے کے موجب بنے۔جہاں انصاف کی توقع ہو اس کے باوجود انصاف نہ ملےاس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو گا۔جب تک ہمارے  لوگ دیانتداری کا مظاہرہ نہیں کرتے،کلرک راج کا خاتمہ نہیں ہوتا انصاف کی توقع ہرگز نہ رکھیں ۔
Avatar

By ajazmir