Mon. Jan 18th, 2021
235 Views

محمد مطلوب انقلابی ۔۔ایک نفیس شخصیت.
شیریں مزاج رہنما-
—————————————
تحریر :-
سید طاہر حسین نقوی
—————————-

سابق وزیر تعلیم / کالجز حکومت آزاد ریاست کشمیر ، پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی،
سیکرٹری اطلاعات ……
و موجودہ نائب صدر چودھری محمد مطلوب انقلابی کا انتقال ریاست کے غالب طبقات کے لئے دکھ اور ملال کا باعث ہے.
سیاسی جماعت تو مرحوم کی پیپلز پارٹی تھی. .جس کیلئے انقلابی صاحب کی وفات ناقابل تلافی نقصان ہے..
لیکن ریاست کے اس حصہ میں انقلابی صاحب کی شخصیت,حسن اخلاق اور مرحوم کے انداز سیاست کی وجہ سے جملہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور قیادتوں کے لئے یادگار رہے گا.
مرحوم انقلابی. صاحب کی وفات سے یہ خطہ درست طور پر کہنہ مشق سیاستدان…………..
فکری ارتقاء کے راہرو……………….
سیاسی بساط کے اہم کھلاڑی…..،
نظریاتی سیاست کے علمبردار….
اور عوامی مزاج کے بہترین سیاستداں سے محروم ہوا ہے.
جناب انقلابی صاحب کی سیاست کے میدان میں آمد کسی حادثہ کا باعث ہر گز نہیں تھی. بلکہ زمانہ طالب علمی،
ہی سے مستقبل میں عوامی خدمت کا رجحان رکھتے تھے.
میٹرک میں تھے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید کی کرشماتی شخصیت کا احساس دامن گیر ہو چکا تھا.
انٹرمیڈیٹ میں باقاعدہ طور پر پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت کا فیصلہ کیا. اور گریجویشن میں اپنی خداداد صلاحیتوں سے طلبہ قیادت حاصل کر لی.
لیکن آزاد کشمیر میں پی وائی او/پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کی آبیاری….. تحرک…… نشو و نما…
اور مقبول و مضبوط نوجوانان کی قوت بنانے میں جو قائدانہ کردار, محنت اور جدوجہد انقلابی صاحب نے کی, وہ بے مثال ہے.
آج پی وائی او کی عمارت جو بلند ہے, اس کی بنیادیں انقلابی صاحب کی صیقل کردہ ہیں.
انقلابی صاحب ایک بہادر کارکن,
وفا شعار جیالے……………………….
جدید فکر کے سیاستدان………….
افکار ذوالفقار کے امین……………..
طلباء کے لئے مثال……………………
یوتھ کی اہدافی شخصیت…….
اور سیاسی کارکنان کے لئے روشن کردار تھے.
صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ مرحوم محمد مطلوب انقلابی صاحب کی بیحد انسیت…………………………………………
حد درجہ احترام…………………………..
لازوال عقیدت………………………………
سیاسی انداز و اطوار میں اقتدا……..
اور عوامی مزاج سے اکتساب کیا کرتے.
ان امورات میں ہم عینی شاہد ہیں.
اے آر ڈی کے ایک، کل جماعتی اجتماع منعقدہ مظفرآباد میں، صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب مرحوم و مغفور کی دعوت و شفقت پر، راقم نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا, پاکستان کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے مرکذی و صوبائی مختلف جماعتوں کی قیادتیں اجتماع میں آرائشی دروازوں سے یکے بعد دیگرے داخل ہو رہی تھیں, مظفرآباد چونکہ “میزبان ” بھی تھا. راقم مہمانان گرامی کو تہنیت اور استقبالی کلمات کے ساتھ تعارف کرواتے ہوئے “خوش آمدید ” کہہ رہا تھا.
آزاد کشمیر کے معمر ترین سابق سینئر پارلیمنٹیرین جناب لعل محمد بانیاں صاحب اور چودہری محمد مطلوب انقلابی صاحب محرابی دروازہ سے داخل ہوئے تو راقم نے ہر دو شخصیات کو عزت و احترام اور محبت سے مرحبا کہا.
جناب لال محمد بانیاں صاحب سے تعارف , تعلق اور محبت کی وابستگی پہلے سے تھی. جو ان کے فرزند ارجمند جناب محمد فاروق بانیاں صاحب کے ساتھ, اقوام متحدہ کے ادارہ یو این ڈی پی میں ہماری اور ان کی خدمات کے سبب تھی.
راقم نے مطلوب انقلابی صاحب کے استقبال کیلئے ” جناب سردار محمد مطلوب انقلابی صاحب ” کے الفاظ استعمال کئے. تو دونوں صاحبان مسکرائے اور ہنسے. اور نشستوں پر براجمان ہوتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسے.
کچھ وقت کے بعد موقع ملنے پر راقم جب ان سے ملا تو محترم بانیاں صاحب نے شکریہ ادا کیا. شفقت فرماتے ہوئے بولے کہ انقلابی صاحب “سردار” نہ لکھتے ہیں….. نہ کہلواتے ہیں….
یوں انقلابی صاحب کو ہم نے تب “سردار ” بنا دیا اور خلوص و محبت پر مشتمل تعلق کی عمارت کی پہلی اینٹ رکھ دی.
ازاں بعد اپنے دوستوں چودہری غلام عباس پوڑ صاحب اور مرحوم دوست سینئر پروفیشنل فاروق بانیاں صاحب کے ساتھ اسلام آباد میں مطلوب انقلابی صاحب سے متعدد ملاقاتیں رہیں. جن کو صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب مرحوم و مغفور کی شفقت و معیت میں مزید جلا ملی.
2009 اور 2010 میں مجھے انقلابی صاحب کے ساتھ مختلف امور پر ملاقات اور فون کے ذریعے متعدد مرتبہ بات چیت کا موقع ملا.
2012 میں راقم صوبہ سندھ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی متاثرین سیلاب…….. UN-HABITAT کا کوآرڈینیٹر تھا, راقم کو انقلابی صاحب کی , محترمہ بینظیر بھٹو شہیدہ کی لاڑکانہ گڑھی خدا بخش میں برسی کے موقع پر میزبانی کے خوبصورت لمحات میسر آئے.
