Thu. Feb 25th, 2021
495 Views

فاروق سکندرکو استعفٰی دے دینا چاہیے تھا، بے دید”فاروق حیدر کو پہچاننے میں غلطی ہوئی،سکندر حیات
اسلام آباد
سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر، سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان نے کہا ہے”بے دید”فاروق حیدر کو پہچاننے میں مجھ سے غلطی ہوئی، فاروق سکندر کو ایسی حکومت سے بہت پہلے استعفی دے دینا چاہیے تھا سردار عبدالقیوم خان نے کہا تھا کہ میرا بیٹا عتیق، کنول صاحب کا بیٹا زاہد امین اور راجہ حیدر خان کا بیٹا فاروق حیدر اعتبار کے قابل نہیں۔ فاروق حیدر کہتے ہیں میں نے کوٹلی میں بہت کام کروائے، اللہ جانے فاروق حیدر نے کوٹلی میں کونسے کام کروائے؟ اہل کوٹلی کو تو کوئی کام نظر نہیں آتا۔ میرے بیٹے کے کچھ دوست چاہتے تھے کہ فاروق سکندر کوٹلی سے الیکشن لڑے، میں نے ایک دن یہ کہتے ہوئے سختی کی کہ فاروق اپنے باپ دادا کی سیٹ چھوڑ کر کوٹلی سے الیکشن کیوں لڑے، آپ ہم سے کونسا انتقام لینا چاہتے ہو؟ اس کے بعد وہ نظر نہیں آئے، شاید ناراض ہو گئے ہیں۔ فاروق حیدر بلدیاتی الیکشن کروا دیتے تو بہت سے کارکنان ایڈجسٹ ہو جاتے، سنا ہے حنیف ملک نے عہدے سے”قرنطینہ” کر لیا اور استعفی کی صورت الگ تھلگ ہونے کی عرضی قبول بھی کر لی گئی۔ آمدہ الیکشن بہت مشکل ہونگے، آج کے دور میں پیسے والے اپنی پہچان بنانے کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اچھے نہیں ہیں، اللہ پاک پیارے پاکستان پر خصوصی رحم فرمائے۔ سالار جمہوریت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی حالات پر پریشانی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرف نظر دوڑائی جائے سب مایوس کن دکھائی دیتا ہے، پاکستان ہماری امیدوں کا محور و مرکز ہے مگر ملک کے حالات بہت خراب ہیں ہم دعا گو ہیں اللہ پاک پیارے پاکستان پر خصوصی کرم فرمائے۔ سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں لوکل باڈیز سسٹم بحال نہ ہونے کے سبب قیادت کا فقدان ہے، حالات یہ ہیں کہ ہمارے پاس پرانے سیاست دانوں کا کوئی متبادل ہی نہیں اور لوگ آزمائے ہوئے لوگوں کو پھر سے آزمانے پر مجبور ہیں۔ فاروق حیدر اپنے وعدے کے مطابق بلدیاتی الیکشن کروا دیتے تو اس کے دو بڑے فائدے ہوتے پہلا یہ عوام کو نئی قیادت میسر آ جاتی اور دوسرا لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد ایڈجسٹ ہو جاتی مگر افسوس ایسا ہو نہیں پایا اور یہ کام اس وقت تک ممکن بھی نہیں جب تک ممبران اسمبلی اپنی حیثیت و اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، آج کے دور کے ممبران اسمبلی کونسلروں کے برابر ہیں کیونکہ ان کی سیاست ٹوٹی، کھمبے، نالیوں اور پائپوں کے گرد گھومتی ہے جو کہ کونسلر کا کام ہے۔ ظاہر سی بات ہے ممبران اسمبلی اگر بلدیاتی الیکشن کروا دیں پھر تو یہ لوگ فارغ ہی ہو جائیں گے اور یہی ڈر ان لوگوں کو اس اہم کام سے روکے ہوئے ہے ۔ سردار سکندر حیات کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں پیسے والے لوگ سیاست میں آ رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ پیسہ پانی کی طرح بہا کر اپنی پہچان بنائی جائے، یہ طرز عمل معاشرے اور ملک کے لیے زہر قاتل ہے۔ سالار جمہوریت نے کہا کہ فاروق حیدر کا گزشتہ روز بیان پڑھا تو حیرانی ہوئی، وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ میں نے کوٹلی میں سب سے زیادہ کام کروائے۔ سمجھ نہیں آتی فاروق حیدر کوٹلی میں کہاں کام کرواتے رہے ہیں؟ میں تو جس سے بھی پوچھتا ہوں حکومتی کاموں کے حوالے سے مایوسی ہی بیان کرتا ہے۔ کوٹلی کا سٹیڈیم مکمل نہیں ہو سکا، گریٹر واٹر سپلائی سکیم سے لوگ تاحال مستفید نہ ہو سکے، کوٹلی سے میرپور کا سفر کم کرنے والا رٹھوعہ ہریام پل بھی تکمیل کا منتظر ہے، ہسپتال کی ایکسٹینشن بھی نظر نہیں آتی، تتہ پانی کو چار بار تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان تاحال صرف اعلان ہی ہے اور کوٹلی شہر کی سڑکیں تو اجڑے دیار کی تصویر کشی کر رہی ہیں۔اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکی تو پتا نہیں کون سے کام کروائے ہیں؟۔ سالار جمہوریت نے کہا کہ میں نے مظفرآباد سٹیڈیم میں کام شروع کروایا اور اپنی وزارت عظمی کے دوران مکمل کر کے میچ کروا کے ہی سکھ کا سانس لیا، فاروق حیدر صرف یہ ہی بتا دیں کہ آپ کے دور میں کوٹلی کا سپورٹس سٹیڈیم آپ سے کیوں مکمل نہیں ہو سکا؟۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ غلطی میری ہے جو فاروق حیدر جیسے” بے دید” شخص کو پہچان نہیں پایا حالانکہ سردار عبدالقیوم خان نے بہت عرصہ پہلے ہی مجھے بتا دیا تھا کہ میرا بیٹا عتیق خان، کنول صاحب کا بیٹا زاہد امین کاشف اور راجہ حیدر کا بیٹا فاروق حیدر اعتبار کے قابل نہیں ۔۔۔۔

Avatar

By ajazmir