انقلابی صاحب بہت باصلاحیت,
متحرک کردار کی حامل ایک فعال اور عوامی شخصیت کی شہرت کے حامل سیاستدان تھے.
پاکستان پیپلزپارٹی نے میدان سیاست میں بڑے پیمانے پر متحرک, قابل و باصلاحیت شخصیات کو روشناس کرایا. جن میں پیپلزپارٹی کے صحیح معنوں میں قائدین کے اثاثہ میں مرحوم چودہری محمد مطلوب انقلابی جمہوریت کی فکر پر گامزن, کارکنوں کی پسندیدہ شخصیت , عزت کرنے والے, خوش اخلاق, شعلہ بیاں مقرر اور بالغ نظر رہنما تھے.
مسئلہ کشمیر پر پیپلز پارٹی کے اساسی موقف “رائے شماری” پر ان کا بیانیہ دوٹوک ہوا کرتا تھا.
سیاست میں جہاں صبح…. شام تبدیلیوں کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں…… مطلوب انقلابی صاحب مستقل مزاج……….. نظریاتی رہنما………………………
رواداری کی علامت…………….. ،
سیاسی میدان کے وضع دار……
حسن اخلاق میں معروف………,
اور ہمہ جہت شخصیت کا نام و مقام رکھتے تھے.
صیحیح العقیدہ مسلمان, شعائر اسلام کی پابندی اور مساوات کے اصولوں پر کاربند رہتے.
کشمیر کونسل کے دو مرتبہ کے ممبر اور وزیراعظم پاکستان کے مشیر کی خدمات و مناصب کے بعد براہ راست آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے.
وزارت تعلیم کالجز کا قلمدان سنبھالا. تعلیمی پیکج دیا.
متعدد اداروں کی ترقی و خوشحالی کیلئے بجٹ میں اضافے کا رکا ہوا سلسلہ شروع کیا.
گزشتہ برس, سابق صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر, جناب صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب مرحوم و مغفور کی برسی کے موقع پر مطلوب انقلابی صاحب کی آمد باد صبا کا خوش گوار جھونکا تھا.
ان کا تعمیری خطاب کارکنوں کیلئے نہایت حوصلہ افزا تھا.
راقم الحروف کی گفتگو کو انقلابی صاحب نے سراہا اور تہنیتی الفاظ کا تحفہ دیا.
تصاویر بنائی گئیں.
معلوم نہیں تھا کہ یہ آخری پروگرام ان کی معیت میں ہو گا.
سیاست کے کارزار میں صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب رحمہ کے رخصت ہونے کے بعد محترم محمد مطلوب انقلابی صاحب کی وفات کو ہم المناک سانحہ سمجھتے ہیں.
ان کی وفات سے ریاست آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے.
جس کا جلد پورا ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہے. لیکن اللہ تعالیٰ قادر و کریم اور علیم و خبیر ہے.
راقم , مطلوب انقلابی صاحب کی وفات پر تعزیت نامہ لکھتے ہوئے ان سطور تک پہنچا تھا تو اطلاع ملی کہ انقلابی صاحب. کے پبلک ریلیشنز آفیسر توصیف احمد جرال بھی اپنے قائد کا سانحہ برداشت نہ کر سکے اور حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کر گئے.
انا للہ وانا الیہ راجعون.
میں تحریر ختم کر رہا تھا تو سیکرٹری حکومت آزاد کشمیر جناب گرامی امتیاز صاحب کی دیوار پر رات کے تیسرے پہر خبر دیکھی کہ ایک اور ساتھی جناب ناصر اورنگزیب صاحب دماغ کے فوری حملہ کے باعث انتقال کر گئے. وجہ انقلابی صاحب کی موت کا صدمہ برداشت نہ ہونا دیگر ذرائع سے بھی بیان کیا جا رہا ہے.
محترم صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر صاحب مرحوم و مغفور کے سفر آخرت کے مناظر ایک بار پھر یادداشتوں میں ابھرے کہ صاحبزادہ صاحب کی وفات کا سانحہ نہ برداشت کر سکنے کے سبب ہمارے پیارے صاحبزادہ خورشید انور صاحب بھی حرکت قلب بند ہونے کے باعث عالم بقا کی جانب رخصت ہو گئے تھے.
پروردگار عالم سے التجا ہے کہ وہ مطلوب انقلابی صاحب,
توصیف احمد جرال صاحب…
ناصر اورنگزیب صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائے ،
انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے.
جملہ اہل عشیر, خاندان, رفقاء و احباب اور کارکنان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور استطاعت نصیب فرمائے.
مختلف نشستوں میں انقلابی صاحب سے ہونے والی ملاقاتیں رہ رہ کر یاد آتی رہیں گی.
بقول تابش صاحب…..

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں…………………
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں……………………..

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس……………
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں…………………………

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ………………
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں…………………..

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن…………………………..
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں……………………………..

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ……………………
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں………………………!!
تحریر :-
سید طاہر حسین نقوی
جہلم ویلی………کشمیر

Avatar

By ajazmir